| عنوان: | معاشرے میں طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحانات |
|---|---|
| تحریر: | عبد الخبير اشرفی مصباحی |
مقدمہ اور طلاق کی شرعی حیثیت
شادی کا بندھن ایک عظیم معاہدہ ہے، مضبوط ترین ناتا ہے، اور زندگی بھر کا رشتہ ہے۔ اس بندھن کے ساتھ خاندانی، معاشرتی، دینی و دنیاوی بے شمار مصلحتیں اور فوائد وابستہ ہیں۔ اب اس عظیم ترین بندھن کو طلاق کے ذریعہ توڑنا بے شمار مصلحتوں اور فائدوں کا خون کرنا ہے جس سے خاندان، رشتہ دار اور معاشرہ سب متاثر ہوتے ہیں۔ بچوں کا بچپن اجڑ جاتا ہے، خاندان کا گلشن مرجھا جاتا ہے اور خصوصاً زوجین کی کشتیِ حیات ڈواں ڈول ہو جاتی ہے۔
ان ہی سنگین حالات کے مدنظر صاحبِ شریعت ﷺ نے طلاق کو "أَبْغَضُ الْحَلَالِ" (سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال) فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں طلاق اگرچہ بوقتِ ضرورت جائز ہے، لیکن بلا وجہ شرعی یا غصے اور جہالت میں ایک ساتھ تین طلاقیں دینا سراسر خلافِ شرع اور گناہ ہے۔ دینی تعلیم سے دوری اور مذہبی امور سے بے اعتنائی کے باعث آج ہمارے معاشرے میں طلاق کو معمولی سمجھ لیا گیا ہے، جس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
طلاق کے بڑھتے ہوئے اسباب و علل
ادارہ الافتا میں پہنچنے والے سوالات اور معاشرتی مطالعہ کی روشنی میں طلاق کے چند بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:
• حقوقِ زوجین کی ادائیگی میں کوتاہی: شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے حقوق اور شرعی حدود کا احترام نہ کرنا ناچاقی اور طلاق کا باعث بنتا ہے۔
• اجباری شادی: عاقل و بالغ بچوں کی پسند و رضامندی کے بغیر زبردستی شادی طے کرنا، جس کے نتیجے میں زوجین ایک دوسرے کو قبول نہیں کر پاتے اور طلاق یا خلع کی نوبت آتی ہے۔
• شراب نوشی و جوا بازی: نشہ آور اشیاء اور قمار بازی سے گھر کا سکون برباد ہوتا ہے، اور نشے یا خسارے کی حالت میں گالی گلوچ، زد و کوب اور طلاق کے واقعات پیش آتے ہیں۔
• عورت کی کمائی پر تکیہ: مرد کا کاہل ہو کر گھر کی تمام ذمہ داریاں بیوی پر ڈال دینا اور نان و نفقہ ادا نہ کرنا حاکمیت کی جنگ اور طلاق کا سبب بنتا ہے۔
• سامانِ جہیز کی کمی: دولت کے لالچی اور حریص لوگوں کی طرف سے وافر جہیز کا مطالبہ اور عورت کو ستانا بھی رشتوں کے ٹوٹنے کی بڑی وجہ ہے۔
• میاں بیوی کی آوارگی: شادی سے پہلے یا بعد میں غیر محرم سے تعلقات، بے حیائی، اور شرعی حدود کی پامالی سے نفرتیں جنم لیتی ہیں اور گھر جہنم کدہ بن جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، عدمِ استطاعت کے باوجود ایک سے زائد شادیاں کرنا اور بانجھ پن جیسے مسائل بھی طلاق کا باعث بنتے ہیں۔
طلاق کے نقصانات اور احتیاطی تدابیر
طلاق کے نقصانات:
طلاق کے بعد عورت کو تنہائی، معاشی و معاشرتی مشکلات اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے میں طلاق کے بڑھنے سے زنا اور بے حیائی کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض اوقات دل برداشتہ ہو کر خواتین خودکشی جیسے اقدام پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ حدیثِ پاک کے مطابق ابلیس لعین کو سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب اس کا کوئی کارندہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کرواتا ہے۔
احتیاطی تدابیر:
مرض کے اسباب سے احتیاط ہی اس کا اصل علاج ہے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے عفو و درگزر، صبر اور حسنِ معاشرت سے کام لینا چاہیے۔ اگر حالات بگڑنے لگیں تو قرآنِ کریم کی ہدایت کے مطابق دونوں خاندانوں کی طرف سے سنجیدہ اور معتبر ثالث (پنچ) مقرر کیے جائیں جو صلح و اصلاح کی کوشش کریں۔ حقوق العباد کی پاسداری اور شرعی احکام پر عمل پیرا ہو کر ہی ہمارے گھرانوں کو خوشحال اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
