پیارے آقا ﷺ کی عظمت اور گستاخوں کی مذمت

پیارے آقا ﷺ کی عظمت اور گستاخوں کی مذمت
عنوان: پیارے آقا ﷺ کی عظمت اور گستاخوں کی مذمت
تحریر: بنت مفتی مظفر حسین مصباحی

عظمتِ مصطفیٰ ﷺ اور رفعتِ ذکر

فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں
خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا

تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے گا
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالیٰ تیرا

مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعدا تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا


پیارے آقا ﷺ بے شمار فضائل، کمالات اور محاسن کے جامع ہیں۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس انسانی کمال کا وہ اعلیٰ ترین نمونہ ہے جس کی نظیر نہ پہلے کبھی تھی اور نہ قیامت تک ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود خالقِ کائنات نے اپنے محبوب ﷺ کے ذکر کی بلندی کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

﴿وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ (سورة الم نشرح، آیت: 4)
ترجمہ: اے محبوب! ہم نے آپ کے لیے آپ کے ذکر کو بلند فرما دیا۔

امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے اسی قرآنی حقیقت کو نہایت دل نشین انداز میں یوں بیان فرمایا:

ورفعنا لك ذكرك کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تیرا ذکر ہے اونچا تیرا


پس جس ہستی کے ذکر کی بلندی کا اعلان خود ربِّ ذوالجلال نے فرمایا ہو، اس کی عظمت کو مٹانے یا گھٹانے کی ہر کوشش ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مخالفین مٹتے رہے، مگر محبوبِ خدا ﷺ کا ذکر ہر دور میں پہلے سے زیادہ فروزاں ہوتا گیا۔ ایسی عظیم ہستی سے محبت، تعظیم اور وفاداری ہی درحقیقت ایمان کا تقاضا ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ سے محبت ایمان کی روح، ان کی اطاعت ایمان کی تکمیل اور ان سے وفاداری ہماری شناخت ہے۔

اسمِ مبارک "محمد" کی حکمت اور عظمت

مگر افسوس! دشمنانِ اسلام ہمیشہ اپنی کم ظرفی اور خباثتِ باطن کا اظہار شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کر کے کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بھی مختلف مواقع پر بعض شدت پسند عناصر نے توہینِ رسالت جیسی مذموم حرکتوں کا ارتکاب کیا، مگر ایسی ناپاک جسارتیں نہ پہلے کبھی رسولِ اکرم ﷺ کی عظمت کو کم کر سکیں اور نہ آئندہ کبھی کر سکیں گی؛ کیونکہ جس ہستی کو عزت و رفعت خود ربِّ کائنات نے عطا فرمائی ہو، مخلوق میں سے کون ہے جو اس میں کوئی کمی کر سکے؟

ہمارے پیارے نبی ﷺ کا اسمِ مبارک ہی آپ کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام "محمد" رکھا، جس کے معنی ہیں: "وہ ہستی جس کی سب سے زیادہ تعریف و توصیف کی جائے۔" اس لیے جو شخص ایک طرف آپ ﷺ کو "محمد" کہہ کر آپ کی بے مثال عظمت کا اعتراف کرے اور دوسری طرف شانِ رسالت میں گستاخی کرے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ جھوٹا و مکار ہے اور اپنے ہی قول و عمل کے تضاد میں مبتلا ہے۔ کیونکہ جس زبان نے آپ ﷺ کو "محمد" کہا، اسی زبان سے گستاخی کرنا خود اپنے اقرار کی نفی ہے۔

نبی کریم ﷺ کے اسمِ مبارک کی اسی عظمت کو مفسرین، محدثین اور ائمۂ امت نے بھی نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ "محمد" کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محمد وہ ہیں جن کی تعریف بار بار کثرت سے کی جائے، اور جن کی تعریف کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو اور جو اپنے تمام صفات کے اندر کامل و اکمل ہوں۔

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کیا ہی خوب ارشاد فرمایا:

وشقَّ لَهُ مِنْ اسْمِهِ لِيُجِلَّهُ
فَذُو الْعَرْشِ مَحْمُودٌ وَهذَا مُحَمَّد


ترجمہ: اور اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کے لیے اپنے نام سے اپنے نبی کا نام نکالا، پس عرش والا محمود ہے اور یہ محمد ﷺ ہیں۔

گستاخوں کا انجام

کتابِ اللہ نے شاتمین و مخالفینِ رسول ﷺ کو ذلیل ترین مخلوق قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓىٕكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ﴾ (سورة المجادلة، آیت: 20)
ترجمہ: بے شک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں۔

اور وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیتے ہیں ان کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا:

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا﴾ (سورہ احزاب، آیت: 57)
ترجمہ: بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو، ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

ناموسِ رسالت ﷺ اور ہماری ذمہ داریاں

امتِ مسلمہ اس وقت جن نازک حالات سے دوچار ہے، ان میں ایک بڑا المیہ اسلام، شعائرِ اسلام اور ناموسِ رسالت ﷺ پر ہونے والی گستاخیوں اور بے حرمتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں۔ وقتاً فوقتاً دشمنانِ اسلام ایک منظم سازش کے تحت ایسے اقدامات کرتے ہیں تاکہ اہلِ ایمان کے جذبات مجروح ہوں، اور اسلام کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔

ایسے حالات میں قانونی اور پُرامن احتجاج اپنی جگہ ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ایک نہایت اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم حضورِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ، بے مثال اخلاق، عدل و انصاف اور عظیم کردار کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کریں۔ نیز اسلام اور ذاتِ اقدس ﷺ پر کیے جانے والے اعتراضات کا حکمت، علم اور مضبوط دلائل کے ساتھ جواب دیں، تاکہ حقیقت کے متلاشی لوگوں پر حق واضح ہو جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر تعصب اور عناد کی عینک اتار کر کوئی شخص رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرے تو وہ خود اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت اور کامل نمونہ ہیں۔

لہٰذا آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم سیرتِ طیبہ کو عام کریں، محبتِ رسول ﷺ کو اپنے کردار سے نمایاں کریں، اور اپنی استطاعت کے مطابق ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضورِ اقدس ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو عام کرنے، اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے، اور ناموسِ رسالت ﷺ کے باوقار اور مؤثر محافظوں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!