سوشل میڈیا کا صحیح استعمال

سوشل میڈیا کا صحیح استعمال
عنوان: سوشل میڈیا کا صحیح استعمال
تحریر: محمد عبدالواجد عطاری
پیش کش: (متعلم جامعۃ المدینہ ، آگرہ)

محترم! ہم جس دور میں جی رہے ہیں یہ سوشل میڈیا (Social media) کا دور ہے، جہاں گھنٹوں کے کام منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ کوسوں میل دور شخص سے بات کرنا چاہتے بلکہ اسکو دیکھنا بھی چاہتے ہیں تو بس آپ کے ایک کلک (Click) کی دیر ہے۔ لیکن یہ بات مسلم ہے کہ سوشل میڈیا کی ایجاد نے جہاں انسان کو بہت سارے فائدے فراہم کیے ہیں وہیں ناقابل تلافی نقصانات سے بھی دوچار کردیا ہے، لیکن یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ ان کے صحیح و غلط استعمال میں قصور سوشل میڈیا، موبائل فونز (Mobile Phones) و دیگر ڈیجیٹل سروسز کا نہیں بلکہ ان کے صحیح و غلط استعمال کرنے والے کا ہے کیونکہ یہ تو صرف آلہ (Device) ہیں، فی نفسہ نہ تو اچھے ہیں اور نہ ہی برے۔ آج کروڑوں کی تعداد میں لوگ ضرورت کے تحت سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں اور بہت سے لوگ محض فیشنز، ویڈیو گیمز اور فضولیات وغیرہ کے تحت استعمال میں لاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا استعمال شرعی حدود اور میانہ روی کے ساتھ کیا جائے تو اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن جب یہی مقصد زندگی اور اوڑھنا بچھونا بن جائے تو یہ مضر ثابت ہوتا ہے، بسا اوقات اس کے نقصانات انسان کی دنیا و آخرت دونوں کیلے اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہٰذا عصر حاضر میں سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا وقت کی نہایت ہی اہم ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا کے فوائد:

سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں اگر اس کا درست استعمال کیا جائے، ان فوائد میں سے چند یہاں مذکور ہیں:

تعلیم و تعلم کا بہترین ذریعہ:

فی زمانہ! سوشل میڈیا کے ذریعے مختصر عرصے میں دین و دنیا کے بیشمار علوم و فنون تک رسائی نہایت ہی آسان ہوگئی ہے، مثلاً:

  • آئی ٹی (IT) اور کمپیوٹر سائنس (Computer science)
  • ڈیجیٹل مارکیٹنگ (Digital Marketing)
  • گرافکس ڈیزائننگ و دیگر ایڈیٹنگ کورسز
  • مختلف زبانوں کا علم مختلف سوشل پلیٹ فارمز سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مزید برآں کہ جہاں دنیوی تعلیمات آن لائن سوشل پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں، وہیں دینی تعلیمات کے کورسز و دیگر اسلامک ڈیجیٹل کلاسز بھی دستیاب ہیں، مثلاً:

  • درس نظامی (Alim Course)
  • فرض علوم کورس
  • تحفظ عقائد کورس
  • صرفی نحوی کورس
  • عربی اسپیکنگ کورس
  • فقہ کورس
  • حج و عمرہ اور نکاح کورس

اور بھی بہت ساری دینی و شرعی معلومات سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

کتابوں تک باآسانی رسائی:

سوشل میڈیا کے ذریعے ہر چھوٹی بڑی کتابوں تک پہنچنا اور ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے: کیونکہ بعض کتب منظر عام پر نہیں ہوتی، یا ایک سے دو دفعہ طباعت کے بعد نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں، یعنی اسکی اشاعت کا کام رک جاتا ہے لیکن ان کے نسخے پی ڈی ایف کی صورت میں نیٹ پر موجود ہوتے ہیں جن تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔ مزید یہ کہ بہت ساری کتب منظر عام پر تو ہوتی ہیں لیکن کسی خاص جگہ، خاص ملک یا خاص ایڈیشن تک محدود ہوتی ہیں لیکن سوشل میڈیا کے سہارے ان تک بھی آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے۔

علمائے اہلسنت کی مصنَّفات سے استفادہ کا بہترین موقع:

