طالبِ علم اور اس کی فضیلت (قسط: سوم)

طالبِ علم اور اس کی فضیلت (قسط: سوم)
عنوان: طالبِ علم اور اس کی فضیلت (قسط: سوم)
تحریر: حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

یعنی گمراہ، بےدین اور دنیا دار سے قرآن و حدیث کا علم نہ حاصل کرو کہ گمراہی، بےدینی اور دنیا داری پیدا ہوگی۔ اور کسی اجتماع میں بد مذہب کا وعظ بھی سننے کے لئے نہ جاؤ کہ بد مذہبی اثر کر جائے گی اسی لئے بد مذہب کی تقریر سننے کے لئے جانا حرام و ناجائز ہے۔

۱۴۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:

أَجْوَعُ النَّاسِ طَالِبُ الْعِلْمِ وَأَشْبَعُهُمُ الَّذِي لَا يَبْتَغِيهِ [رواه الديلمي في مسند الفردوس - كنز العمال، ج ۱، ص ۷]

طالبِ علم لوگوں میں سب سے زیادہ بھوکا ہے اور ان میں جس کا پیٹ بھرا ہے وہ علم کو تلاش نہیں کرتا۔

۱۵۔ حضرت ابوذر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:

إِذَا جَاءَ الْمَوْتُ لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَهُوَ عَلَى هَذِهِ الْحَالَةِ مَاتَ وَهُوَ شَهِيدٌ [رواه البزار - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۹]

جبکہ طالبِ علم کو موت آجائے اور وہ طلبِ علم کی حالت پر مرے تو وہ شہید ہے۔

۱۶۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

أَشَدُّ النَّاسِ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَمْكَنَهُ طَلَبُ الْعِلْمِ فِي الدُّنْيَا فَلَمْ يَطْلُبْهُ [رواه ابن عساكر - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۹]

قیامت کے دن سب سے زیادہ افسوس کرنے والا وہ شخص ہوگا کہ جسے دنیا میں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا مگر اس نے علمِ دین حاصل نہیں کیا۔

۱۷۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّينِ [رواه ابن عبدالبر - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۹]

علمِ دین حاصل کرو اگرچہ ملکِ چین میں ہو۔

اس حدیث شریف سے علمِ دین کی بے انتہا اہمیت ثابت ہوتی ہے کہ اُس زمانہ میں جبکہ ہوائی جہاز، ریل اور موٹر نہیں تھے عرب سے ملکِ چین پہنچنا کتنا مشکل کام تھا مگر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں کہ اگرچہ تم کو عرب سے ملکِ چین جانا پڑے لیکن علمِ دین ضرور حاصل کرو، اس سے غفلت ہرگز نہ برتو۔

۱۸۔ حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَكَفَّلَ اللَّهُ لَهُ بِرِزْقِهِ [رواه الخطيب - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۹]

جس نے علمِ دین حاصل کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی روزی کو اپنے ذمہ کرم پر لے لیا۔

۱۹۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَتَعَلَّمُوا لِلْعِلْمِ السَّكِينَةَ وَالْوَقَارَ وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تَتَعَلَّمُونَ مِنْهُ [رواه الطبرانی - کنز العمال، ج ۱۰، ص ۸]

علم حاصل کرو اور علم کے لئے ہیبت اور وقار سیکھو اور جو لوگ کہ تم سے علم حاصل کریں ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔

۲۰۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

نِعْمَ الْعَطِيَّةُ كَلِمَةُ حَقٍّ تَسْمَعُهَا ثُمَّ تَحْمِلُهَا إِلَى أَخٍ لَكَ مُسْلِمٍ فَتُعْلِمُهَا إِيَّاهُ [رواه الطبرانی - کنز العمال، ج ۱۰، ص ۸۰]

بہترین عطیہ وہ کلمہ حق ہے کہ جسے تم سنو پھر اسے اپنے مسلمان بھائی کے پاس لے جاؤ اور اس کو وہ کلمہ حق سکھاؤ۔

۲۱۔ حضرت حسان بن ابو سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

طَالِبُ الْعِلْمِ بَيْنَ الْجُهَّالِ كَالْحَيِّ بَيْنَ الْأَمْوَاتِ [کنز العمال، ج ۱۰، ص ۸۱]

علم کا حاصل کرنے والا جاہلوں کے درمیان ایسا ہے جیسے زندہ مردوں کے درمیان۔

۲۲۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

طَالِبُ الْعِلْمِ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [رواه الديلمي في الفردوس - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۸۲]

طالبِ علم اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجاہد فی سبیل اللہ سے افضل ہے۔

۲۳۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

طَالِبُ الْعِلْمِ طَالِبُ الرَّحْمَةِ، طَالِبُ الْعِلْمِ رُكْنُ الْإِسْلَامِ، وَيُعْطَى أَجْرَهُ مَعَ النَّبِيِّينَ [رواه الديلمي في الفردوس - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۸۲]

علمِ دین کا تلاش کرنے والا رحمت کا تلاش کرنے والا ہے، علمِ دین حاصل کرنے والا اسلام کا کھمبا ہے، اس کو نبیوں کے ساتھ ثواب دیا جائے گا۔

۲۴۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:

قَلْبٌ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْحِكْمَةِ كَبَيْتٍ خَرِبٍ، فَتَعَلَّمُوا وَعَلِّمُوا وَتَفَقَّهُوا وَلَا تَمُوتُوا جُهَّالًا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْذِرُ عَنِ الْجَهْلِ [رواه ابن السنی - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۸۴]

وہ دل کہ جس میں کچھ علم نہیں ہے ویران گھر کی طرح ہے۔ تو علم سیکھو اور سکھاؤ اور دین کی سمجھ حاصل کرو اور جاہل ہو کر نہ مرو کہ اللہ تعالیٰ جاہل ہونے کا عذر نہیں قبول فرمائے گا۔

۲۵۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

مِنَ الصَّدَقَةِ أَنْ يَتَعَلَّمَ الرَّجُلُ الْعِلْمَ فَيَعْمَلَ بِهِ وَيُعَلِّمَهُ [رواه أبو خيثمة - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۸۹]

یہ بات صدقہ میں سے ہے کہ آدمی علم سیکھے تو اس پر عمل کرے اور دوسرے کو سکھائے۔

۲۶۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ طَلَبُ الْعِلْمِ [رواه الديلمی - كنز العمال، ج ۱۰، ص ۹۰]

بہترین عبادت علم کا حاصل کرنا ہے۔

۲۷۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

مَسْأَلَةٌ وَاحِدَةٌ يَتَعَلَّمُهَا الْمُؤْمِنُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ وَخَيْرٌ لَهُ مِنْ عِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ وَالْمَرْأَةَ الْمُطِيعَةَ لِزَوْجِهَا وَالْوَلَدَ الْبَارَّ لِوَالِدَيْهِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ

ایک دینی مسئلہ کہ مسلمان اس کو سیکھے ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کے غلام کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ اور بیشک طالبِ علم، وہ عورت جو اپنے شوہر کی فرمانبردار ہے اور وہ لڑکا جو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتا ہے، یہ سب انبیائے کرام

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!