| عنوان: | جب قلم خاموش ہو جائے |
|---|---|
| تحریر: | سمیر أحمد فیضی ازہری |
| پیش کش: | جامعۃ الأزہر الشریف، القاہرہ |
ماضی کے اوراق کا ژرف مطالعہ اور تاریخ کے صفحات کا تجزیہ ہمیں اس سوال پر غور کرنے پر آمادہ کرتا ہے کہ آخر وہ کون سے اسباب تھے جنہوں نے ہمیں اس علمی اور فکری انحطاط کے دہانے پر لا کھڑا کیا؟ وہ قوم جس کے ہاتھ میں قلم کی قوت تھی، جس کی شناخت کتاب تھی، جس کی انجمنیں علم و قلم سے آباد تھیں، آج مطالعے سے کیوں دور اور تحریر سے کیوں بے نیاز ہوتی جا رہی ہے؟
قارئین! آپ بخوبی واقف بھی ہیں کہ خطابت اپنی سحر انگیزی اور اثر آفرینی کے باعث ہر دور میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی گئی ہے، اور بامتیازِ امتدادِ زمانہ اس کی افادیت کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا ہے، مگر ابھی چند سالوں میں وہی خطابت جذبۂ جنون آمیز سرد مہریوں کا شکار ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ تاہم انسان کے اظہارِ مافی الضمیر کا دوسرا بنیادی ذریعہ تحریر بھی ہے، جو تقریر کے برعکس وقت کی گردش سے معدوم نہیں ہوتی، بلکہ زمانوں کے حافظے میں محفوظ رہ کر نسلوں سے ہم کلام ہوتی اور آنے والے ادوار کی فکری رہنمائی کا سامان بنتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شریعتِ طاہرہ نے قلم کو غیر معمولی عظمت عطا کی۔ اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ [سورۃ القلم: ۱]
اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ قلم محض ایک آلہ نہیں، بلکہ شخصیت کی تعمیر، افکار کی تشکیل، تاریخ کے تحفظ، علم کی بقا اور عصمتِ قلم کا امین ہے۔
آج اگر ایک طرف علمی بحران اپنی شدت کے ساتھ ہمارے سامنے ہے تو دوسری طرف صاحبانِ قلم اور فنِ تحریر پر قدرت رکھنے والی شخصیات یکے بعد دیگرے رخصت ہوتی جا رہی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کی ایک بڑی تعداد خود اس عظیم فن سے بتدریج دور ہوتی جا رہی ہے۔ وہ قلم، جو کبھی علماء، دانشوروں اور اہلِ علم کی شناخت تھا، آج خاموش دکھائی دیتا ہے۔
جب اہلِ علم کے قلم خاموش ہو جاتے ہیں تو باطل کی زبانیں بولنے لگتی ہیں۔ جب تحقیق رک جاتی ہے تو تقلیدِ جامد، افواہیں اور گمراہ کن افکار معاشرے میں جگہ بنانے لگتے ہیں۔ قوموں کی حیات تلوار سے کم اور قلم سے زیادہ وابستہ ہوتی ہے، کیونکہ قلم صرف سیاہی کا نام نہیں بلکہ شعور، فکر، علم اور ذمہ داری کا استعارہ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اہلِ قلم کی قدر کی، وہ علم و تہذیب کی رہنما بنیں، اور جنہوں نے قلم کو خاموش ہونے دیا، وہ فکری زوال کا شکار ہو گئیں۔ اس لیے اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ محض تقریروں پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنی تحقیقات، افکار اور تجربات کو قلم بند کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستند علمی سرمایہ محفوظ رہ سکے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس خاموشی کے اسباب کیا ہیں؟ مطالعے کا ذوق کیوں کم ہوا؟ تحریر کا شوق کیوں ماند پڑ گیا؟
اردو ادب اور اردو صحافت کی ایک درخشاں تاریخ ہے۔ یہی صحافت تھی جس نے دینی، علمی، فکری اور اصلاحی تحریکوں کو جلا بخشی، اکابر علماء کے افکار کو عوام تک پہنچایا اور قوم کے شعور کی آبیاری کی۔ اسی عظیم ادبی و علمی روایت کی عظمت کو داغ دہلوی نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے:
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے
آج بھی مدارس، جامعات اور خانقاہوں سے متعدد علمی و ادبی مجلات کی اشاعت اسی احساسِ ذمہ داری کا ثمرہ ہے کہ نئی نسل میں مطالعے، تحقیق، تصنیف اور صحافت کا ذوق دوبارہ زندہ کیا جائے اور انہیں قلم کی امانت کا احساس دلایا جائے۔
آج جبکہ اردو ادب اور صحافت سے بے اعتنائی بڑھتی جا رہی ہے اور مطالعے کی روایت کمزور پڑ رہی ہے، ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ ہم اس علمی و فکری بحران کے سدباب کے لیے عملی اقدامات کریں۔ نئی نسل میں کتاب دوستی، مطالعے کی عادت اور قلم سے وابستگی پیدا کریں۔
کیونکہ جب قلم خاموش ہو جاتا ہے تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ علم کا ایک باب بند ہو جاتا ہے، اور وہ روشنی جو دین و دنیا کو منور کرنے والی تھی، ماند پڑنے لگتی ہے۔ کتابیں یتیم ہو جاتی ہیں، افکار بے وارث رہ جاتے ہیں اور قومیں اپنی علمی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔ آج کا المیہ صرف تعلیمی انحطاط نہیں، بلکہ فکری انحطاط بھی ہے، جس نے مطالعے، تحقیق اور تحریر کے ذوق کو ماند کر دیا ہے، اور جب فکر جمود کا شکار ہو جائے تو علمی و تحقیقی سرگرمیاں بھی ماند پڑنے لگتی ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم کتابوں سے اپنا تعلق مضبوط کریں، مطالعے کو اپنی عادت بنائیں اور روزانہ کچھ نہ کچھ لکھنے کا اہتمام کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو علمی، فکری اور تحریری بحران سے نکلنے اور امت کی علمی روایت کو زندہ رکھنے کا ضامن ہے۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
(علامہ اقبال)
