| عنوان: | بولنا اس لیے اب پڑا مجھے اور اب چپ رہا نہیں جاتا |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
ظلم کے خلاف صدائے احتجاج
چیخ تب تب نکل ہی آتی ہے درد جب جب سہا نہیں جاتا
بولنا اس لیے اب پڑا مجھ کو اور اب چپ رہا نہیں جاتا
وطنِ عزیز ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں ہر مذہب و ملت کے لوگ رہتے ہیں۔ کہنے کو تو یہاں ہر قوم، ہر مذہب کے ماننے والوں کو پوری آزادی حاصل ہے، لیکن درحقیقت یہاں کمزوروں کو اور کمزور کرنا عام ہو چکا ہے۔ یہاں تعصبیت سر چڑھ کر بولتی ہے، یہاں انصاف کا ہر روز جنازہ نکالا جاتا ہے، یہاں کی عدالتیں وقت کے فرعونوں کی غلامی میں ہیں، یہاں انصاف طلب کرنے والوں کو مجرم سمجھا جاتا ہے اور حق کی آواز بلند کرنے والا باغی کہلاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ یہاں انصاف کے خواستگاروں اور باطل کے خلاف نعرہ بلند کرنے والوں کو زندان کی کالی کوٹھڑی کے علاوہ اور کچھ نہ ملا، اور تو اور حکومتِ وقت نے مجرموں کو آگے بڑھ بڑھ کر گلے لگایا۔
ناانصافی کی مثالیں اور بابری مسجد کی شہادت
یاد کرو کیسا انصاف ملا "جئے شری رام" کے نعرے لگانے والے شرپسندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اس بے قصور اخلاق کو! عدالت نے کیا سزا سنائی ان شرپسندوں کے خلاف اور موجودہ حکومت نے کیا اقدام لیا؟ یہی کہ انہیں باعزت بری کر دیا گیا، موجودہ حکومت نے بڑھ کر گلے لگایا اور ان کی موت پر قومی ترنگا پرچم لگا کر انہیں شہید قرار دیا گیا۔
کیا خوب انصاف ملا بابری مسجد کو! کیسی سزا ملی بابری مسجد کے ملزموں کو! مسلسل چھ سال میڈیا کے توسط سے دنیائے اسلام کو چیلنج کرتے رہے کہ "ہم بابری مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے ہیں، تم سے جو ہو سکے کر لینا"۔ بالآخر وہ دن بھی آ گیا کہ آسمان کی آنکھوں میں خون اتر آیا، زمین بلبلا کر رونے لگی، درخت کے پتے مرجھا گئے، گلستان کے پھول اور کلیوں میں پژمردگی چھا گئی اور مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی ترجمان بابری مسجد شہید کر دی گئی، لیکن عدالت گونگی بہری بنی رہی اور ملزم پوری آزادی کے ساتھ پھرتے رہے۔
موجودہ حالات اور گاندھی جی کا پیغام
اور میں کیا بیان کروں اپنے خوبصورت ہندوستان کی خوبصورتی! یہاں ظلم و استبداد کی آندھیاں امن و آشتی کو خس و خاشاک کی طرح اڑا لے جاتی ہیں۔ آج کے اس سسکتے ماحول اور جان بلب فضا میں سیکولرازم کے تحفظ و بقاء کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں ان شرپسندوں کو بتانا ہوگا کہ جب کوئی قوم خدا کی سرزمین کو فتنہ و فساد سے آلودہ کرنا چاہتی ہے اور وہ عداوت و سرکشی میں حد سے تجاوز کرنے لگتی ہے، تو مالکوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ اسے یکبارگی ہلاک کر دیتا ہے۔
آؤ، گاندھی کے اس دیس میں ہم گاندھی کا پیغام عام کریں۔ گاندھی جی "ہند سوراج" میں لکھتے ہیں:
> "اگر ہندو مانیں کہ سارا ہندوستان صرف ہندوؤں سے بھرا ہونا چاہیے تو یہ ایک نرا خواب ہے۔ مسلمان اگر ایسا مانیں کہ یہاں صرف مسلمان ہی رہیں تو اسے بھی خواب سمجھئے۔ ہندو، مسلم، پارسی، عیسائی جو اس ملک کو اپنا وطن مان کر بس چکے ہیں، ایک مقامی، ایک ملکی ہیں، وہ وطنی بھائی ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے مفاد کے لیے بھی ایک ہو کر رہنا پڑے گا۔"
حقیقی انسانیت اور انقلابی عمل
یقیناً دوسروں کے لیے مرنا اور اپنے لیے کچھ نہ کرنا، زندگی کی ساری دوڑ دھوپ کا مقصد دوسروں کی دنیا و آخرت کی فکر قرار دینا، ہر لمحہ انسانیت کو تباہی کے عذاب سے بچانے کے لیے سرگرداں رہنا اور اپنی زندگی کی قیمت پر دوسروں کی زندگی کا سامان کرنا ایسا زبردست انقلابی عمل ہے جس کی قوتِ تاثیر اور سحر انگیزی کا بیان ممکن نہیں۔
