شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ و مقام غوثیت اولیاء اللہ اور تجدید دین

شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ و مقام غوثیت
عنوان: شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ و مقام غوثیت
تحریر: محمد ثاقب نظامی

سلسلہِ ولایت اور تجدیدِ دین کی ضرورت

اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کے بعد انسانیت کے عروج و ارتقاء کیلئے انبیاء کرام کا سلسلہ جاری فرمایا۔ انسانوں کو انسانیت کے زیور سے آراستہ کرنے انبیاء علیہم السلام کی مقدس ہستیاں آتی رہیں۔ یوں یہ سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا نبی آخر الزماں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہ ختم ہو گیا۔ آپ نے کفر و ضلالت کو جمال جہاں آرا کی روشنی سے منور فرما کر فضائے عالم کو نور ایمان سے روشن فرمایا۔ خدائے ذو الجلال نے خاتم النبیین کے طغرائے بےمثالی عطا فرمائی اور کلام حق نے الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی فرماکر دین اسلام کی تکمیل پر مہر ثبت فرمادی اور ظاہر فرمادیا کہ اب کسی شارع کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

چونکہ سعادت و شقاوت، نور و ظلمت انسانی فطرت میں بطور جبلت ودیعت کی گئی ہیں، تو دنیاوی راحتیں اور فانی آسائشوں میں الجھ کر صحیح راستے سے مڑ کر غلط راستوں پر چلنا یہ عین ممکن ہے۔ تو دوسری طرف یہ دستور قدرت بھی ہے کہ جب یہ جبلتیں نفس بشری میں ہیجان برپا کرکے ایمان کی نورانی اور پاکیزہ فضاؤں میں سرکشی اور فتنوں کی تیرگی سے ان کے تکدر اور ظلمت کا باعث بن کر جب ہر سمت محیط ہوجاتی ہیں تو احیائے دین متین کیلئے صلحاء و عرفاء اور اقطاب و ابدال کو پیدا کیا تاکہ وہ اپنے پاکیزہ انفاس و اعمال و مجاہدات اور مزکی اشغال سے ان خرابیوں اور فتنہ سامانیوں کا ازالہ کریں۔

چنانچہ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ چوتھی صدی ہجری کا دور پوری دنیا کے لئے زوال و انحطاط کا دور تھا اگرچہ بظاہر اسلامی سلطنتوں کے اقتدار کا سلسلہ باقی تھا، مگر اندرونی طور پہ حالات نہایت خراب و ناگفتہ بہ تھے۔ سیاسی معاشرتی لحاظ سے ہر جگہ انتشار تھا۔ علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب 'کتاب المتکلم' میں اس وقت کے اسلامی ممالک کے جو حالات تحریر فرمائے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدکاری، فسق و فجور، سیاسی ابتری اور اخلاقی انحطاط انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ چنانچہ ان حالات میں ایک ایسی ہی روحانی قوت کی ضرورت تھی جو تمام طاغوتی طاقتوں کو مغلوب کرکے اپنے عالمگیر اثر کے باعث بنی نوع انسان کو ازسرنو دین اسلام پر قائم کرے اور دین کی تقویت و غلبہ کا موجب ہو۔ جس کی نظر میں تمام کائنات رائی کے دانے کے برابر ہو، جس کا علم علوم الہیہ کا اور جس کی طاقت قادرِ حقیقی کی قدرت کا مظہر ہو، جو سلطان الوقت اور موجب تصرفات مطلقہ ہو۔ جو نوع انسانی کو مادیت کی ذلتوں، نفس پرستیوں اور اخلاقی پستیوں سے نکال کر روحانی بلندیوں اور اخلاقی استواریوں سے روشناس کرائے۔ ان کمالات و تصرفات روحانی کا حامل امت مرحومہ کا یہی بطل جلیل مرد عظیم تھا، جسے قیامت تک دنیا پیران پیر، غوث الاعظم اور محی الدین قادری کے مبارک ناموں سے پکارتی رہے گی۔

بے شک کلید قفل در مدعا ہو تم
اولاد خاص سبط رسول خدا ہو تم

ولادت، تعلیم و تربیت اور ریاضت

470ھ میں حضرت موسی جنگی دوست علیہ الرحمہ کے گھر نومولود کی آمد ہوئی جن کا نام نامی اسم گرامی عبد القادر رکھا گیا اور احیاء ملت و دین کے باعث محی الدین کے لقب سے سربلند ہوئے۔ فرزند سعید نے ابھی زندگی کی چند منزلیں ہی طے کی تھیں کہ زہد والتقاء کے رجل عظیم یعنی والد گرامی حضرت موسی جنگی دوست علیہ الرحمہ کا انتقال ہوگیا اور اس صالح یتیم فرزند کی تعلیم و تربیت کا تمام بوجھ عابدہ صالحہ خاتون ام الخیر فاطمہ علیھا الرحمہ کے کندھوں پر آپڑا۔ ام الخیر نے آپ کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ بغداد کے مدرسہ نظامیہ میں آٹھ سال تعلیم حاصل کرکے علوم حدیث، علوم فقہ، علوم لغت و ادب میں درجہ کمال حاصل کیا۔ علم تصوف میں آپ نے ابوالخیر حماد بن مسلم اور ابو سعید مبارک بن علی مخرمی سے فیض حاصل کیا۔ تقریباً پچیس برس عراق کے ویرانوں اور جنگلوں میں مجاہدے اور ریاضتیں کیں۔

