حبِ مصطفیٰ ﷺ اصل ایمان ہے عقلی اور طبعی محبت کا فرق

حبِ مصطفیٰ ﷺ اصل ایمان ہے
عنوان: حبِ مصطفیٰ ﷺ اصل ایمان ہے
تحریر: محمدثاقب نظامی

حبِ رسول ﷺ اور ایمانِ کامل کی شرائط

ہر کلمہ گو کی زندگی کا مبارک ترین عمل یہ ہے کہ وہ تحفظ ناموس رسالتﷺ کے لیے اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کرنے میں دریغ نہ کرے، کیوں کہ صداقت پر ایمان رکھنے اور تمام ارکان اسلام کی پابندی کے ساتھ ساتھ حبِ مصطفٰی ﷺ گر تمام محبتوں پہ غالب نہیں تو ایمان کامل نہیں۔ محبوب خدا علیہ السلام کا فرمان عالیشان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ پتہ یہ چلا کہ حبِ مصطفی ﷺ عین اسلام اور اصل ایمان ہے، اور محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ تم محبوب کی آن بان شان کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے میں دریغ نہ کرو۔ اگر محبوب کے ناموس سے تمہیں تمہاری اولاد، اموال یا جان عزیز ہے تو تمہاری محبت کامل محبت نہیں یا محبت کا دعویٰ فقط دعوٰی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اعلان کرتا ہے:

"اے محبوب آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ دادا اور تمہارے بیٹے بیٹیاں اور تمہارے بھائی بہنیں اور تمہاری بیویاں اور تمہارے دیگر رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے محنت سے کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حُکمِ عذاب لے آئے- اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔"

اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ مبارکہ میں مسلمانوں پر یہ واجب کیا ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مال و دولت، اپنے مکانوں بلکہ خود اپنی جانوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو محبوب رکھیں، اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت میں اپنے وطن سے ہجرت کریں اور اللہ کی راہ میں اپنے تن من دھن کی بازی لگا دیں۔ یعنی اگر آپ ﷺ کی کسی ہدایت اور کسی شرعی احکام کی تعمیل میں کوئی خونی رشتہ یا اولاد کی محبت رکاوٹ ڈالے تو اس ہدایتِ مصطفٰی ﷺ اور شرعی حکم کو پورا کرنے کے لیے اس خونی رشتہ اور طبعی محبت کو یکسر نظر انداز کر دینے کا جذبہِ صادق ہی ایمان کامل ہے اور یہ جذبہِ صادق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسلام اور حبِ رسول ﷺ کا دعوٰی کرنے والا اپنے نفس کو احکام شریعت اور ذات رسالت ﷺ میں فنا کر دے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا و خوشنودی کے علاوہ اس کا اور کوئی مقصد حیات نہ ہو۔

محبت مصطفی ﷺ عقلی محبت ہے

اہل علم حضرات کا کہنا ہے کہ محبت دو طرح کی ہوتی ہے: ایک محبت تو طبعی ہوتی ہے جیسے اولاد اور باپ کی محبت یا باپ اور اولاد کی محبت، اس محبت کی بنیاد طبعی وابستگی اور فطری تقاضے پر ہوتی ہے، اس میں عقل کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف ایک محبت عقلی ہوتی ہے جیسے مریض اور دوا یعنی بیمار دوا کو اس لیے پسند نہیں کرتا کہ دوا لینا اس کا طبعی یا فطری تقاضہ ہے، بلکہ یہ دراصل عقل کا تقاضہ ہوتا ہے کہ اگر بیماری ختم کرنا ہے اور صحت عزیز ہے تو دوا استعمال کرنی ہوگی، خواہ اس دوا کی تلخی اور کڑواہٹ طبیعت پر کتنی ہی گراں کیوں نہ گزرے۔ عقلی محبت بعض حالات میں اتنی شدید، اتنی گہری اور اتنی اہم بن جاتی ہے کہ بڑی سے بڑی طبعی محبت اور بڑے سے بڑے فطری تقاضے پہ بھی غالب آ جاتی ہے۔

ٹھیک اسی طرح ذات رسالت ﷺ سے محبت بھی عقلی محبت ہے لیکن کمال ایمان و یقین کی بنا پر یہ عقلی محبت اتنی پر اثر اور اس قدر جذباتی ہو جاتی ہے کہ بڑی سے بڑی طبعی محبت پہ غالب آ جاتی ہے۔ تاریخ پہ نظر ڈالیں تو یہ نقطہ سمجھ پانا ممکن ہے۔ فرمانِ مصطفی ﷺ جاری ہوتا ہے، صف آرائی ہوتی ہے، آج حق و باطل کے درمیان فیصلے کا دن ہے، آج کا دن یوم فرقان ہے۔ جنگ شروع ہوتی ہے، جنگ کے دوران حضرت عبد الرحمن کو اپنے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سامنا ہوتا ہے، چاہا کہ اپنے مخالف باپ کا سر قلم کر دے، تلوار کھینچی لیکن طبعی محبت نے ہاتھ روک دیا، دل گوارا نہ کیا کہ ان کی تلوار ان کے باپ کے خون سے رنگ جائے، لیکن عقلی محبت جب غالب آئی تو باپ، بھائی، شوہر جیسی عظیم ہستیوں کی شہادت کی خبر ایک انصاری بی بی کو پریشان نہ کر سکی۔ بس وہ بے قرار تھیں کہ میرے حبیب کیسے ہیں! باری باری ان تینوں سخت حادثوں کی آواز ان کے کانوں میں پڑتی رہی لیکن وہ ہر بار یہی پوچھتی رہیں کہ ہمارے رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟ جب جواب ملا خیریت سے ہیں، لیکن دل کو قرار نہ ہوا تو بارگاہ رسالت میں تشریف لائیں اور چہرہِ انور کا دیدار فرما کر پکار اٹھیں: "خدا کی قسم آپ ﷺ خیریت سے ہیں تو اور ساری مصیبتیں کچھ بھی نہیں۔"

بہر حال تکمیل ایمان کا مدار حبِ رسول ﷺ پر ہے۔ جس شخص میں ذات رسالت سے اس درجہ کی محبت نہ ہو کہ اس کے مقابلہ پر دنیا کے بڑے سے بڑے تعلق اور بڑی سے بڑی چیز کی محبت و چاہت بھی بے معنی ہو وہ کامل مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ زبان اور قول سے وہ اپنے ایمان و اسلام کا کتنا ہی بڑا مدعی کیوں نہ ہو۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ ایمان کی سلامتی اور اپنے اسلام میں مضبوطی پیدا کرنا چاہتا ہے تو نبی کریم ﷺ کی محبت و عقیدت سے اپنے دل کو معمور کرے اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے ہی کو مدارِ نجات جانے، کہ رسول ﷺ سے محبت کا معیار اتباع شریعت اور اتباع رسول ہے، جو شخص شریعت مصطفی ﷺ پر عمل نہیں کرتا اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر نہیں چلتا، گویا وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ نعوذ باللہ اسے حضور ﷺ سے محبت نہیں اور دین اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔

اللہ ہم سب کے قلوب کو حبِ مُصطفٰی ﷺ سے سرشار فرمائے، آمین….!!!

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!