| عنوان: | برہان ملت علامہ مفتی عبد الباقی جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
واقعہ دعائے مجذوب و عطائے القاب
مزید ایک اور موقع پر امام اہل سنت نے آپ کو ایسے رفعت والے القاب سے یاد فرمایا جس کا پس منظر خود برہان ملت رحمہ اللہ اس طرح رقم فرماتے ہیں:
”ایک روز اعلیٰ حضرت نے والد ماجد سے فرمایا: ”آج عصر کے بعد ایک مجذوب بزرگ کی زیارت کے لیے باندرا چلنا ہے، واپسی پر (نماز) مغرب مہائم شریف میں ادا کر کے دعوت ہے، آپ عصر کے پہلے آجائیں“ ہم لوگ حسب ارشاد عصر کے وقت حاضر ہو گئے اور اعلیٰ حضرت کے ساتھ باندرا پہنچے، مسجد کے مشرق کی جانب ایک ٹین کے ہال کے باہر بڑا مجمع تھا، اعلیٰ حضرت کو دیکھ کر مجمع نے راستہ دیا، حضرت کے پیچھے ہم لوگ ہال میں داخل ہوئے، تخت پر ایک بزرگ عمامہ باندھے، پیر تخت سے لڑکائے بیٹھے ہیں، دلائل الخیرات شریف دونوں ہاتھ سے آنکھوں کے بالکل متصل پڑھنے میں مصروف ہیں، اعلیٰ حضرت کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کتاب بند کر دی، اعلیٰ حضرت سے مصافحہ کرتے ہوئے کچھ فرمایا جو میں سمجھ نہ سکا، ہم سب قدم بوسی کر چکے تھے تو ہم سب کو ایک بڑے ہال میں بٹھایا گیا، پورا ہال بھرا ہوا تھا، چند منٹ بعد وہاں کے منتظم خاص حاجی قاسم آئے، اعلیٰ حضرت سے عرض کیا: ”جولوگ مجذوب صاحب کی زیارت کو آتے ہیں، ان کے لیے چائے، کافی، قہوہ تیار رہتا ہے، حضرت جو فرماتے ہیں، پلایا جاتا ہے، آپ حضرات کے لیے دریافت کیا گیا تو فرمایا: ”چائے، کافی، قہوہ میں سے جو حضور فرمائیں وہ اس وقت پلایا جائے“... اعلیٰ حضرت نے فرمایا: بزرگ نے چائے، کافی، قہوہ تینوں کا نام لیا ہے اس لیے تینوں کو ملا کر پلایا جائے، چناں چہ ایک بڑے سماوار میں تینوں کو ملا کر پلایا گیا، ان دنوں بڑے پیالے چلتے تھے، بھر بھر دیے گئے، رنگ دیکھا تو کراہت ہوئی مگر لب سے لگایا تو اتنا لذيذ پایا کہ پورا پیالہ صاف کر دیا۔
والد ماجد نے مجھے آہستہ سے ہدایت فرمائی کہ واپسی کے وقت حضرت کے پیچھے رہنا اور بزرگ کی قدم بوسی کر کے اپنے لیے دعا کی درخواست کرنا... واپسی کے وقت میں اعلیٰ حضرت کے پیچھے رہا، جب حضرت مصافحہ کر کے آگے بڑھے، میں نے ان کے قدم پکڑ کر عرض کیا: ”میرے لیے دعائے خیر فرمائیے“... بزرگ نے میری پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا، سندھی الفاظ تھے اور اعلیٰ حضرت کی طرف اشارہ کیا:
”اس کے پیچھے چلتا جا، تیرے پیچھے سب چلیں گے“۔
ہم جب واپسی کے لیے گاڑی پر سوار ہوئے، میں، اعلیٰ حضرت اور والد ماجد کے درمیان بیٹھا تھا، اعلیٰ حضرت نے مجھ سے فرمایا: ”برہان میاں! آپ نے مجذوب سے کیا کہا تھا؟“... میں نے جو کہا تھا، اور اس کا جواب بتایا، اعلیٰ حضرت نے میری پیٹھ پر دست مبارک پھیرتے ہوئے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ تمہیں برہان الحق، برہان الدین، برہان السنت بناۓ، آمین“۔ والد اور چچانے آمین کہا“۔ (ایضاً، ص: ۸۹ تا ۹۰)
ناصر الدین المبین، کاسر رؤس المفسدین