علمائے کرام کثرھم اللہ تعالیٰ کی عظیم محنت و مشقت اور شوق و لگن کا ثمرہ انکی تصنیفات سے گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے مستفیض ہوا جاسکتا ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ بات گردش کررہی ہو کہ: علماء تو زیادہ تر عربی یا اردو زبان میں تصنیفی کام انجام دیتے ہیں لیکن "جناب مجھے تو عربی یا اردو تو آتی نہیں تو میں کیسے انکی تصنیفات سے استفادہ کروں؟"

میں ان سے یہی کہوں گا کہ: مبارک ہو جناب آپ ڈیجیٹل زمانے میں جی رہے ہیں۔ اب تو الحمد للہ عربی، اردو، انگلش، ہندی، سندھی، گجراتی، پنجابی، اور میمنی جیسی کئی زبانوں میں علمائے کرام کی کتابیں دستیاب ہیں، لیکن اسکے لئے ہمارے اندر کا شوق و ذوق کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

دارالافتاء اہلسنت سے ماخوذ ایک سوال کا جواب
(فتویٰ نمبر : WAT - 4127)

سوال: کیا شرعی مسائل کے حل کے لیے ChatGPT ایپ کا استعمال کرنا صحیح ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

قرآن و حدیث کی تفہیم و تشریح، دینی احکام اور شرعی مسائل کے حل کے لیے مستند علمائے کرام و مفتیان کرام سے رجوع کرنا ہی ضروری ہے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور دیگر مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام پراعتماد کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ یہ غیر معتبر ذرائع ہیں۔ اور ان کے غیر معتبر ہونے کا خود ان کو بھی اعتراف ہے، اسی لیے ChatGPT اور دیگر AI پلیٹ فارمز خود یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم شرعی فتویٰ دینے کے اہل نہیں، ہمارے جوابات حتمی یا معتبر دینی حکم کے طور پر نہ لیے جائیں۔ حتمی فیصلہ اور فتوی کے لیے ماہر مفتی صاحب سے رابطہ کریں۔

نیز تجربات اور مشاہدات سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور اس جیسے دیگر اے آئی ماڈلز میں ہر طرح کا مواد (رطب و یابس) ایک ہی پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا ہے، جہاں حق و باطل، صحیح و غلط، معتبر و غیر معتبر کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ ان کے ڈیٹا میں گمراہ فرقوں مثلاً قادیانی، جبریہ، قدریہ اور باطنیہ وغیرہ اور اسلام دشمن قوتوں (یہود و نصاریٰ، ملحدین وغیرہ) کا تیار کردہ مواد بھی شامل ہے، جو اپنی باطل اور مسموم تفاسیر و تاویلات کو علمی لبادہ پہنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلاتے ہیں۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ جب کوئی شخص ان ایپس سے قرآن کریم کی تفسیر یا حدیثِ مبارکہ کی شرح وغیرہ پوچھے تو یہ ان گمراہوں کی غلط اور تحریف شدہ آرا کو اصل تفسیر وغیرہ کے طور پر پیش کر دیں، اور یوں سادہ لوح افراد گمراہی وغیرہ کے گڑھے میں جا گریں۔

نیز شرعی مسائل کے صحیح حل کا انحصار مسئلے کی مکمل نوعیت و تفصیل، حالاتِ حاضرہ، زمان و مکان، فقہی مسالک (حنفی، شافعی، حنبلی، مالکی) کے فرق اور معتبر دینی ماخذ سے رجوع پر ہوتا ہے، جو ایک مستند عالم دین یا مفتی ہی کرسکتا ہے، جبکہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر AI ایپس صرف پہلے سے موجود ڈیٹا پر مبنی جوابات دے سکتے ہیں، شرعی مسائل کی گہرائی، تفصیلات، اور معتبر دینی حوالے سمیت تمام پہلو سمجھ کر شرعی مسائل کا حل دینے سے قاصر ہیں۔ لہذا شرعی مسائل کے حل کے لیے چیٹ جی پی ٹی یا اس جیسے دیگر اے آئی پلیٹ فارمز پر اعتماد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ دین سیکھنا انتہائی نازک معاملہ ہے، اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ علم، دین ہے، غور سے دیکھو تم کس سے حاصل کر رہے ہو؟

قرآن پاک میں ہے:

فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ [سورۃ النحل: ۴۳]

ترجمہ کنز العرفان: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔

صراط الجنان میں ہے: ”اس آیت کے الفاظ کے عموم سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس مسئلے کا علم نہ ہو اس کے بارے میں علماء کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔“ [صراط الجنان، جلد ۵، صفحہ ۳۲۰]

