جشن عید میلاد النبی ﷺ منانے کا مسنون طریقہ|محمد عارف رضا قادری امجدی

جشن عید میلاد النبی ﷺ منانے کا مسنون طریقہ
عنوان: جشن عید میلاد النبی ﷺ منانے کا مسنون طریقہ
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

ماہِ ربیع الاول کی فضیلت

ماہِ ربیع الاول کو سال کے تمام مہینوں میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اس ماہِ مبارک کی بارہ تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنے محبوب حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ کے ذریعے کفر و شرک اور جہالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور فرما کر دنیا کو نورِ ایمان سے منور فرما دیا۔ آپ ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور ہر قسم کے ظلم و ستم کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ فرما دیا، بیٹیوں، عورتوں اور یتیم بچوں کے لیے رحمت ثابت ہوئے اور پوری دنیا کو صلہ رحمی، باہم محبت و مودت اور اخوت و بھائی چارگی کے ساتھ رہنے کا درس عطا فرمایا۔

میلاد کے جلوس اور ہماری اصلاح

ہمارے مسلم معاشرے میں یومِ ولادت کے موقع پر جلوس تو بڑی دھوم دھام سے نکالے جاتے ہیں، جو کہ محبت کے اظہار کا ایک نمایاں طریقہ ہے، لیکن ان جلوسوں میں ہمارے نوجوان لڑکوں کی غیر شرعی حرکتوں کو دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا کہ وہ جلوسِ محمدی میں شرکت کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، بلکہ ان کی اچھل کود، نازیبا حرکات اور بے جا شور و غل سے قومِ مسلم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جلوسِ میلاد میں ادب، وقار، شریعت کی پابندی اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق شرکت کریں تاکہ محبتِ رسول ﷺ کا صحیح اظہار ہو سکے۔

اپنی عبادتوں میں اضافہ کریں

یومِ ولادت کی اپنی الگ برکتیں ہیں۔ حدیثوں سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ حضور ﷺ کے معمولات میں سے تھا کہ آپ ہفتے میں ہر سوموار (پیر) کو روزہ رکھتے تھے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن سے میرے اوپر وحی نازل ہوئی۔“ [صحیح مسلم، کتاب الصیام، 1/368]

اس حدیثِ پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی پیدائش کو یادگار کے طور پر منایا اور اس یادگار کو باقی رکھنے کے لیے پیر کے دن آپ خود روزہ رکھتے تھے۔ اس سے ہمیں آپ کی پیدائش کے دن خوشی منانے کا ثبوت ملتا ہے۔ جب ہم آپ کی پیدائش کی خوشی ہر ہفتے روزہ رکھ کر منا سکتے ہیں، تو سال میں ایک بار تو بدرجہِ اولیٰ منا سکتے ہیں۔

اعتراضات اور ان کے جوابات

بعض احباب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ولادت کی خوشی صرف پیر کے دن روزہ رکھ کر منائی، لہٰذا میلاد صرف اسی طریقے سے منایا جانا چاہیے۔ اس کے جواب میں چند اہم نکات پیش ہیں:

  1. نبی کریم ﷺ کا فرمان:

    حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: «ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ» [مسلم، حدیث: 1162] یعنی ”یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی ولادت پر شکرانے کے طور پر روزہ رکھا۔

  2. قرآن کی روشنی میں:

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ﴾ [ابراہیم: 5] یعنی ”لوگوں کو اللہ کی نعمتوں والے دن یاد دلاؤ۔“ ولادتِ رسول ﷺ تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے، لہٰذا اس دن کو یاد کرنا اور اس پر خوشی منانا قرآن کے حکم کے عین مطابق ہے۔

  3. نبیوں کا شکر ادا کرنے کا طریقہ:

    قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا مذکور ہے: ﴿وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ﴾ [مریم: 31] یعنی ”اللہ نے مجھے جہاں بھی رکھا بابرکت بنایا۔“ حضور ﷺ کی ولادت سراپا برکت ہے اور اس کی یاد منانا برکت کا اظہار ہے۔

  4. صحابہ کرام و سلف کا طریقہ:

    نبی کریم ﷺ نے ہجرت کی خوشی میں مدینہ پہنچ کر عید جیسا اجتماع فرمایا، انصار و مہاجرین کے بچوں نے دف بجائے اور اشعار پڑھے: طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا...۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب کسی خوشی پر جمع ہوتے تو ذکر و دعا اور کھانے تقسیم کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ]

  5. وسعتِ شریعت:

    اگر ولادت کی خوشی صرف روزے تک محدود ہوتی تو حضور ﷺ منع فرما دیتے کہ ”اس کے علاوہ نہ کرو۔“ لیکن شریعت نے عمومی اصول دیا ہے کہ جائز طریقوں سے خوشی کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔

