ایک خاموش ملاقات

ایک خاموش ملاقات
عنوان: ایک خاموش ملاقات
تحریر: جنید عطاری رائےبریلی

سفر میں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے، کچھ یاد رہ جاتے ہیں اور کچھ بھول جاتے ہیں، مگر بعض ملاقاتیں ایسی ہوتی ہیں جو کوئی نہ کوئی سبق دے جاتی ہیں۔ ٹرین اپنی رفتار سے چل رہی تھی، میں اپنی نشست سے اٹھا اور تھوڑا آگے بڑھا تو ایک نوجوان سے سامنا ہوا۔ میں نے اس سے پوچھا: "کہاں جا رہے ہو؟"۔

اس نے میری طرف دیکھا، ایک لمحے کے لیے مسکرایا اور پھر اپنی انگلی ہونٹوں پر رکھ کر اشارہ کیا کہ وہ بول نہیں سکتا۔ میں جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ابھی چند لمحے پہلے تک مجھے احساس بھی نہ تھا کہ میں کتنی بڑی نعمت کا مالک ہوں۔ میں بول سکتا ہوں، اپنے جذبات کو الفاظ میں ڈھال سکتا ہوں، اپنی خوشی، دکھ اور خیالات کا اظہار الفاظ میں کر سکتا ہوں۔

نعمتوں کی قدر اور شکر گزاری

قارئین کرام! ہم نے اللہ سے یہ نعمتیں مانگی نہیں، مانگے بغیر اس نے ہمیں عطا کر دی ہیں۔ اللہ پاک نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر ہم ان پر غور نہیں کرتے۔ ہم اکثر دوسروں کی چیزوں کو دیکھ کر حسرت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس یہ نہیں، وہ نہیں، جبکہ ہمارے پاس بہت کچھ ہے، جو کچھ ہے اس پر شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری میں وقت گزار دیتے ہیں۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
"وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ"
ترجمہ: اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو اُنہیں شمار نہیں کر سکو گے۔ (پ۱۴، النحل: ۱۸)

شکر ادا کرنے کے متعلق اللہ پاک پارہ ۱۳، سورہ ابراہیم کی آیت نمبر ۸ میں فرماتا ہے:
"لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ"
ترجمئہ کنز الإیمان: اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک شخص کو دُنیا کی دولت سے بہت نوازا گیا اور پھر سب کچھ جاتا رہا تو وہ اللہ کی حمد و ثنا کرنے لگا یہاں تک کہ اس کے پاس بچھانے کے لیے صرف ایک چٹائی رہ گئی مگر وہ پھر بھی اللہ کی حمد و ثنا میں مصروف رہا۔

ایک دوسرے مالدار شخص نے چٹائی والے سے کہا: "اب تم کس بات پر اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہو؟"
اس نے کہا: "میں ان نعمتوں پر اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اگر ساری دُنیا کی دولت بھی دے دوں تو وہ نعمتیں مجھے نہ ملیں"۔
اس نے پوچھا: "وہ کیا؟"
جواب دیا: "کیا تم اپنی آنکھ، زبان، ہاتھوں اور پاؤں کو نہیں دیکھتے کہ یہ اللہ پاک کی کتنی بڑی نعمتیں ہیں؟"۔ (شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعدید نعم اللہ، الحدیث: ۴۴۶۲، ج۴، ص۱۱۶)

حاصلِ کلام

خالق کائنات ربّ العٰلمین کی ہم پر بے پایاں عنایتیں ہیں تو ارحم الرّٰحمین کا شکر ادا کرنا کتنا ضروری ہے جس کی نعمتوں کا شمار لگانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ناشکری چھوڑ کر ان نعمتوں کی قدر کریں جو اللہ پاک نے ہمیں عطا فرمائی ہیں، ہر لمحہ اُس کا شکر ادا کریں اور زندگی سے لطف اٹھائیں۔

آنکھوں کو بند کر کے مسکراتے ہوئے دل سے کہیے: اللہ تیرا شکر ہے!

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!