| عنوان: | برہان ملت علامہ مفتی عبد الباقی جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نام و نسب
آپ کا اسم گرامی عبد الباقی، برہان الحق، لقب برہان ملت، برہان الدین، برہان السنۃ، خلیفہ اعلیٰ حضرت، ممدوح اعلیٰ حضرت، مظہر شریعت اور سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عبید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الكريم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحيم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفنی رحمہم اللہ۔ آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ہے۔
تاریخ ولادت
آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعرات ۲۱ ربیع الاول ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۳ اکتوبر ۱۸۹۲ء کو بعد نماز فجر ہوئی۔ آپ کے جد امجد مولانا شاہ محمد عبد الكريم نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نماز فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ جب برہان ملت کی دادی محترمہ نے ولادت کی خبر سنائی تو اس وقت آیت کریمہ "قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَّبِّكُمْ" جاری زبان تھی۔ خبر سنتے ہی فرمایا کہ "الحمد للہ! برہان آگیا"۔ (برہان ملت کی حیات و خدمات: ۴۲)
تعلیم و تربیت
حضرت عبید الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ہونہار لخت جگر کی تعلیم و تربیت کا انتظام فرمایا، حضرت برہان ملت تحریر فرماتے ہیں: ’’میں جب پانچ سال کا ہوا، ۲۱ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ کو حضرت جد امجد نے بسم اللہ شریف کی ابتدا فرمائی، مبارک دعاؤوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مجھے پڑھایا، یہ میری ابتدائی عمر کی داستان تھی‘‘۔
آپ نے اپنے آبائی مکان جبل پور ہی میں رہ کر ناظرہ سے لے کر درس نظامیہ کا کورس مکمل کر لیا تھا۔ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے تاجدار علم و فن محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہِ عالی میں حاضر ہوئے، آپ خود بیان کرتے ہیں: ’’دورانِ قیامِ بریلی والد صاحب نے مجھے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں تربیت، اکتسابِ فیض و تہذیب اور تکمیلِ علومِ ظاہری و باطنی و روحانی کے لیے بھیجنے کی اجازت چاہی، ہم دو ہفتہ بریلی شریف رہ کر چلے آئے۔ پھر میں شوال ۱۳۳۲ھ کے دوسرے ہفتہ میں بریلی شریف حاضر ہو گیا، وقت ملتا تو دار العلوم منظر اسلام میں صدر مدرس مولانا ظہور الحسن صاحب رام پوری کے پاس بھی درس میں شریک ہوتا۔‘‘
حضرت برہان ملت ظلہ العالی کم وبیش تین سال اعلیٰ حضرت کی خدمت میں رہ کر تمام علوم و فنون اور فتویٰ نویسی میں مشق و مہارت پیدا کر لی، آپ کو فقہ و فتاویٰ میں اس قدر مہارت تھی کہ حضرت محدث بریلوی بھی آپ کے فقہ و افتا پر کامل اعتماد کیا کرنے لگے۔ جب مجدد اعظم کو غیر منقسم ہندوستان کے لیے قاضی شرع ومفتی شرع کی تقرری کرنا ہوئی تو حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو قاضی اور حضور مفتی اعظم و حضور برہان ملت رحمۃ اللہ علیہا کو ان کا معاون مفتی مقرر فرمایا۔
آپ بارگاہِ اعلیٰ حضرت سے تفسیر و حدیث اور فقہ کی سند و اجازت سے سرفراز کیے گئے۔ علاوہ ازیں بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں علمِ ہندسہ، ہیئت، زیجات، جبر و مقابلہ، توقیت بالخصوص حاصل کیا۔
بیعت و خلافت
۱۳۳۵ھ میں سیدنا اعلیٰ حضرت کے دستِ اقدس پر سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں داخل سلسلہ ہوئے اور ٹھیک دو سال پر ۲۶ جمادی الآخرة ۱۳۳۷ھ جبل پور میں عید گاہ کلاں کے جلسہ عام میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے آپ کو ۴۵ علوم اور سلسلوں کی اجازت مرحمت فرمائی۔
تصنیف و تالیف
