انکارِ حق: دنیاوی فریب اور آخرت کا انجام

انکارِ حق: دنیاوی فریب اور آخرت کا انجام
عنوان: انکارِ حق: دنیاوی فریب اور آخرت کا انجام
تحریر: محمد ثاقب نظامی

انکارِ حق کی سنگینی اور دنیاوی فریب

حقیقت کا انکار انسانی تاریخ کا سب سے سنگین جرم ہے۔ دنیا میں یہ جرم بظاہر بے ضرر دکھائی دیتا ہے، کیونکہ یہاں اس کا انجام فوراً ظاہر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں انسان بے خوف ہو کر حق کو ٹھکراتا رہتا ہے۔ مگر آخرت کا منظر بالکل مختلف ہوگا۔ وہاں انکارِ حق کے مہلک نتائج انسان پر ایسے نازل ہوں گے کہ وہ حیرت، خوف اور شرمندگی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اپنی قسمت پر نوحہ کناں ہوگا۔

گمراہ کن رہنماؤں سے آخرت کا مکالمہ

جن افراد کو دنیا میں لوگ اپنے رہنما اور آئیڈیل سمجھتے تھے، ان پر آخرت میں ملامت اور لعنت کی بارش کریں گے۔ وہ کہیں گے: "یہ تم ہی تھے جنہوں نے ہمیں گمراہی کے راستے پر چلنے کے لیے مجبور کیا۔" مگر یہ بڑے جواب دیں گے: "ہم تمہارے گناہوں کے ذمہ دار نہیں۔ ہمیں موردِ الزام ٹھہرانا تمہاری اپنی خود فریبی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری اپنی خواہشات ہی تمہارے لیے گمراہی کا سبب بنیں۔ ہم نے تو صرف وہی پیش کیا جو تمہارے دل کی پسند تھی۔ تم ایسا دین چاہتے تھے جو تمہیں اپنی اصلاح کے بغیر دینداری کا سہرا عطا کر دے، اور ہم نے وہی فراہم کیا۔ تم نے اپنی مرضی سے ہمارے جال کو اپنی گردن میں ڈالا۔ ہمارے پاس کوئی اختیار یا طاقت نہیں تھی کہ زبردستی تمہیں اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیتے۔"

اعمال کی ذاتی ذمہ داری اور مہلت کا خاتمہ

یہ مکالمہ آخرت کی اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ انسان کے اعمال کا اصل ذمہ دار خود وہی ہے، اور دوسروں کو الزام دینا محض ایک ناکام کوشش ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں حق کو ماننے اور اسے اپنانے کی جو مہلت دی گئی تھی، وہی اصل امتحان تھا۔ جو اس مہلت کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی عذر کارگر نہ ہوگا۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!