مقامِ غوثیت کا اعلان اور اولیاء کی تسلیم

پھر خواب میں رسول پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ملی ھدایت پر وعظ و ارشاد کا سلسلہ شروع کیا اور ایک دن جمعہ کی نماز میں خطبہ دیتے وقت اچانک آپ پر استغراقی کیفیت طاری ہوگئی اور اسی وقت زبان فیض سے یہ کلمات جاری ہوئے: قدمی ھذا علی رکبة کل ولی اللہ (کہ میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پہ ہے)۔ جب آپ نے اپنی غوثیت کبری کی شان کا اس طرح مظاہرہ کیا تو مجلس میں شریک اپنے دور کے اقطاب و ابدال اور بہت بڑی تعداد میں اولیاء و صلحاء نے اپنی گردنوں کو جھکادیا اور دنیا کے دوسرے علاقوں کے اولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اعلان کو سنا اور اپنے اپنے مقام پر اپنی گردنیں خم کردیں۔ حضرت خواجہ شیخ معین الدین چشتی اجمیری نے گردن خم کرتے ہوئے کہا کہ آقا آپ کا قدم میری گردن پر بھی اور میرے سر پر بھی۔

اکابرینِ امت کی تشریحات اور روحانی کمالات

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ مذکورہ عبارت کی وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے بارے بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ محبوب خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم معراج کیلئے جب تشریف لیجا رہے تھے تو براق پر سوار ہوتے وقت ہمارے پیر حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی روح حاضر ہوئی اور کاندھا شریف کو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر قدم رکھ کر براق پر سوار ہوں۔ تو اس موقع پر آقا کریم مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شہزادے کو نوازا کہ آپ کے کاندھے پر اپنے پائے مبارک کو رکھا اور براق پر سوار ہوئے اور فرمایا کہ میرا پاؤں تیری گردن پر ہے اور تیرا پاؤں سارے ولیوں کی گردن پر ہوگا۔ اعلیٰ حضرت سیدنا خضر علیہ السلام کا قول نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے جس ولی کو کسی مقام تک پہنچایا شیخ عبد القادر جیلانی اس سے اعلی رہے، اور جس مقرب کو کوئی حال عطا کیا شیخ عبدالقادر جیلانی اس سے بالا رہے۔ اللہ رب العزت کے جتنے اولیاء ہوئے اور جتنے ہونگے قیامت تک سب عبد القادر کا ادب کرتے رہیں گے۔ خود آپ کے زمانے کے دو جلیل القدر اور عظیم المرتبت ولی حضرت سیّدی ابو المسعود احمد بن ابو بکر حریمی اور حضرت سید ابو عمر عثمانی صریفی قدس سرھما فرماتے ہیں: خدا کی قسم اللہ تعالٰی نے نہ کوئی ولی ظاہر کیا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے مثل۔

الغرض حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ دنیا کے تمام اولیاء اللہ کے سردار اور نبوت کے بعد ولایت کے اس مقام اقصی پر فائز ہیں جہاں اور کسی کی رسائی ممکن نہیں۔ حضرت شیخ محدث دہلوی علیہ الرحمہ حضور شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی بارگاہ غوثیت ماب میں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی اصل نسبت، نسبت اویسیہ ہے جس میں نسبت سکینہ کی برکات بایں معنی شامل ہیں کہ یہ شخص ذات الہیہ کی ذال کے نقطے کی طرح شخص اکبر میں ارواح کاملہ و ملاء اعلی کے نفوس فکلیہ کی محبت میں محبوب و مراد بن جاتا ہے اور اس مقام محبوبیت کے ذریعے اس ارادہ و توجہ کے بغیر تجلیات الہی میں سے وہ تجلی جو ابدع خلق تدبیر و تدلی کی جامع ہے اس طرح ظہور کرتی ہے کہ جس کے باعث ایسے انوارات کا ظہور ہوتا ہے جن کی انتہا نہیں۔ گویا انتظامی امور کائنات خود بخود ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں، اسی وجہ سے حضرت غوث الاعظم نے کلمات فخریہ فرمائے ہیں اور ان سے تسخیر عالم کا ظہور ہوا ہے۔

اس کی تائید نوافل کی حدیث قدسی کنت لہ سمعا بصرا و یدا و لسانا بی یاخذ و بی یبطش و بی یمشی سے بھی ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ جب سالک اپنی صفات و ذات کو مٹا کر فنا فی الصفات و الذات حق تعالی ہوجاتا ہے تو حق تعالی کی ذات و صفات سے متصف و باقی ہوجاتا ہے، حق تعالی ہی اسکے کان، آنکھ، ہاتھ، زبان بن جاتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ پکڑتا، حملہ کرتا اور چلتا پھرتا ہے۔ یعنی ہر لحاظ سے وہ اللہ تعالی کی صفات اور طاقتوں کا مظہر بن جاتا ہے اور کائنات میں متصرف ہوجاتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!