| عنوان: | طالبِ علم اور اس کی فضیلت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
۵۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ [رواه مسلم - مشکوٰة ص ۳۳]
جو شخص علم کی تلاش میں راستہ چلتا ہے تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس پر جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے۔ اور جب کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں (یعنی مسجد، مدرسہ یا خانقاہ میں) جمع ہوتی ہے اور قرآن مجید کو پڑھتی پڑھاتی ہے تو ان پر خدا کی تسکین نازل ہوتی ہے، خدا کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر ان فرشتوں میں کرتا ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں۔
۶۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ [رواه الترمذی - مشکوٰة ص ۳۳]
جو علم کی تلاش میں نکلا تو وہ واپسی تک اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہے۔
نوٹ: فتویٰ حاصل کرنے کے لئے عالمِ دین کے گھر جانا یہ بھی طلبِ علم میں داخل ہے۔
۷۔ حضرت سبرہ ازدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى [رواه الترمذی والدارمی]
جس نے علم حاصل کیا تو یہ حاصل کرنا اس کے گزرے ہوئے گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔
اس حدیث شریف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ طالبِ علم جو گناہ چاہے کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ علمِ دین حاصل کرنے سے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اچھی نیت سے علم حاصل کرنا توبہ سے اس کے گناہوں کی معافی کا وسیلہ ہوگا۔
۸۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَنْ يَشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَيْرٍ يَسْمَعُهُ حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةُ [رواه الترمذی - مشکوٰة ص ۳۳]
خیر یعنی علم کی باتیں سننے سے مومن کبھی سیر نہیں ہوگا یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے گا۔
۹۔ حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ فَأَدْرَكَهُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، فَإِنْ لَمْ يُدْرِكْهُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ [رواه الدارمی - مشکوٰة شریف ص ۳۴]
جس نے علمِ دین تلاش کیا اور اسے پالیا تو اس کے لئے ثواب کا دوہرا حصہ ہے۔ اور جس نے اس کو نہیں پایا تو اس کے لئے ایک حصہ ہے۔
۱۰۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَنَّهُ مَنْ سَلَكَ مَسْلَكًا فِي طَلَبِ الْعِلْمِ سَهَّلْتُ لَهُ طَرِيقَ الْجَنَّةِ [رواه البیهقی - مشکوٰة ص ۳۴]
خدائے تعالیٰ نے یہ میری طرف وحی فرمائی ہے کہ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے گا میں اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دوں گا۔
۱۱۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا:
مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ لَا يَشْبَعُ، وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا لَا يَشْبَعُ مِنْهَا [رواه البیهقی - مشکوٰة ص ۳۴]
دو بھوکے سیر نہیں ہوتے ہیں۔ ایک علم کا بھوکا علم سے سیر نہیں ہوتا، دوسرے دنیا کا بھوکا دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی بخاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
علم ہر چند بیشتر حاصل می کند متعطش تر می گردد۔ [اشعة اللمعات، ج اول، ص ۱۷۱]
آدمی جس قدر علم زیادہ حاصل کرتا ہے اس کی پیاس اور بڑھ جاتی ہے۔
معلوم ہوا کہ جس مولوی کا پیٹ علم سے بھر جائے حقیقت میں اس نے علم حاصل ہی نہیں کیا۔
۱۲۔ حضرت عون رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: صَاحِبُ الْعِلْمِ وَصَاحِبُ الدُّنْيَا وَلَا يَسْتَوِيَانِ، أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ فَيَزْدَادُ رِضًى لِلرَّحْمٰنِ، وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: ﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى﴾، قَالَ: وَقَالَ لِلْأُخْرَى: ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾ [رواه الدارمی - پ ۲۲ ع ۱۶ - مشکوٰة ص ۳۴]
دو بھوکے کبھی سیر نہیں ہوتے، علم والا اور دنیا دار مگر دونوں برابر نہیں کہ علم والا خدائے تعالیٰ کی خوشنودی بڑھاتا ہے اور دنیا دار سرکشی میں بڑھ جاتا ہے۔ پھر حضرت عبد اللہ نے یہ آیت پڑھی: “كلا الخ” یعنی خبردار ہو بیشک انسان سرکشی کرتا ہے جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے (ر ۳ سورہ علق) راوی نے کہا اور حضرت عبداللہ نے دوسرے کے لئے یہ آیت کریمہ پڑھی: “إِنَّمَا يَخْشَى الخ” یعنی اللہ سے اس کے بندوں میں علما ہی ڈرتے ہیں۔
۱۳۔ حضرت ابن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ [رواه مسلم - مشکوٰة ص ۳۴]
یہ (یعنی قرآن و حدیث کا) علم دین ہے تو دیکھ لو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کر رہے ہو۔
