مجدد الف ثانی: تجدید امت کا درخشاں باب

مجدد الف ثانی: تجدید امت کا درخشاں باب
عنوان: مجدد الف ثانی: تجدید امت کا درخشاں باب
تحریر: سرفراز احمد قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو

اللہ تعالیٰ ہر دور میں ایسے بندگان خاص کو مبعوث فرماتا ہے جو امت مسلمہ کے عقائد، اعمال اور دینی شعور کی تجدید کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ جب دین میں بدعات، گمراہیاں اور فتنوں کا غلبہ ہونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے رجال پیدا فرماتا ہے جو کتاب و سنت کی روشنی میں امت کی اصلاح کرتے ہیں۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:

"بیشک اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر سو سال کے آغاز پر ایسے شخص کو بھیجتا ہے جو اس کے دین کی تجدید کرے۔" [سنن ابوداؤد]

دسویں اور گیارہویں صدی ہجری کا دور برصغیر کی تاریخ کا نہایت نازک زمانہ تھا۔ ایک طرف اکبر کے دین الہی اور مذہبی اختلاط کی یلغار تھی، دوسری طرف مسلمانوں کے عقائد و اعمال میں انحراف پیدا ہو رہا تھا۔ ایسے پرفتن دور میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی عظیم المرتبت شخصیت کو مبعوث فرمایا جس نے اپنے علم، عمل، استقامت، دعوت اور اصلاح کے ذریعے امت مسلمہ کو نئی زندگی عطا کی۔ یہی وہ ہستی ہے جو تاریخ میں امام ربانی، المجدد المنور الف ثانی، قیوم ملت، خزینۃ الرحمۃ، محدث رحمانی، غوث صمدانی، ابو البرکات شیخ بدر الدین احمد فاروقی نقشبندی سرہندی کے نام سے معروف ہے۔

آپ کی تجدیدی خدمات کا اعتراف صرف اہل تصوف ہی نہیں بلکہ محدثین، فقہا، مورخین اور مفکرین نے بھی کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ کا وجود نہ ہوتا تو برصغیر میں اسلامی تشخص کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے۔

ولادت باسعادت اور نسب:

قطب المجد دین، غوث الکاملین، غیاث العارفین، امام ربانی سیدنا مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ کی ولادت 14 شوال 971ھ کو دار العرفان سرہند شریف میں ہوئی۔ [زبدۃ المقامات]

آپ کا شجرہ نسب اکتیس واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، اسی نسبت سے آپ "فاروقی" کہلاتے ہیں۔ [مقامات خیر]

آپ کے والد گرامی حضرت شیخ عبدالاحد علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم، کامل صوفی اور صاحب ولایت بزرگ تھے۔ انہیں سلسلہ قادریہ اور چشتیہ میں خلافت حاصل تھی۔ انہی کی آغوش تربیت میں امام ربانی نے ابتدائی علمی و روحانی تعلیم حاصل کی۔ [زبدۃ المقامات]

تعلیم و تربیت:

حضرت مجدد الف ثانی نے ابتدائی علوم اپنے والد ماجد سے حاصل کیے، پھر حضرت مولانا کمال کشمیری، حضرت مولانا یعقوب کشمیری اور قاضی بہلول بدخشی علیہم الرحمہ جیسے جلیل القدر اساتذہ سے اکتساب فیض کیا۔ [جواہر مجددیہ]

آپ کم عمری ہی میں علوم عقلیہ و نقلیہ میں ممتاز مقام حاصل کرچکے تھے۔ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، علم کلام، منطق اور فلسفہ سمیت متعدد علوم پر آپ کو کامل دسترس حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر علما بھی آپ کے علم و فضل کے معترف تھے۔

999ھ میں آپ آگرہ تشریف لے گئے جہاں دربار اکبری کے معروف علما شیخ ابوالفضل اور شیخ فیضی سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اگرچہ وہ اپنے مخصوص افکار کے حامل تھے، مگر حضرت مجدد کے علم و کمال کا اعتراف کرتے اور بے حد احترام کرتے تھے۔

علامہ ہاشم کشمی علیہ الرحمہ ایک حیرت انگیز واقعہ نقل کرتے ہیں:

