| عنوان: | اسلامی معاشرہ میں عورتوں کے حقوق |
|---|---|
| تحریر: | کنیز زینب فاطمہ رضویہ |
اسلام میں حقوق کا تصور اور حقوق العباد کی اہمیت
اسلام محض ایک ہفتہ واری عمل، نماز یا روزے تک محدود مذہب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جس کے اصول و ضوابط انسانی زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ہیں۔ اسلامی ہدایات دو حصوں میں تقسیم ہیں: عبادات (حقوق اللہ) اور معاملات (حقوق العباد)۔ حقوق اللہ میں کوتاہی کو اللہ تعالیٰ توبہ یا اپنی رحمت سے معاف فرما سکتا ہے، لیکن حقوق العباد تب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک صاحبِ حق معاف نہ کرے۔ اگر دنیا میں حقوق العباد ادا نہ کیے گئے تو قیامت کے دن انسان کو بدلے میں اپنی نیکیاں دینی پڑیں گی۔
قبل از اسلام عورت کا مقام اور دیگر مذاہب میں مظالم
حضور نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل دنیا کی مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ انتہائی ظالمانہ رویہ اختیار کیا جاتا تھا:
• ایران و یونان: ایران میں عورت کو لونڈی سمجھا جاتا تھا جبکہ یونان میں مرد کو عورت کے قتل تک کا حق حاصل تھا۔
• عیسائیت و مغرب: عورت کو نام رکھنے اور وراثت یا اپنی کمائی سے حصہ پانے کے حق سے محروم رکھا گیا۔ مغربی مفکرین نے عورت کو شیطنت سے تعبیر کیا۔
• ہندوستان و عرب: دختر کشی (بیٹیوں کو زندہ دفن یا بہا دینا)، وراثت سے محرومی، اور سوتیلی ماؤں سے نکاح جیسی رسمیں عام تھیں۔ مرد بیسیوں اور سینکڑوں عورتوں کو گھروں میں بھر لیتے تھے۔
اس گھناؤنے ماحول سے نبی کریم ﷺ نے دنیا میں تشریف لا کر عورتوں کو غلامی و ذلت کی ان زنجیروں سے نجات دلائی۔
اسلام کا دیا ہوا مقام اور شرعی حقوق
دنیا میں سب سے پہلے رسول اکرم ﷺ نے عورتوں کے حقوق باضابطہ قائم فرمائے اور انہیں اسلامی قانون کا درجہ دیا:
• حسنِ معاشرت: قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا: ’’وَعَاشِرُوهُنَّ بِالمَعْرُوفِ‘‘ (عورتوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرو)۔ نیز ارشاد فرمایا کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں، ویسے ہی عورتوں کے بھی مردوں پر شرعی حقوق ہیں۔
• لباس اور تحفظ: زوجین کو ایک دوسرے کا ’’لباس‘‘ قرار دے کر ایک دوسرے کی زینت، وقار اور سکون کا ذریعہ بنایا گیا۔ مردوں کو ان کی ذمہ داری اور نفقہ کی وجہ سے ’’قوام‘‘ (محافظ و نگران) بنایا گیا۔
• مالی، علمی و روحانی حقوق: اسلام نے عورت کو باپ اور شوہر کی وراثت میں لازمی حصہ دار بنایا (سورۃ النساء: ۷)۔ علم کا حصول مرد کی طرح عورت پر بھی فرض کیا گیا اور روح و ثواب کی دنیا میں بھی مرد و عورت کو برابر کا درجہ دیا گیا (سورۃ النساء: ۱۲۴)۔
• حریت اور اختیارات: عورت کو ناگفتہ بہ حالات میں خلع، عقدِ ثانی اور اپنے فیصلوں میں آزادی کی سہولت دی گئی۔
موجودہ معاشرتی صورتِ حال اور ہمارا طریقہ کار
مغربی و تاریخی اعترافات بتاتے ہیں کہ دنیا نے عورت کا احترام اسلام ہی سے سیکھا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارے اسلامی معاشرے میں عورتوں کے شرعی حقوق (خصوصاً وراثت) کی شدید پامالی کی جا رہی ہے۔ بیٹیوں کو محض جہیز دے کر وراثت کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے اور پھر اسے بوجھ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ جہیز کی شرعاً کوئی اصل شرط نہیں بلکہ وراثت میں حصہ دینا فرض ہے۔
مسلمان خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی نجات دہندہ تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ کریں، دین کا علم حاصل کریں اور اللہ و رسول کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے اپنے شرعی حقوق کا صحیح اور باوقار استعمال کریں۔
