| عنوان: | حضور شارحِ بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی خدمات* |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
ولادت و نسب
حضور شارحِ بخاری فقیہِ اعظم ہند مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی ولادت ۱۱؍ شعبان ۱۳۳۹ھ مطابق ۲۰؍ اپریل ۱۹۲۱ء میں مشہور و معروف اور مردم خیز خطہ، قصبہ گھوسی کے محلہ کریم الدین پور اعظم گڑھ (حال ضلع مئو) میں ہوئی۔
آپ کا نسب نامہ کچھ اس طرح ہے: مفتی محمد شریف الحق امجدی بن عبد الصمد بن ثناء اللہ بن لعل محمد بن مولانا خیرالدین اعظمی۔
مولانا خیرالدین علیہ الرحمہ اپنے عہد میں پائے کے عالم اور صاحبِ کشف و کرامت بزرگ تھے۔ ان کا یہ روحانی فیض آج تک جاری ہے، کہ ان کے عہد سے لے کر اس دور میں پانچویں پشت تک ان کی نسل میں اجلۂ علمائے کرام موجود ہیں۔ انہی میں سے ایک شارحِ بخاری، فقیہِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی بھی تھے، جو ماضی قریب میں ہند و پاک کے مسلمانانِ اہلِ سنت کے صفِ اول کے مقتدا اور پوری دنیائے اہلِ سنت کے مرجعِ فتاویٰ اور مرکزِ عقیدت تھے۔
اکابرین کی نظر میں
آپ کی کثیر الجہات شخصیت کے متعلق استاذی الکریم حضور محدثِ کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری امجدی (اطال اللہ عمرہ) کچھ اس طرح فرماتے ہیں:
"حضرت مفتی صاحب قبلہ مدظلہ جماعت کے ممتاز ترین، صاحبِ علم و بصیرت، باقیاتِ صالحات میں سے ایک ہیں۔ ذکاوتِ طبع اور قوتِ اتقان، وسعتِ مطالعہ میں اپنی مثال آپ ہیں، تعمقِ نظر، قوتِ فکر، زورِ استدلال اور حسنِ بیان، زودنویسی میں بھی آپ انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ معلومات کی گیرائی و گہرائی میں بھی بلند رتبہ ہیں۔ خطابت، جدل و مناظرہ میں بھی آپ کو امتیاز حاصل ہے۔ کئی موضوعات پر آپ کی معلومات افزا تصانیف آپ کی تصنیفی خوبیوں کی مظہر ہیں۔"
تعلیم و تربیت
مفتی شریف الحق امجدی کی ابتدائی تعلیم قصبہ گھوسی کے مقامی مکتب میں ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ۱۹۳۴ء میں دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں داخلہ لیا اور حضور حافظِ ملت مولانا عبد العزيز مراد آبادی (م ۱۹۷۶ء) کے زیرِ سایہ رہ کر آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی۔
۱۹۴۲ء میں آپ مدرسہ مظہرِ اسلام مسجد بی بی جی محلہ بہاری پور، بریلی شریف پہنچے، جہاں ابوالفضل حضرت علامہ سردار احمد گورداس پوری ثم لائل پوری محدثِ اعظم پاکستان کا خورشیدِ علم، تمام تر تابانیوں کے ساتھ اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا۔ محدثِ اعظم پاکستان سے آپ نے صحاحِ ستہ حرفاً حرفاً پڑھ کر دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور ۱۵؍ شعبان ۱۳۶۲ھ کو درسِ نظامی سے آپ کی فراغت ہوئی۔
اساتذہ و مشائخِ کرام میں، جن حضرات کی تعلیم و تربیت کا آپ کی زندگی پر گہرا اثر تھا ان میں حضور صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں، حضور حافظِ ملت مولانا شاہ عبد العزيز محدثِ مراد آبادی، حضور محدثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری رضوی سرِ فہرست ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ آپ نے حافظِ ملت سے سب سے زیادہ فیض پایا۔
تدریسی خدمات
