قرآن وہ زندہ کتاب ہے جس کا محافظ خود خدا ہے قرآنی معجزات

قرآن وہ زندہ کتاب ہے جس کا محافظ خود خدا ہے!
عنوان: قرآن وہ زندہ کتاب ہے جس کا محافظ خود خدا ہے!
تحریر: محمدثاقب نظامی

انسانیت کے لیے خدائے برتر کا عظیم انعام

قرآن مجید پوری انسانیت کےلئے خدائے برتر کا اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی دولت اسکی ہمسری اور اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یقینا یہ کتاب وہ زندہ و جاوید معجزہ ہے جس کی کسی چھوٹی سی آیت کی مثل بھی رہتی دنیا تک کوئی بڑا عالم و ادیب نہ لا سکا ہے اور نہ لاسکےگا۔

وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞ فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَلَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوۡا النَّارَ الَّتِىۡ وَقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ اُعِدَّتۡ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ۞
(اور اگر تم کو اس کتاب (کے کلام الہی ہونے) میں شک ہے ‘ جس کو ہم نے اپنے (محبوب) بندے پر نازل کیا ہے تو اس کی مانند کوئی اور سورت (بنا کر) لے آؤ ‘ اور اللہ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو ‘ اگر تم سچے ہو۔ سو اگر تم نہ کرسکے اور تم ہرگز نہ کرسکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ‘ جس کو کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔)

یہی وجہ ہے کہ اتنی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ہر کوئی طوعا و کرہا اس کی صداقت و حقانیت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

قرآن: ایک نسخہ کیمیا اور فضیلتِ تلاوت

قرآن ہر مسلمان کےلئے صرف ایک کتاب نہیں بلکہ یہ ایک نسخہ کیمیا بھی ہے جس کی تلاوت جس کا دیکھنا جس کا سننا سنانا جس کا سیکھنا سکھانا جس پر عمل کرنا اور جس کی کسی بھی حیثیت سے نشر و اشاعت کی خدمت کرنا دنیا اور آخرت دونوں کی عظیم سعادت ہے۔

صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ ہم صفہ میں تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ روزانہ صبح بطحان کی طرف یا عقیق کی طرف جائے اور وہ وہاں سے بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے آئے؟" ہم نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں"۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی صبح مسجد کی طرف نہیں جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں خود سیکھے یا سکھائے یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین تین سے بہتر ہے اور چار چار سے بہتر ہے اس طرح آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔"

آنحضرت ﷺ نے قرآن مجید کی تلاوت، اس کے معانی کا علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کے جو فضائل بیان فرمائے اور امت کو جس طرح اس کی ترغیب دی، مذکورہ بالا حدیث اس کی صرف ایک مثال ہے۔ احادیث کی کتابوں میں اس قسم کی احادیث بھری پڑی ہیں۔

ایک مکمل ضابطہ حیات

تمام کتب سماوی میں صرف قرآن ہے جو انسان کو مکمل ضابطہ حیات عطا کرتی ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی ایسا پہلو اور کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کےلئے اس میں رہنمائی موجود نہ ہو۔

وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡـكِتٰبَ تِبۡيَانًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ وَّ هُدًى وَّرَحۡمَةً وَّبُشۡرٰى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ ۞
(اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔)

قرآن کی حفاظت کا خدائی وعدہ اور ایک حیرت انگیز واقعہ

یہ واحد کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا تعالٰی نے اپنے ذمے رکھی۔

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ۞
(بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔)

سبحان اللہ! ایسی اس کی حفاظت ہوئی کہ کوئی شخص اس میں زیر و زبر کا فرق نہ کرسکا۔ اس حفاظت کا ذریعہ یہ ہوا کہ قرآن کریم فقط کاغذ پہ ہی نہ رہا بلکہ مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ کیا گیا۔ یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جس کو اول سے آخر تک پورا حفظ کیا جاتا ہے اور ہر دور میں دنیا میں اس کے بیشمار حافظ رہے ہیں۔ اگر کسی مجلس میں کوئی پڑھنے والا کسی سورت یا کسی آیت سے ایک لفظ کم کردے یا اس میں اپنی طرف سے کوئی زیادہ کردے تو اسی مجلس میں لوگ بول اٹھیں گے کہ آپ نے یہ لفظ چھوڑ دیا ہے یا آپ نے جو لفظ پڑھا ہے وہ قرآن مجید کا لفظ نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن مجید کو چھاپے اور اس میں کوئی لفظ کم یا زیادہ کر دے یا کسی نقطہ میں فرق کردے یا کسی زیر زبر میں تغیر کردے تو سینکڑوں آدمی آکر اس غلطی کی نشاندہی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلا مِنْ خَلْفِهِ ۞
(اس قرآن کے پاس باطل نہیں آسکتا نہ اس کے سامنے سے نہ اس کے پیچھے سے۔)

