| عنوان: | طالبِ علم اور اس کی فضیلت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
۱۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ [رواه ابن ماجہ - مشکوٰة ص ۳۷]
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد (وعورت) پر فرض ہے۔
حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں شارحین حدیث نے فرمایا کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کا حاصل کرنا بندہ کے لئے ضروری ہے جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچانا، اس کی وحدانیت اس کے رسول کی نبوت کی شناخت اور ضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کو جاننا مسلمان کے لئے ان چیزوں کا علم فرض عین ہے اور فتویٰ واجتہاد کے مرتبہ کو پہنچنا فرض کفایہ ہے۔ [مرقاة شرح مشکوٰة جلد اول ص ۲۳۳]
اور حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی بخاری رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں علم سے مراد وہ علم ہے جو مسلمانوںکو وقت پر ضروری ہے مثلاً جب اسلام میں داخل ہوا تو اس پر خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کو پہچاننا اور سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جاننا واجب ہوگیا اور ہر اس چیز کا علم ضروری ہوگیا کہ جس کے بغیر ایمان صحیح نہیں ۔ اور جب نماز کا وقت آگیا تو اس پر نماز کے احکام کا جاننا واجب ہوگیا۔ اور جب ماہ رمضان آگیا تو روزہ کے احکام کا سیکھنا ضروری ہوگیا اور جب مالک نصاب ہوگیا تو زکاة کے مسائل کا جاننا واجب ہوگیا۔ اور اگر مالک نصاب ہونے سے پہلے مر گیا اور زکاة کے مسائل کو نہ سیکھا تو گنہگار نہ ہوا۔ اور جب عورت سے نکاح کیا تو حیض ونفاس وغیرہ جتنے مسائل کا میاں بیوی سے تعلق ہے مسلمان پر جاننا واجب ہوجاتا ہے ۔ وعلى هذالقیاس ۔ [اشعة اللمعات جلد اول ص ۱۴۱]
اور حضرت علامہ امام غزالی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دکانداروں کو درے مار کر علم سیکھنے کے لئے بھیجتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص خرید و فروخت کے احکام نہ جانے وہ تجارت نہ کرے کہ لازمی میں سود کھائے گا اور اسے خبر نہ ہوگی۔ اسی طرح ہر پیشہ کا ایک علم ہے یہاں تک کہ اگر حجام ہے تو اس کو یہ جاننا ضروری ہے کہ آدمی کے بدن سے کیا چیز کاٹنے کے لائق ہے اور کیا چیزکاٹنے کے لائق نہیں ہے وعلیٰ ھذالقیاس ۔ اور یہ علوم ہر شخص کے حال کے موافق ہوتے ہیں لہٰذا ہر باز پر حجامت کا پیشہ سیکھنا فرض نہیں [کیمیائے سعادت ص ۱۲۹]
تنبیہ ۔ علم حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طالب علم بن کر کسی مدرسہ میں اپنا نام لکھائے اور پڑھے جیسا کہ رائج ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ علمائے اہلسنت سے ملاقات کر کے شریعت کا حکم ان سے معلوم کرے یا معتبر اور مستند کتابوں کے ذریعہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی جانکاری حاصل کرے ۔
۲۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ۔
طَلَبُ الْعِلْمِ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةٍ وَطَلَبُ الْعِلْمِ يَوْمًا خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ [رواه الديلمي في الفردوس - کنز العمال ج ۱۰ ص ۵۷]
ایک ساعت علم حاصل کرنا رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے ۔ اور ایک دن علم حاصل کرنا تین مہینے کے روزے سے بہتر ہے ۔
۳۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔
طَلَبُ الْعِلْمِ أَفْضَلُ عِنْدَ اللهِ مِنَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالْحَجِّ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى [رواه الطبراني - كنز العمال ج ۱۰ ص ۵۷]
علم حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل ہے نماز سے ، روزہ سے ، حج سے اور جہاد فی سبیل اللہ سے
۴۔ حضرت ابو دردار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا تَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللهُ بِه طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ [رواه الترمدی وابوداود - مشکوٰة شریف ص ۳۳]
جو شخص، علم دین حاصل کرنے کیلئے سفر کرتا ہے تو خدائے تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چلاتا ہے ۔ اور طالب علم کی رضا حاصل کرنے کے لئے فرشتے اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں ۔
حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں ۔
فِيهِ إِيمَاءٌ إِلَى أَنَّ طُرُقَ الْجَنَّةِ مَحْصُورَةٌ فِي طُرُقِ الْعِلْمِ فَإِنَّ الْعَمَلَ الصَّالِحَ لَا يُتَصَوَّرُ بِدُوْنِ الْعِلْمِ [مرقاة ج اول ص ۲۲۹]
اس حدیث شریف میں اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ جنت کے راستے علم کے راستوں میں محدود ہیں اسلئے کہ نیک عمل بغیر علم کے متصور نہیں۔
اور تحریر فرماتے ہیں کہ احمد بن شعیب سے روایت ہے انھوں نے بیان کیا کہ ہم نے شہر بصرہ میں اس حدیث شریف کو ایک محدث سے بیان کیا جبکہ اس مجلس میں ایک بد مذہب معتزلی بھی بیٹھا ہوا تھا جو علم حاصل کرنے کے لئے آیا ہوا تھا اس نے اس حدیث شریف کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کل ہم جوتا پہن کر چلیں گے اور اس سے فرشتوں کے پروں کو روندیں گے ۔ جب اپنے کہنے کے مطابق دوسرے دن وہ جوتا پہن کر چلا تو دھڑام سے گر گیا اور اس کے پیروں میں مرض آکلہ پیدا ہوگیا جس سے اس کے دونوں پیر سڑ گئے ۔ [مرقاة شرح مشکوٰة جلد اول ص ۲۲۹]
اور طبرانی نے کہا کہ میں نے ابن یحییٰ سباحی سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ ہم ایک محدث کے یہاں جانے کے لئے بصرہ شہر کی گلیوں میں سے گزر رہے تھے تو ہمارے ساتھ ایک مسخرہ آدمی تھا جو اپنے دین میں متہم تھا اس نے کہا
اِسْرَفَعُوا أَرْجُلَكُمْ عَنْ أَجْنِحَةِ الْمَلَائِكَةِ لَاتَكْسِرُوهَا [مرقاة ج اول ص ۲۲۹]
اپنے پیروں کو فرشتوں کے پروں سے اٹھا لو انھیں نہ توڑو۔ یعنی اس حدیث شریف کا مذاق اڑایا تو اسی جگہ اس کے پیروں نے اس کو پچھاڑ دیا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا ۔