"ایک دن حضرت مجددی ابوالفیض کے گھر آئے۔ وہ غیر منقوط تفسیر لکھنے میں مصروف تھا۔ جب اس نے آپ کو دیکھا تو خوش ہوا اور کہا آپ خوب تشریف لائے۔ تفسیر میں ایک مقام آیا کہ اس کی تفسیر و تاویل غیر منقوطہ الفاظ کے ذریعے مشکل ہوگئی۔ میں نے بہت دماغ سوزی کی لیکن دل پسند عبارت دستیاب نہیں ہوئی۔ حضرت مجدد نے گو کہ بے نقطہ عبارت کی مشق نہیں کی تھی لیکن کمال بلاغت کے ساتھ مطالب کثیرہ پر مشتمل ایک صفحہ لکھ دیا، جس سے وہ حیرت میں پڑ گیا۔" [زبدۃ المقامات، ص ۱۶۴]

یہ واقعہ آپ کی غیر معمولی علمی استعداد اور خداداد ذہانت کا روشن ثبوت ہے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ سے بیعت:

1008ھ میں آپ زیارت حرمین شریفین کے ارادے سے روانہ ہوئے، مگر دہلی میں حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات تاریخ اسلام کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ حضرت خواجہ نے آپ کے غیر معمولی کمالات کو پہچان لیا اور اپنے پاس روک لیا۔ صرف تین ماہ کی تربیت میں آپ وہ منازل طے کر گئے جن تک پہنچنے میں دوسرے لوگوں کو برسوں لگ جاتے تھے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ آپ کو اپنی مراد فرمایا کرتے تھے اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"جب فقیر کے شیخ طریقت خواجہ امکنگی علیہ الرحمہ نے فقیر کو ہندوستان جانے کا حکم دیا تو خود کو اس سفر کے لائق نہ دیکھتے ہوئے فقیر نے کچھ پس و پیش کیا۔ خواجہ موصوف نے استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک شاخ پہ طوطا بیٹھا ہے۔ دل میں یہ خیال آیا، اگر یہ طوطا شاخ سے اڑ کر ہاتھ پر آبیٹھے تو اس سفر میں کچھ سہولت ہو جائے، معاً وہ طوطا اڑ کر فقیر کے ہاتھ پر آبیٹھا۔ فقیر نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اس نے فقیر کے منہ میں شکر ڈالی، اس خواب کی تعبیر خواجہ موصوف نے یہ فرمائی کہ طوطا ہندوستانی پرندہ ہے۔ ہندوستان میں تمہارے دامن سے ایک ایسا عزیز وابستہ ہوگا جس سے عالم منور ہوگا اور تم بھی اس سے مستفیض ہوگے۔" [زبدۃ المقامات، ص ۱۹۰]

یہ پیش گوئی بعد میں پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھی، جب حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نے برصغیر ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں تجدید دین کی ایسی تحریک برپا کی جس کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔

تجدید دین کا عظیم کارنامہ:

حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ کی تربیت نے امام ربانی کو وہ روحانی قوت عطا کی جس کے ذریعے آپ نے صرف خانقاہی اصلاح تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ پورے معاشرے کی دینی و فکری اصلاح کو اپنا مشن بنایا۔ اس وقت برصغیر میں اکبر کے خود ساختہ "دین الہی" اور مختلف باطل نظریات مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کر رہے تھے۔ ایسے نازک دور میں امام ربانی نے پوری جرات، استقامت اور حکمت کے ساتھ کتاب و سنت کی دعوت کو عام کیا اور اہل سنت و جماعت کے عقائد کا بھرپور دفاع فرمایا۔

حضرت خواجہ باقی باللہ کی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ ملت اسلامیہ کے حقیقی پاسبان بن کر ابھرے۔ آپ نے اکبری اور جہانگیری فتنوں کا نہایت حکمت اور استقامت سے مقابلہ کیا۔ مورخین نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ اگر حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ اس دور میں موجود نہ ہوتے تو برصغیر میں اسلام کی صحیح شناخت کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ نے آپ کی تجدیدی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا:

"آج جو مساجد میں اذانیں دی جارہی ہیں، مدارس سے قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ کی دل نواز صدائیں بلند ہو رہی ہیں اور خانقاہوں میں جو ذکر و فکر ہو رہا ہے اور قلب و روح کی گہرائیوں سے جو اللہ کی یاد کی جاتی ہے یا لا الہ الا اللہ کی ضربیں لگائی جاتی ہیں ان سب کی گردنوں پر حضرت مجدد کا بار منت ہے۔ اگر حضرت مجدد اس الحاد و ارتداد کے اکبری دور میں اس کے خلاف جہاد نہ فرماتے اور وہ عظیم تجدیدی کارنامہ انجام نہ دیتے تو نہ مساجد میں اذانیں ہوتیں، نہ مدارس دینیہ میں قرآن، حدیث، فقہ اور باقی علوم کا درس ہوتا اور نہ خانقاہوں میں سالکین و ذاکرین اللہ اللہ کے روح افزا ذکر سے زمزمہ سنج ہوتے۔ الا ما شاء اللہ۔" [سیرت مجدد الف ثانی، تقدیم، ص ۱۰]