علامہ عبداللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی لکھتے ہیں: کہ جب مامون رشید حکمران تھا تو اس نے ایک علمی مجلس منعقد کی۔ اس مجلس میں ایک یہودی آیا جس نے عمدہ لباس پہنا ہوا تھا اور بہترین خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ اس نے بہت نفیس اور ادیبانہ گفتگو کی۔ جب مجلس ختم ہوگئی تو مامون نے اس کو بلاکر پوچھا: "کیا تم اسرائیلی ہو ؟" اس نے کہا: "ہاں !" مامون رشید نے کہا: "تم مسلمان ہوجاؤ، میں تمہیں بہت انعام واکرام دوں گا اور بہت بڑے منصب پر فائز کروں گا۔" اس نے کہا: "یہ میرا دین ہے اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے" اور یہ کہہ کر چلا گیا۔

پھر ایک سال کے بعد وہ پھر آیا، اس وقت وہ مسلمان ہوچکا تھا۔ اس نے فقہی مسائل پر کلام کیا اور بہت عمدہ بحث کی۔ جب مجلس ختم ہوگئی تو مامون نے اس کو بلاکر پوچھا: "کیا تم پچھلے سال ہماری مجلس میں نہیں تھے؟" اس نے کہا: "کیوں نہیں۔" مامون نے پوچھا: "پھر تمہارے اسلام لانے کا کیا سبب ہے ؟"

اس نے کہا: "جب میں تمہاری مجلس سے اٹھا تو میں سوچا کہ میں ان مذاہب کا امتحان لوں اور آپ نے دیکھا ہے کہ میرا خط (لکھائی) بہت خوبصورت ہے۔ میں نے پہلے تورات کا قصد کیا اور اس کے تین نسخے لکھے اور اس میں اپنی طرف سے کمی بیشی کردی۔ میں یہودیوں کے معبد میں گیا تو انہوں نے تورات کے وہ نسخے مجھ سے خرید لیے۔ پھر میں نے انجیل کا قصد کیا، میں نے اس کے بھی تین نسخے لکھے اور ان میں کمی بیشی کردی۔ پھر عیسائیوں کے گرجے میں گیا تو انہوں نے مجھ سے وہ نسخے خرید لیے۔ پھر میں نے قرآن مجید کا قصد کیا، میں نے اس کے تین نسخے لکھے اور ان میں کمی بیشی کردی۔ پھر میں ان کو فروخت کرنے کے لیے اسلامی کتب خانہ میں گیا اور اس نسخہ کو پیش کیا۔ انہوں نے ان کو پڑھا اور ان کی تحقیق کی اور جب وہ میری کی ہوئی زیادتی اور کمی پر مطلع ہوئے تو انہوں نے وہ نسخے مجھے واپس کردیئے اور ان کو نہیں خریدا۔ اس سے میں نے یہ جان لیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے اور اس میں کوئی تغیر نہیں کیا جاسکتا تو یہ میرے اسلام لانے کا سبب ہے !"

یحییٰ بن اکثم نے کہا یہ خبر سچی ہے اور قرآن مجید میں اس کی تصدیق موجود ہے۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل کی حفاظت ان کے علماء کے سپرد کردی ہے۔ فرمایا:

إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ۞ (المائدہ : ٤٤)
(بیشک ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور ہے جس کے مطابق انبیاء فیصلہ کرتے ہیں جو ہمارے تابع فرمان تھے ان لوگوں کا (فیصلہ کرتے رہے) جو یہودی تھے اور (اسی کے مطابق) اللہ والے اور علماء (فیصلہ کرتے رہے) کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے۔)

اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ یہود اور نصاریٰ کو تورات اور انجیل کا محافظ بنادیا گیا تھا اور قرآن مجید کا محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے جیسا کہ اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ۞ (الحجر : ٩)
(بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔)

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!