طالبِ علم اور اس کی فضیلت (قسط: چہارم)

طالبِ علم اور اس کی فضیلت (قسط: چہارم)
عنوان: طالبِ علم اور اس کی فضیلت (قسط: چہارم)
تحریر: حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

مَعَ الْأَنْبِيَاءِ بِغَيْرِ حِسَابٍ [رواه الرافعي - کنز العمال، ج ۱۰، ص ۹۱]

کے ساتھ بے حساب جنت میں داخل ہونگے۔

(گزشتہ قسط کے آخری حصے کا بقیہ)

۲۸۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے:

مَنْ كَانَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ كَانَتِ الْجَنَّةُ فِي طَلَبِهِ، وَ مَنْ كَانَ فِي طَلَبِ الْمَعْصِيَةِ كَانَتِ النَّارُ فِي طَلَبِهِ [رواه ابن النجار - کنز العمال، ج ۱۰، ص ۹۲]

جو شخص علم کی تلاش میں ہوگا جنت اس کی تلاش میں ہوگی۔ اور جو شخص گناہ کی کھوج میں ہوگا جہنم اس کی کھوج میں ہوگی۔

۲۹۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

مَنْ لَّمْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ صَغِيرًا فَطَلَبَهُ كَبِيرًا فَمَاتَ مَاتَ شَهِيْدًا [رواه ابن النجار - کنز العمال، ج ۱۰، ص ۹۲]

جس نے بچپن میں علم نہیں حاصل کیا تو بڑی عمر کا ہو کر اس کو حاصل کیا پھر مر گیا تو وہ شہید مرا۔

۳۰۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

إِذَا تَعَلَّمْتَ بَابًا مِّنَ الْعِلْمِ خَيْرٌ لَّكَ مِنْ اَنْ تُصَلِّىَ أَلْفَ رَكْعَةٍ تَطَوُّعًا مُتَقَبَّلَةً [رواه الديلمی - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۹۳]

جب کہ تو علم کا ایک حصہ سیکھے یہ تیرے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ ہزار رکعت نفل نماز پڑھے جو مقبول ہوں۔

۳۱۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَّنْظُرَ إِلَى عُتَقَاءِ اللَّهِ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرُ إِلَى الْمُتَعَلِّمِينَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ مُتَعَلِّمٍ يَخْتَلِفُ إِلَى بَابِ عَالِمٍ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ قَدَمٍ عِبَادَةَ سَنَةٍ وَبُنِيَ لَهُ بِكُلِّ قَدَمٍ مَّدِينَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَيَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَالْأَرْضُ تَسْتَغْفِرُ لَهُ وَيُمْسِي وَيُصْبِحُ مَغْفُورًا لَّهُ وَشَهِدَتِ الْمَلَائِكَةُ لَهُمْ بِأَنَّهُمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ [تفسیر کبیر، جلد اول، ص ۲۷۵]

جو شخص جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے لوگوں کو دیکھنا پسند کرے تو وہ طالب علموں کو دیکھے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کوئی طالب علم جب کسی عالم کے دروازہ پر آتا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر قدم کے بدلے ایک سال کی عبادت لکھتا ہے اور اس کے ہر قدم کے بدلے جنت میں ایک شہر تیار کرتا ہے۔ اور وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے، زمین اس کے لئے مغفرت طلب کرتی ہے اور صبح و شام وہ اس حال میں کرتا ہے کہ بخشا ہوا ہوتا ہے اور ملائکہ طالب علموں کیلئے گواہی دیتے ہیں کہ وہ جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے ہیں۔

۳۲۔ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ أَغْبَرَتْ قَدَمَاهُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ حَرَّمَ اللهُ جَسَدَهُ عَلَى النَّارِ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ مَلَكُهُ وَإِنْ مَّاتَ فِي طَلَبِهِ مَاتَ شَهِيدًا وَكَانَ قَبْرُهُ رَوْضَةً مِّنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَيُوَسَّعُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ وَيُنَوَّرُ عَلَى جِيرَانِهِ أَرْبَعِينَ قَبْرًا عَنْ يَمِينِهِ وَأَرْبَعِينَ قَبْرًا عَنْ يَسارِهِ وَأَرْبَعِينَ عَنْ خَلْفِهِ وَأَرْبَعِينَ أَمَامَهُ [تفسیر کبیر، جلد اول، ص ۲۸۱]

جس شخص کے قدم علم کی طلب میں گرد آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو جہنم پر حرام فرمائے گا اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے مغفرت طلب کریں گے۔ اور اگر علم کی طلب میں مرگیا تو شہید ہوا۔ اور اس کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی، اور اس کی قبر تا حد نگاہ کشادہ کر دی جائیگی اور اس کے پڑوسیوں پر روشن کر دی جائیں گی چالیس قبریں اس کے داہنے، چالیس اس کے بائیں، چالیس اس کے پیچھے اور چالیس قبریں اس کے آگے ۔

۳۳۔ حضرت علامہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی سے گفتگو فرما رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ یہ شخص جو آپ سے بات کر رہا ہے اس کی عمر صرف ایک ساعت اور باقی رہ گئی ہے اور وہ عصر کا وقت تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کو اس بات سے آگاہ فرمایا تو وہ بیقرار ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو اس وقت میرے لئے زیادہ مناسب ہو، حضور نے فرمایا:

اِسْتَعْمِلْ بِالتَّعَلُّمِ [تفسیر کبیر، ج ۱، ص ۲۸۲]

علم حاصل کرنے میں مشغول ہو جاؤ۔ تو وہ علم حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے انتقال کرگئے۔ راوی نے کہا کہ اگر علم سے افضل کوئی اور چیز ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میں اسی کے کرنے کا حکم فرماتے۔

۳۴۔ حضرت علامہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ مومن چھ خوبیوں کے سبب علم حاصل کرتا ہے:
اوّل: اللہ تعالیٰ نے مجھے فرائض کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے اور میں علم کے بغیر ان کی ادائیگی پر قادر نہیں ہو سکتا۔
دوم: خدائے تعالیٰ نے مجھے گناہوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے اور میں علم کے بغیر اس سے بچ نہیں سکتا۔
سوم: اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا شکر مجھ پر لازم فرمایا ہے اور میں علم کے بغیر ان کا شکر نہیں کر سکتا۔
چہارم: خدائے تعالیٰ نے مجھے مخلوق کے ساتھ انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور میں علم کے بغیر انصاف نہیں کر سکتا۔
پنجم: اللہ تعالیٰ نے مجھے بلا پر صبر کرنے کا حکم فرمایا ہے اور میں علم کے بغیر اس پر صبر نہیں کر سکتا۔
ششم: خدائے تعالیٰ نے مجھے شیطان سے دشمنی کرنے کا حکم دیا ہے اور میں علم کے بغیر اس سے دشمنی نہیں کر سکتا۔ [تفسیر کبیر، ج ۱، ص ۲۸۲]

(علم اور علماء | صفحات ۲۲ تا ۴۴)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!