صحیح مسلم میں امام محمد ابن سیرین علیہ الرحمہ کا فرمان ہے:

إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ

یعنی: بے شک یہ علم تمہارا دین ہے، تو غور سے دیکھو تم کس سے اپنا دین حاصل کررہے ہو۔ [صحیح مسلم، جلد ۱، صفحہ ۱۴]

حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان اس کے تحت فرماتے ہیں: ”علم شریعت علم دین جب بنے گا جب سکھانے والا استاد عالم دین ہوگا، بے دین عالم سے حاصل کیا ہوا علم بے دینی ہی دے گا، آج لوگ بے دینوں سے تفسیر و حدیث پڑھ کر بے دین ہورہے ہیں، فرمان کے ساتھ فیضان ضروری ہے۔“ [مرآۃ المناجیح، جلد ۱، صفحہ ۲۲۸]

سنن ابی داؤد میں ہے:

مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ

یعنی: حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔ [سنن ابی داؤد، جلد ۳، صفحہ ۳۲۱، حدیث: ۳۶۵۷]

حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جو شخص علماء کو چھوڑ کر جاہلوں سے مسئلہ پوچھے اور وہ غلط مسئلہ بتائیں تو (بتانے والا تو گنہگار ہے ہی) پوچھنے والا بھی گناہ گار ہوگا کہ یہ عالِم کو چھوڑ کر اس کے پاس کیوں گیا، نہ یہ پوچھتا نہ وہ غلط بتاتا۔۔۔ دوسرے یہ کہ جس شخص کو غلط فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔۔۔ خلاصہ یہ ہے کہ بے علم کو مسئلۂ شرعی بیان کرنا سخت جرم ہے۔“ [مرآۃ المناجیح، جلد ۱، صفحہ ۲۱۲]

علماء حق کے بیانات تک رسائی:

سوشل میڈیا کے ذریعے علمائے اہلسنت کے سیکڑوں اصلاحی و فکری بیانات سے مستفید و مستفیض ہوا جاسکتا ہے۔

توجہ: سوشل میڈیا پر علمائے اہلسنت کے علاوہ دیگر بد عقیدوں، بد مذہبوں اور گمراہوں کو سننے سے ایمان کے ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اس لیے دین سیکھنا ہو، یا فقط کسی ایک مسئلے پر معرفت حاصل کرنی ہو، یا کوئی ذہنی خلجان یا وساوس دور کرنا ہو صرف اور صرف سنی علماء ہی سے ان کا حل تلاش کریں اور انکی راہنمائی پر عمل پیرا ہوں۔ ہر دینی باتیں کرنے والوں کا عقیدہ درست ہو ضروری نہیں۔ نیز دین کا علم اور قرآن و حدیث کا فہم، فقط ان لوگوں سے لینا چاہیے جو علم و عمل اور عقیدے کے اعتبار سے قابل اعتماد ہوں۔

کاروبار کی تشہیر:

سوشل میڈیا تشہیر تجارت کا بہترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے تاجران حضرات کو تجارت میں سہولت فراہم ہوتی ہے، اور خریداروں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔

سماجی کاموں میں باآسانی شرکت:

نیز یہ کہ اگر سوشل میڈیا کا استعمال خیر نیت سے ہو تو اس کے ذریعے گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے فلاحی، سماجی، خیرخواہی اور بھلائی کے مہتم بالشان کاموں میں اپنا مالی تعاون فراہم کیا جاسکتا ہے۔

تبلیغ دین کا بہترین ذریعہ:

سوشل میڈیا کے ذریعے قلیل عرصے میں سیکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنی دینی تحریر و تصانیف و تالیفات و دیگر اسلامی پیغامات سے فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

معزز قارئین کرام! یہ تو محض سوشل میڈیا کے درست استعمال کی جھلک ہے، سوشل میڈیا اس کے علاوہ کثیر فوائد کا حامل ہے لیکن ہر ایک کا تذکرہ ممکن نہیں۔ لہٰذا میں بارگاہ ربوبیت میں دعاگو ہوں کہ ہمیں سوشل میڈیا کے فتنوں سے محفوظ فرمائے، ہمیں عقائد اہلسنت پر قائم و دائم رکھے۔ آمین بجاہ سید الامین ﷺ۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!