| عنوان: | سیرت حضرت امام ابو داؤد سجستانی علیہ الرحمہ اور ان کی سنن کا علمی مقام |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
مقدمہ
علمِ حدیث کی تاریخ میں ان ائمہ و محدثین کا مقام نہایت ارفع و اعلیٰ ہے جنہوں نے اپنی تمام زندگی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور سنن کی حفاظت و تدوین کے لیے وقف کر دی۔ انہی عظیم شخصیات میں سے ایک جلیل القدر امام، حضرت امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی علیہ الرحمہ ہیں، جن کی معروف تالیف "سنن ابی داؤد" صحاحِ ستہ (حدیث کی چھ اہم ترین کتابوں) کا ایک عظیم الشان رکن ہے۔
ولادت، اسمِ گرامی اور نسب
آپ کا اسمِ گرامی سلیمان، کنیت ابو داؤد اور سلسلۂ نسب یوں ہے: سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمرو ازدی سجستانی۔ آپ کی ولادتِ با سعادت ۲۰۲ ہجری میں سجستان کے علاقے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم اور اسفار
امام ابو داؤد نے تاریخِ اسلام کے اس زریں عہد میں آنکھ کھولی جو علمِ حدیث کی ترقی و عروج کا دور تھا۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے علمِ حدیث کی طلب میں دور دراز بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا اور اس وقت کے مشہور شیوخِ حدیث سے اکتسابِ علم کیا۔ آپ نے بغداد، مصر، شام، حجاز اور عراق میں طویل قیام فرمایا۔
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
"مصر، شام، عراق، خراسان اور جزیرہ وغیرہ میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کر کے علمِ حدیث حاصل کیا۔ حفظِ حدیث، اتصالمِ روایت، عبادت و تقویٰ، اور صلاح و احتیاط میں آپ بلند درجے پر فائز تھے"۔
علم سے شغف کی اک انوکھی مثال
آپ کو علم کا اس قدر شوق تھا کہ آپ کی قمیص کی ایک آستین کشادہ اور دوسری تنگ ہوتی تھی۔ جب آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: "کشادہ آستین کتابیں رکھنے کے لیے ہے اور دوسری آستین چونکہ استعمال میں نہیں آتی، اس لیے تنگ ہے تاکہ کپڑا ضائع نہ ہو"۔
تصانیف اور علم و فن میں مہارت
امام ابو داؤد صرف حدیث کے ہی امام نہ تھے بلکہ فقہ، اجتہاد، تفسیر اور کلام میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے۔ آپ نے متعدد علوم و فنون پر اہم کتابیں تحریر فرمائیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
۱. کتاب السنن
۲. کتاب المراسیل
۳. کتاب المسائل
۴. کتاب الرد علی القدریہ
۵. الناسخ والمنسوخ
۶. کتاب المفرد
وصال
امام ابو داؤد علیہ الرحمہ کا وصال ۱۶ شوال المکرم ۲۷۵ ہجری بروز جمعہ ۷۳ برس کی عمر میں ہوا۔
جامعِ سنن "سننِ ابی داؤد" کا تعارف
سنن ابی داؤد آپ کی وہ مایۂ ناز اور شاہکار تصنیف ہے جس کے بارے میں آپ خود ارشاد فرماتے ہیں:
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ لاکھ (5,000,00) احادیث لکھیں، ان میں سے منتخب کر کے اپنی اس کتاب سنن میں چار ہزار آٹھ سو (4,800) احادیث کو جمع کیا، جو صحیح ہیں یا ان کے مشابہ و مقاربہ ہیں"۔
امام ابو داؤد وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے صرف "سنن" کے طرز پر سب سے پہلے کتاب تالیف کی۔ امتِ مسلمہ کے اکابرین نے ہر دور میں اسے نہایت عقیدت و احترام کی نظر سے دیکھا۔ يحيىٰ بن معين اور يحيىٰ بن زکریا ساجی فرماتے ہیں: "کتاب اللہ اصلِ اسلام ہے اور سنن ابی داؤد عہدِ اسلام ہے؛ اسلام کی بنیاد قرآنِ کریم ہے اور اس کا ستون سنن ابی داؤد ہے"۔
سننِ ابی داؤد کی فنی خصوصیات و منہج
اس کتابِ مبارک کی چند بنیادی اور نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
• صرف احکام و مسائل سے متعلق احادیث: اس میں بنیادی طور پر فقہی احکام اور مسائل سے متعلق روایات و اخبار جمع کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کتاب ائمۂ حدیث و فقہ کی توجہ کا مرکز بنی۔
• جامعیت: احکام و فقہی احادیث کا اتنا بڑا اور منظم ذخیرہ اس کتاب میں موجود ہے جو صحاحِ ستہ کی کسی اور ایک کتاب میں یکجا نہیں ملتا۔
• صحتِ روایات کا التزام: امام ابو داؤد نے اپنے علم و بصیرت کے مطابق سب سے زیادہ ترجیح صحیح ترین روایات کو دی ہے۔
• طرق کی ترجیح: اگر کوئی حدیث دو صحیح طریقوں سے مروی ہو اور ان میں سے ایک طریقہ کا راوی سند میں زیادہ مقدم ہو، یا حفظ و ضبط میں بڑھا ہوا ہو، تو امام صاحب اس طریقہ کو پہلے ذکر کرتے ہیں۔
• مختلف اسناد کا ذکر: بسا اوقات ایک ہی حدیث کو دو یا تین سندوں کے ساتھ بھی ذکر فرماتے ہیں، بشرطیکہ بعض طریقوں میں متن کی کچھ زیادتی یا افادیت موجود ہو۔
• اختصار و ایجاز: طوالت سے بچنے کے لیے بعض جگہوں پر حدیث کو اختصار کے ساتھ تحریر فرماتے ہیں۔
• علل و ضعف کی نشاندہی: اگر سند میں کہیں کوئی ضعف یا علتِ خفیہ (پوشیدہ عیب) ہو تو اس کو صراحت کے ساتھ ظاہر فرما دیتے ہیں۔
• معروف روایات کا انتخاب: عموماً مشہور روایات کو قبول کیا ہے؛ شاذ، غریب، اور متروک الحدیث راویوں سے روایت سے احتراز فرمایا ہے۔
• رجال کی وضاحت: بعض اوقات راویوں کے ناموں، کنیتوں اور القاب کی ضرورت کے مطابق وضاحت فرما دیتے ہیں۔
• عدمِ تکرار: کتاب میں تکرار سے حتی الامکان گریز کیا گیا ہے تاکہ مضمون جامع اور مختصر رہے۔
نتیجہ
حضرت امام ابو داؤد سجستانی علیہ الرحمہ اور ان کی شاہکار تصنیف سنن ابی داؤد علمِ حدیث کا وہ روشن باب ہے جس نے فقہ و احکامِ شریعت کی تدوین و تفہیم میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کی احتیاط، فنی مہارت اور خلوص کا نتیجہ ہے کہ آج بھی یہ کتاب دنیا بھر کے دینی مدارس اور اسلامی جامعات میں علمِ حدیث کے اعلیٰ نصاب میں داخل اور مشعلِ راہ ہے۔