درسِ نظامی کے علاوہ فتویٰ نویسی کی تعلیم و تمرین ایک سال سے زائد حضور صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی سے حاصل کی اور حضور مفتیِ اعظم ہند قدس سرہ کی بارگاہ میں گیارہ سال رہ کر فتویٰ نویسی سیکھی اور اس کا عمل جاری رکھا۔ اکتسابِ علم کے بعد مفتی شریف الحق امجدی نے تقریباً پینتیس (۳۵) سال تک نہایت ذمہ داری کے ساتھ، بڑی عرق ریزی و جاں سوزی اور کمالِ مہارت کے ساتھ ہندوستان کے مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ہر فن کی مشکل سے مشکل ترین کتابیں پڑھائیں۔ برسہا برس تک دورۂ حدیث بھی پڑھاتے رہے اور اخیر میں درس و تدریس کا مشغلہ چھوڑ کر جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں شعبۂ افتا کی مسندِ صدارت پر متمکن ہو کر چوبیس برس تک رشد و ہدایت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
جن درس گاہوں کی مسندِ تدریس و افتا پر جلوہ افروز ہو کر آپ نے علم و حکمت کے گوہرِ آبدار لٹائے ان کے چند اسماء یہ ہیں:
-
مدرسہ بحر العلوم، مئوناتھ بھنجن، ضلع اعظم گڑھ
-
مدرسہ شمس العلوم، گھوسی، ضلع مئو
-
مدرسہ خیر العلوم، پلاموں، بہار
-
مدرسہ عین العلوم، گیا، بہار
-
دار العلوم مظہرِ اسلام، بریلی شریف
-
الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور
آپ کی درس گاہِ فیض سے شعور و آگہی کی دولت حاصل کرنے والے طلبہ اتنے کثیر ہیں کہ ان سب کا شمار تقریباً ناممکن ہے، ان میں سے چند مشہور حضرات کے نام پیشِ خدمت ہیں جو اس وقت اہلِ سنت و جماعت کے نامور علما میں شمار کیے جاتے ہیں:
-
خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی
-
مولانا مجیب اشرف اعظمی ثم ناگپوری
-
قاضی عبد الرحیم بستوی
-
مولانا رحمت حسین کلیمی پورنیہ
-
مولانا قمر الدین اشرفی اعظمی
-
مولانا عزیز الحسن اعظمی
-
مولانا رضوان احمد شریفی
-
مفتی محمد نظام الدین رضوی
فقہ و فتاویٰ
درسِ نظامی کی فراغت کے بعد آپ نے حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ سے فتویٰ نویسی میں خصوصی تربیت حاصل کی، اور پھر گیارہ سال تک حضور مفتیِ اعظم ہند قدس سرہ کی صحبتِ فیض سے فیض یاب ہوتے ہوئے فتویٰ نویسی میں مہارتِ تامہ حاصل کی۔ اس علمی ریاضت کا نچوڑ وہ پچھتر ہزار سے زائد فتاویٰ ہیں جو آپ نے تحریر فرمائے، اور جو آج "فتاویٰ شارحِ بخاری" کے نام سے علمائے اہلِ سنت کی آنکھوں کا تارا ہیں۔
بيعت و خلافت
۱۳۵۹ھ میں آپ نے حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ قادریہ رضویہ میں بیعت کی اور اجازت و خلافت حاصل کی۔ آپ کا شمار صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے سابقینِ اولین مریدوں میں ہوتا ہے۔ حضرت صدر الشریعہ نے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت و خلافت سے بھی نوازا تھا۔ حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا، بریلی اور احسن العلماء مولانا مصطفیٰ حسن حیدر، مارہرہ نے بھی اجازت و خلافت سے نوازا تھا۔
حضور شارحِ بخاری متعدد بار حرمین شریفین کی زیارت سے مستفیض ہوئے؛ ۱۹۸۵ء میں پہلا حج اور ۱۹۹۸ء میں دوسرا حج فرمایا، ۱۹۹۶ء اور ۱۹۹۷ء میں دو مرتبہ سفرِ عمرہ پر بھی گئے۔
تصانیف و تالیفات
-
اشرف السیر: اس کتاب میں سیرتِ نبوی کے بنیادی ستون محمد بن اسحاق (۱۵۱ھ ؍ ۷۶۸ء)، محمد بن عمر الواقدی (۲۰۷ھ ؍ ۸۲۲ء)، محمد بن سعد (م ۳۲۰ھ ؍ ۸۴۴ء)، محب الدین بن جریر طبری (۳۰۱ھ) پر فنِ تاریخ و حدیث اور سیرت کے حوالے سے مخالفین کے اعتراضات کے دندان شکن علمی جوابات ہیں۔ سیرتِ پاک سے متعلق مغربی، ظالمانہ، جاہلانہ اور مشرق کے مرعوبانہ اور معذرت خواہانہ طرزِ عمل پر سیر حاصل تنقیدی و تحقیقی کلام اور ابتدا سے بعثتِ نبوی تک سرکارِ دو عالم ﷺ کے احوال و کوائف اور آپ کے آبا و اجداد کے تعلق سے جامع، پرمغز اور معلوماتی گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کتاب حصہ اول کا نصف ہے، باقی کام دیگر مصروفیات کی وجہ سے انجام نہ پا سکا۔
-