میلاد شریف منانے کا قرآنی و حدیثی ثبوت

میلاد کا جواز بکثرت آیات، احادیث اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے۔ اگرچہ جواز کے لیے یہ دلیل بھی کافی ہے کہ اس کی ممانعت شرع سے ثابت نہیں ہے اور جس کام سے اللہ تعالیٰ اور رسولِ پاک ﷺ نے منع نہیں فرمایا وہ کسی کے منع کرنے سے ممنوع نہیں ہو سکتا۔

قرآنِ مجید کا فرمان ہے: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ [یونس: 58] ”فرما دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہو، بس اسی پر خوش ہونا بہتر ہے۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ فضل و رحمت پر خوشی کرنی چاہیے، لہٰذا مسلمان حضورِ انور، شافعِ محشر ﷺ کو فضل و رحمت جان کر آپ ﷺ کا ذکر کر کے خوشی مناتے ہیں اور یہ حکمِ الٰہی ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ [الضحیٰ: 11] ”اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔“ نبی کریم، رؤف و رحیم، حلیم و کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہیں اور نعمتِ الٰہی کا چرچا کرنا حکمِ خداوندی ہے۔ لہٰذا مسلمان حبیبِ اکرم، نورِ مجسم ﷺ کو نعمتِ الٰہی سمجھتے ہوئے محفلِ میلاد کی صورت میں اس کا چرچا کرتے ہیں۔ سب سے بڑی رحمت تو رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ [الأنبياء: 107]

ابولہب کے واقعے سے استدلال

بخاری شریف میں ہے: ”حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ ثویبہ ابولہب کی باندی تھی جسے اس نے (حضور ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں) آزاد کر دیا تھا۔ اس نے حضور ﷺ کو دودھ بھی پلایا۔ ابولہب کے مرنے کے بعد اس کے بعض اہلِ خانہ (حضرت عباس رضی اللہ عنہ) نے اسے بہت بری حالت میں خواب میں دیکھا اور اس سے پوچھا مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابولہب نے کہا: تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں اس لیے کہ میں نے (حضور ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں) ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔“ [صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5101 / عمدۃ القاری، 14/44-45، تحت الحدیث: 1501]

امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ابنِ جزری نے کہا: شبِ میلاد کی خوشی کی وجہ سے جب ابولہب جیسے کافر کا یہ حال ہے کہ اس کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے حالانکہ ابولہب ایسا کافر ہے جس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور ﷺ کے امتی مومن و موحد کا کیا حال ہوگا جو حضور ﷺ کی محبت کی وجہ سے اپنی قدرت اور طاقت کے موافق خرچ کرتا ہے۔ قسم ہے میری عمر کی! اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضلِ عمیم سے جناتِ نعیم میں داخل کرے۔“ [المواہب اللدنیۃ، ذکر رضاعہ، 1/78]

کیا حضور ﷺ کی ذات سے ولادت کی خوشی کا ثبوت ملتا ہے؟ خود نبی کریم ﷺ نے اپنی ولادت کی خوشی منائی جیسا کہ امام مسلم، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ سے پیر شریف کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ (اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔)“ [صحیح مسلم، کتاب الصیام، ص: 591، حدیث: 1162]

نتیجہ

پیر کا روزہ رکھنا میلاد کا ایک طریقہ ہے، مگر شریعت نے خوشی کے دیگر طریقے بھی جائز رکھے ہیں جیسے ذکرِ رسول ﷺ، درود و سلام، نعت خوانی، صدقہ و خیرات اور اجتماعِ ذکر۔ میلاد النبی ﷺ کی محافل انہی اعمال کا مجموعہ ہیں جو قرآن و سنت کی اصل سے ثابت ہیں۔ اس لیے میلاد منانے والوں کو محدود کرنے کے بجائے اسے وسعت کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ مقصد ولادتِ رسول ﷺ کی خوشی ہے، اور خوشی کے مختلف جائز طریقے امت کے لیے باعثِ خیر ہیں۔

نیز میلاد منانا آج کی ایجاد نہیں مسلمان صدیوں سے میلاد مناتے آئے ہیں، چنانچہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ برہان الدین حلبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”مسلمان تمام مقامات اور بڑے بڑے شہروں میں ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی ولادت کے مہینے میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔“ [سائل میلاد مصطفےٰ، ص: 26]

حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولا کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے

خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے

ذکرِ سرکارِ دو عالم دل میں بساتے جائیں گے
عارفؔ ہم دنیا کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ سکھاتے جائیں گے

اللہ تعالیٰ ہمیں میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی برکتوں سے مالا مال فرمائے، ہمارے ایمان کو مضبوط کرے اور خاتمہ ایمان پر نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!