| عنوان: | تحریر میری شناخت اور حق گوئی کا عہد |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
تحریر: شناخت اور ضمیر کی آواز
لکھنا میرا معمول نہیں، میرا مشغلہ ہے۔ تحریر میری شناخت ہے، میرا جوہرِ ذات ہے، میری داخلی کیفیات کی آئینہ دار ہے۔ میں وہی لکھتا ہوں جس کی تصدیق میرا دل کرے، جس پر میرے ضمیر کی مہرِ صداقت ثبت ہو۔ میرے اور قلم کے مابین ایک عہد ہے، ایک غیر مرئی وابستگی ہے، جو فکر و شعور کی وادیوں میں مجھے آزاد رکھتی ہے۔
سچائی کا خنجر اور بے لاگ اظہار
میری تحریر کچھ کے لیے رشک و تحسین کا باعث ہوتی ہے، تو کچھ کے لیے اضطراب و ملال کا۔ کچھ اسے حکمت و دانائی کا سرچشمہ گردانتے ہیں، تو کچھ کے لیے یہ خنجرِ صداقت ثابت ہوتی ہے۔ مگر میں معذرت خواہ نہیں، کہ میری روشنی اندھیروں سے مصالحت نہیں کر سکتی، میرے الفاظ کسی مصلحت کے اسیر نہیں ہو سکتے۔
مصلحت سے انکار اور انقلاب کی چنگاری
میں حق گوئی کو خوشامد کی چادر میں لپیٹ کر پیش نہیں کر سکتا، نہ ہی میری تحریر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان باطل کے لیے نرمی برت سکتی ہے۔ میں وہی لکھوں گا جو دل کی گہرائیوں میں اترے، جو ذہنوں کو جھنجھوڑ دے، جو روح میں انقلاب کی چنگاری روشن کر دے!
صدائے حق اور قلم کا سفر
اگر میری تحریر کسی کے دل میں خراش ڈالتی ہے، تو یہ خراش میں نے نہیں، سچائی نے ڈالی ہے۔ میں نہ قلم بیچ سکتا ہوں، نہ ضمیر رہن رکھ سکتا ہوں، نہ حق کے چراغ کو مفاد کی آندھی میں بجھنے دے سکتا ہوں۔
میں لکھتا رہوں گا، جب تک میری سانسوں میں صداقت کی حرارت باقی ہے، جب تک میرا قلم میرے ہاتھ میں ہے، جب تک میرے لفظوں میں زندگی کی روشنی ہے!