حضرت برہان ملت کی جملہ تصانیف کی تعداد ۲۶ ہے اور ۹ خطبے، جو ملک کی مختلف کانفرنسوں کے لیے بحیثیت صدر و سرپرست تحریر فرمائے، المواہب الربانیہ بالفتاوى الاسلامیہ والبرھانیہ کے نام سے فتاویٰ کی ضخیم ضمیمہ ۱۹ جلدیں جو کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں، بعض فتاویٰ تو اتنے اہم اور تفصیلی ہیں کہ ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے۔
چند تصانیف کے اسما یہ ہیں:
- قیامت کبریٰ
- اجلال الیقین
- سوافلوہابیت کی تصویر
- المسلک المظہر فی تحقیق آزر
- اکرام امام احمد رضا
- صیانة الصلوات عن حیل البدعات
- حیات اعلیٰ حضرت کا ایک ورق
- سوانح امام دین مجدد مأۃ حاضرہ
- اکرامات مجدد اعظم
- نیر جلال مجدد اعظم
- حالات ارتقا عيد الاسلام
- مسئلہ گائے قربانی
- چاند کی شرعی حیثیت
- زبدة الاصفيا صدر الشريعة مولانا امجد علی
- حیات حضرت مولانا عبد الكريم
- المواہب الربانيه بالفتاوى الاسلامیه والبرهانيه (۱۹ جلدیں)
وصال مبارک
حضرت برہان ملت شاہ مفتی عبد الباقی قادری رضوی سلامی کا وصال مبارک ۲۶ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ / ۲۰ دسمبر ۱۹۸۳ء شب جمعہ شام سوا چھ بجے ہوا، آپ کی آخری زیارت کے لیے ۳۹ گھنٹہ جسد خاکی رکھا رہا، ۲۸ ربیع الاول / ۲۲ دسمبر کو سوا بارہ بجے تقریباً ایک لاکھ کے مجمع نے نماز جنازہ ادا کی، آپ کی نماز جنازہ آپ کے شہزادہ حضرت مفتی محمود قادری رضوی سلامی نے پڑھائی، دادا جان حضرت شاہ عبد الكريم قادری نقش بندی کے پہلو میں سپر د خاک کیا گیا۔ (برہان ملت حیات و خدمات)
القابات و خطابات
- قرۃ العین
- نور عینی
- درۃ زینی
- روحانی ولد اعز
- برہان الدین
- برہان الملة
- برہان السنۃ
- برہان الحق المبین
- ناصر الدين المبین
- كاسر رؤس المفسدين
- فرزند دل بند سعادت مند
- نور بصری و ثمرہ فوادی
- مفتی شرع
حضرت علامہ عبد الباقی رضوی معروف بہ برہان ملت رحمۃ اللہ علیہ کو امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں کس قدر قرب حاصل تھا اس کے لیے یہی کافی ہے کہ امام اہل سنت نے آپ کو جہاں دیگر القاب سے یاد فرمائے وہیں ”روحانی ولد اعز“ بھی فرمایا۔ علاوہ ازیں امام احمد رضا نے آپ کو مرکزی دار الافتا کا مفتی شرع بھی مقرر فرمایا۔ آپ نے اپنے اس لائق وفائق روحانی بیٹے کو مزید جو القاب عطا فرمائے اس کی تفصیل یہ ہے:
قرۃ العین
۴/ جمادی الاولی ۱۳۳۵ھ کو امام اہل سنت نے اپنے ایک مکتوب میں آپ کے تعلق سے تحریر فرمایا:
”اس وقت نامہ ملا، مولیٰ عزوجل قرة العين مولوی برہان میاں سلمہ کو بفضلہ و کرمہ نعم البد ل ولد صالح عالم با عمل عطا فرمائے اور ان کے گھر شفا، آمین آمین“۔ (اکرام امام احمد رضا، ص: ۷۴)
نور عینی و درۃ زینی
ایک اور خط میں آپ کو امام اہل سنت نے جن پیار بھرے الفاظ سے خطاب فرمایا ذرا اسے دیکھیے:
”بملاحظہ مولانا المجل المكرم ذی المجد والكرم والفضل الا تم حامی السنن ماهی الفتن عبید الاسلام و نور عینی و درة زینی مولوی برہان الحق و حافظ صاحب مکرم کرم فرمائے“۔ راقم (ایضاً، ص: ۷۶)
برہان الدین، برہان الملة، برہان السنۃ
ان با عظمت القاب سے آپ کب یاد کیے گئے اس کا مکمل واقعہ یہ ہے:
”جمادی الآخرة ۱۳۳۷ھ مطابق ۲۹ مارچ ۱۹۱۹ء سنیچر کو بعد عشا عید گاہ کلاں میں عام جلسہ ہوا، تین چار ہزار کا مجمع تھا، مولانا عبد الاحد صاحب پھر حجتہ الاسلام مولانا حامد رضا خاں صاحب نے تقریر فرمائی پھر امام اہل سنت کی تقریر ہوئی، اسی موقع پر برہان ملت کو اجازت و خلافت عطا فرمائی اور آپ کے حق میں یوں دعا گو ہوئے:
’رب العزت تبارک و تعالی میرے روحانی ولد اعز کو ان کے برہان الحق کے ساتھ، برہان الدین، برہان الملة، برہان السنۃ بنائے اور حضرت عبید الاسلام کے ظل رحمت و عاطفت کے تحت دین متین و شرع مبین کی خدمت و حمایت پر ثابت قدم رکھے، میں یہ رسم بریلی میں منظر اسلام کے سالانہ اجلاس میں انجام دینے والا تھا مگر حسن اتفاق کہ جبل پور میں آپ حضرات کے درمیان موقع مل گیا، بارک اللہ!‘“ (ایضاً، ص: ۷۹)