یہ خراج تحسین اس بات کی روشن دلیل ہے کہ امام ربانی کی تجدید صرف چند افراد کی اصلاح تک محدود نہ تھی بلکہ اس کے اثرات پوری ملت اسلامیہ پر مرتب ہوئے۔

علمی عظمت:

حضرت مجدد الف ثانی علم و فضل میں اپنے عہد کے امام تھے۔ آپ حافظ قرآن تھے، اسرار قرآن، علم حدیث، فقہ، اصول فقہ، علم کلام اور تصوف میں یگانہ روزگار تھے۔ [حضرات القدس، زبدۃ المقامات]

آپ خود فرماتے ہیں:

"مجھے تو سط حال ایک رات جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم علم کلام کے ایک مجتہد ہو۔ اس وقت سے مسائل کلامیہ میں میری رائے خاص اور میرا علم مخصوص ہے۔" [مبدا و معاد]

آپ کے مکتوبات میں بے شمار دقیق علمی مسائل نہایت محققانہ انداز میں بیان ہوئے ہیں، جن سے آپ کے تبحر علمی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

فکر و عرفان:

حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے عرفان و معرفت کے ایسے اسرار عطا فرمائے جو اہل اللہ میں بھی کم نصیب ہوتے ہیں۔ آپ نے وحدت وجود، وحدت شہود، عین الیقین، حق الیقین اور دیگر دقیق روحانی مسائل کو نہایت معتدل اور مدلل انداز میں بیان فرمایا۔ اسی بنا پر علامہ اقبال نے آپ کو "عرفان کا مجتہد اعظم" قرار دیا۔

آپ خود فرماتے ہیں:

"حق جل سلطانہ کے انعامات کے متعلق کیا لکھا جائے اور کس طرح شکر ادا کیا جائے، جن علوم و معارف کا فیضان خداوند جل شانہ کی توفیق سے ہوتا ہے، ان میں سے اکثر قید تحریر میں آتے ہیں اور اہل نا اہل کے کانوں تک پہنچتے ہیں، لیکن جو اسرار و دقائق ممتاز ہیں ان کا ایک شمہ بھی ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔" [زبدۃ المقامات، ص ۳۰۳]

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم:

حضرت مجدد الف ثانی کی پوری زندگی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت تھی۔ آپ کے نزدیک ولایت، معرفت، کشف اور کرامت کی اصل بنیاد اتباع سنت تھی۔

آپ فرماتے ہیں:

"ہم نے خود کو شریعت میں ڈال دیا ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن سنت کی خدمت میں قائم ہیں۔" [حضرات القدس، ص ۱۷۰]

اسی کامل اتباع سنت کی بدولت اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ بلند مقام عطا فرمایا جس کا اعتراف اکابر اولیا اور علما نے بھی کیا۔

تقوی، عبادت اور مجاہدہ:

حضرت مجدد الف ثانی کی عبادت، خشوع اور تقوی ضرب المثل تھے۔ نماز کو ایسی کامل سنت کے مطابق ادا فرماتے کہ دیکھنے والے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔

مولانا بدر الدین سرہندی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

"میں آپ کی نماز دیکھ کر بے اختیار ہو جاتا اور یقین رکھتا تھا کہ آپ ہمیشہ حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھتے ہیں اور اسی طریقے کے مطابق آپ نماز ادا کرتے ہیں۔" [حضرات القدس، ص ۹۹]

آپ عبادت، زہد، مجاہدہ، احتیاط اور اتباع سنت میں اپنے زمانے کے تمام اہل اللہ کے لیے نمونہ تھے۔ آپ کا ہر عمل شریعت کے تابع تھا اور آپ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ حقیقی کامیابی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل پیروی میں ہے۔

کرامات و مناقب:

اللہ تعالیٰ نے امام ربانی، قیوم ملت، خزینۃ الرحمۃ، محدث رحمانی، غوث صمدانی، امام ربانی، المجدد المنور الف ثانی، ابو البرکات شیخ بدر الدین احمد فاروقی نقشبندی سرہندی علیہ الرحمہ کو بے شمار ظاہری و باطنی کرامات سے نوازا تھا۔ آپ کی پوری زندگی کرامت، استقامت اور اتباع سنت کا حسین امتزاج تھی۔