امام اہل سنت نے حضور برہان ملت کو جبل پور میں خلافت کی دولت سے سرفراز فرمایا اور سند خلافت میں آپ کے نام کے ساتھ جن القاب کا اضافہ فرمایا اس کو بیان کرتے ہوئے برہان ملت اپنے قلم کو یوں حرکت دیتے ہیں:
”جبل پور میں اعلیٰ حضرت نے دستار فضیلت و سند اجازت کے ساتھ ساتھ سند خلافت سے بھی نوازا، یہ عربی سند ضروری ترمیم و اضافے کے ساتھ دوسرے خلفاے عرب و عجم کو بھی عنایت فرمائی، خادم برہان کو جو سند عطا فرمائی، اس میں اپنے دست مبارک سے یہ کلمات تحریر فرمائے:
”یا ولدی و برد کبدی و قرة عینی و عزۃ زینی ابن الفاضل الحامل جامع الفضائل جامع الرذائل مولانا المولوی عبدالسلام وقد لقبته عید الاسلام جعلک اللہ کاسمک برہان الحق المبین وناصر الدين المبین و کاسر رؤس المفسدین۔ آمین“۔“ (ایضاً، ص: ۸۰)
فرزند دل بند سعادت مند
برہان ملت کا ایک رسالہ اجلال الیقین بتقديس سيد المرسلین (۱۳۳۷ھ) اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے درج ذیل تقریظ تحریر فرمائی جو رسالہ کے لیے ایک نہایت مستحکم سند ہے۔ اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں:
”الحمد للہ! فقیر غفرلہ القدیر اس تالیف منیف و ترصیف نظیف کے مطالعہ سے مسرور ہوا، مولیٰ عزوجل اس کے مولف سعید حمید رشید فرزند دل بند سعادت مند مولانا مولوی برهان الحق جعله الله تعالى كاسمه دليل الصدق وبرهان الحق کو دارین میں مدارج عالیہ و معارج جلیلہ کرامت فرمائے۔“ (ایضاً، ص: ۸۲)
نور بصری و ثمرہ فوادی
رجب المرجب ۱۳۳۳ھ میں سفر جبل پور سے واپسی کے بعد امام اہل سنت نے مولانا عبد السلام جبل پوری کو اپنے ایک مکتوب لکھا جس میں برہان ملت کو اس انداز میں یاد فرمایا:
”نور بصری و ثمرہ فوادی مولانا برہان میاں، عزیزه سعیده ہمیشرہ کی شادی کب ہے؟ کیا تاریخ مقرر ہوئی، شہر ہی میں ہے یا دوسری جگہ؟“۔
مفتی شرع
حضرت برہان ملت کے فقہ و فتاویٰ میں گہری نظر کے سبب امام احمد رضا نے آپ کو ”مفتی شرع“ کے منصب جلیلہ پر فائز فرمایا۔ سنیے برہان ملت خود فرماتے ہیں:
”اس (حضور صدر الشریعہ کو قاضی شرع کا اختیار دینے) کے بعد حضور (امام اہل سنت) نے اس خادم برہان کو بلایا اور اپنے دست مبارک میں میرا داہنا ہاتھ لے کر اس مسند پر صدر الشریعہ کے متصل بٹھا کر مجھ سے فرمایا: ”میں نے تمھارے فتویٰ کو دیکھا، افتا کے لیے تمھارے دماغ کو بہت مستعد پایا، میں تمہیں مسند افتا پر بٹھا کر دار القضا شرعی کے لیے مفتی مقرر کرتا ہوں“۔ اس کے بعد حضرت مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ کو اپنے دست میں لے کر میرے پہلو میں بٹھایا اور یہی کلمات جو مجھ سے فرمائے تھے؛ ان سے فرما کر ہم دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دار القضا شرعی کے لیے قاضی شرع مولانا امجد علی کو اور آپ دونوں کو ان کی اعانت اور فتویٰ دینے کی اجازت دیتا ہوں۔ آج سے تم دونوں ہندوستان کے دار القضا شرعی مرکزی بریلی میں مفتی شرع کی حیثیت سے مقرر کیے جاتے ہو۔“ (تذکرہ اعلیٰ حضرت بزبان صدر شریعت از محمد عطاء الرحمن، ص: ۷۲)
(امام احمد رضا اور القاب نوازی|صفحات ۱۸۸ تا ۱۹۴)