اشکِ رواں: آزادیِ ہند سے پہلے کانگریس اور مسلم لیگ کی خود غرضی اور مفاد پرستی پر مبنی پرفریب سیاست پر ضربِ کاری اور اس کی مخالفت اور مسلمانوں کے لیے اسلامی و شرعی نقطۂ نظر سے تیسرے متبادل کی تجویز، تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والی مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو کی تباہی و بربادی اور بعد میں انہیں درپیش سیاسی و سماجی، مذہبی و ملی پریشانیوں اور رسوائیوں کو اپنی دوربین نگاہوں سے بھانپ کر، اس پر اپنے قلبی و ذہنی خطرات، بے کلی اور بے چینی کا اظہار اور پھر اس کے تدارک کے لیے مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل، یہ سب کچھ اس کتاب میں شامل ہے۔ شارحِ بخاری نے پچیس برس کی عمر میں اسلامی سیاست کے موضوع پر یہ کتاب تحریر فرمائی ہے۔ آزادیِ ہند و تقسیمِ ہند سے پہلے ۱۹۴۶ء کے پرآشوب و پرفتن دور میں اس کی اشاعت ہوئی۔ پھر آج تک اس کا دوسرا ایڈیشن نہ شائع ہو سکا۔
-
اسلام اور چاند کا سفر: شرعاً انسان کا چاند پر پہنچنا ممکن ہے۔ اسلامیات اور فلکیات کے اصول و قواعد اور قوانین و مباحث کی روشنی میں اس مدعا پر محققانہ گفتگو کی گئی ہے، جو آپ کے وسعتِ مطالعہ، ژرف نگاری، قوتِ استدلال اور زورِ بیان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ محققانہ و عالمانہ تحقیقات و ابحاث کا حسین گلدستہ ہے۔
-
التحقیقات: اس میں وہابیوں، دیوبندیوں اور معاندینِ اہلِ سنت کے کچھ لا یعنی اعتراضات کے مدلل، تحقیقی و الزامی جوابات ہیں۔ یہ کتاب دو حصوں میں ہے۔
-
فتنوں کی سرزمین کون، نجد یا عراق؟: اس کتاب میں نجد و عراق کا ایک گراں قدر، حقیقت افروز اور ایمان افزا تاریخی، جغرافیائی اور دینی و سیاسی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
-
سنی دیوبندی اختلاف کا منصفانہ جائزہ: یہ سنی و دیوبندی اختلاف کی بنیاد اور اکابر علمائے دیوبند کی کفری عبارتوں پر غیر جانبدارانہ، فیصلہ کن ابحاث کا خوبصورت اور علمی گلدستہ ہے۔ آپ کی یہ کتاب اپنے موضوع پر لاجواب اور بے مثال ہے۔
-
اثباتِ ایصالِ ثواب: یہ رسالہ ایصالِ ثواب کے موضوع پر مصنف کی ایک نئے انداز میں بحث، میلاد و قیام، نیاز و فاتحہ کے سلسلے میں شکوک و شبہات کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کے اطمینانِ کلی کے لیے ایک بیش قیمت، زوردار علمی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
-
مقالاتِ شارحِ بخاری: یہ دینی و مذہبی، علمی و ادبی، تاریخی و سوانحی، فکری و تحقیقی گوناگوں عنوانات پر حضرت کے سینکڑوں بوقلموں مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔
-
مسئلۂ تکفیر اور امام احمد رضا: اپنے موضوع پر نہایت شاندار، گراں قدر اور اچھوتی محققانہ و متکلمانہ تحریر، جو موضوع کے تمام زاویوں کو حاوی اور شبہات کے سارے تار و پود بکھیر دینے والی ہے۔
-
فتاویٰ شارحِ بخاری: آپ کی زندگی بھر کے علمی و تحقیقی فتاویٰ کا مجموعہ جو ایک اندازے کے مطابق پچھتر ہزار سے زائد فتاویٰ کو محیط ہوگا، جو لوگوں کے عقائد و اعمال میں رہنمائی کرتا ہے اور اہلِ علم اور اربابِ فقہ و فتاویٰ سے خراجِ تحسین حاصل کر چکا ہے۔
وصالِ مبارک
۶ صفر المظفر ۱۴۲۱ھ، ۱۱ مئی ۲۰۰۰ء بروز جمعرات آپ اس دارِ فانی سے دارِ جاودانی کی طرف کوچ کر گئے، اور یہ علم و فن کا رازداں اور استقامت و ثابت قدمی کا کوہِ ہمالہ ہمیشہ کے لیے آغوشِ زمین میں محوِ خواب ہو گیا۔ آپ کا مزارِ مبارک گھوسی ضلع مئو میں مرجعِ خلائق ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے مزار کو انوارِ رحمت سے منور فرمائے، اور ہمیں ان کے علمی و فکری نقوش پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اولیائے کرام کی سچی محبت نصیب فرمائے، اُن کی تعلیمات پر عمل کرنے، اُن کے نقشِ قدم پر چلنے اور اُن کے وسیلے سے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ [حوالہ: علمائے اہلِ سنت کی علمی و ادبی خدمات]