آپ کی سب سے مشہور کرامت یہ ہے کہ آپ نے اپنے وصال کی خبر تقریباً دس برس پہلے ہی اپنے خاص مریدین کو دے دی تھی، جو بعینہٖ اسی وقت پوری ہوئی۔

حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ نے بھی آپ کی عظمت کو پہلے ہی پہچان لیا تھا۔ آپ فرماتے ہیں:

"جب فقیر کے شیخ طریقت خواجہ امکنگی علیہ الرحمہ نے فقیر کو ہندوستان جانے کا حکم دیا تو خود کو اس سفر کے لائق نہ دیکھتے ہوئے فقیر نے کچھ پس و پیش کیا۔ خواجہ موصوف نے استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک شاخ پہ طوطا بیٹھا ہے۔ دل میں یہ خیال آیا، اگر یہ طوطا شاخ سے اڑ کر ہاتھ پر آبیٹھے تو اس سفر میں کچھ سہولت ہو جائے، معاً وہ طوطا اڑ کر فقیر کے ہاتھ پر آبیٹھا۔ فقیر نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اس نے فقیر کے منہ میں شکر ڈالی، اس خواب کی تعبیر خواجہ موصوف نے یہ فرمائی کہ طوطا ہندوستانی پرندہ ہے۔ ہندوستان میں تمہارے دامن سے ایک ایسا عزیز وابستہ ہوگا جس سے عالم منور ہوگا اور تم بھی اس سے مستفیض ہوگے۔" [زبدۃ المقامات]

یہ پیش گوئی بعد میں لفظ بہ لفظ پوری ہوئی اور امام ربانی نے واقعی پورے عالم اسلام کو اپنے فیضان سے منور کردیا۔
آپ کی علمی کرامات میں یہ بھی مذکور ہے کہ ابوالفیض فیضی غیر منقوط تفسیر لکھتے ہوئے ایک مقام پر رک گئے تو حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نے فی البدیہہ ایسی فصیح غیر منقوط عبارت تحریر فرمائی کہ وہ حیران رہ گئے۔ [زبدۃ المقامات]

اسی طرح آپ کے متعلق منقول ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے علوم باطنی اور حضرت خضر علیہ السلام سے علم لدنی کی دولت عطا ہوئی۔ [زبدۃ المقامات]

وصال مبارک:

امام ربانی حضرت شیخ احمد سرہندی فاروقی نقشبندی علیہ الرحمہ نے 29 صفر المظفر 1034ھ، بروز پیر، 63 برس کی عمر میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار اقدس سرہند شریف (پنجاب، ہندوستان) میں مرجع خلائق ہے جہاں آج بھی اہل محبت حاضری دے کر روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔

اقبال کا خراج عقیدت:

ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت مجدد الف ثانی سے بے حد عقیدت تھی۔ ان کے نزدیک ہندوستان میں اسلام کی تجدید اور اہل سنت کے عقائد کی حفاظت میں امام ربانی کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اسی لیے انہوں نے بال جبریل اور دیگر مقامات پر آپ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

ڈاکٹر اقبال فرماتے ہیں:

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

یہ اشعار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ امام ربانی نے اقتدار کے سامنے سر نہیں جھکایا بلکہ حق و صداقت کی خاطر ہر آزمائش برداشت کی اور امت کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت فرمائی۔

اختتامیہ:

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ جب بھی امت فکری، اعتقادی یا عملی انحراف کا شکار ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے رجال پیدا فرماتا ہے جو دین کی اصل روح کو زندہ کرتے ہیں۔ آپ نے علم و عمل، تصوف و شریعت، دعوت و اصلاح اور جرات و استقامت کا ایسا حسین نمونہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک اہل اسلام کے لیے مشعل راہ رہے گا۔

آج بھی اگر امت مسلمہ اپنے عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق میں امام ربانی کی تعلیمات، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی اور اہل سنت و جماعت کے مسلک کو مضبوطی سے تھام لے تو ان شاء اللہ وہی عزت، وقار اور سربلندی دوبارہ حاصل کرسکتی ہے جو اسلاف کا امتیاز تھی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے، ان کی تعلیمات پر عمل کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نوٹ: مضمون کے طویل ہونے کی وجہ سے اگر کہیں لفظی یا معنوی غلطی رہ گئی ہو تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ ایسی کسی غلطی کی نشاندہی یا اصلاح کے لیے آپ فقیر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
21 صفر المظفر 1448ھ | 5 اگست 2026ء
بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!