| عنوان: | اسلام اور صلح و آشتی |
|---|---|
| تحریر: | مفتی بدر عالم مصباحی |
اسلامی اخلاق اور اشاعتِ اسلام
اسلام وہ مذہبِ مہذب ہے جو ہمیشہ صلح اور امن و آشتی کا علمبردار رہا، جیسا کہ اس کے لفظ سے بھی یہی مفہوم ظاہر ہے۔ اسلام کی امن پسندی ہی تھی کہ بانیِ اسلام کی ۶۳ سالہ زندگی میں اسلام پورے اکنافِ عالم میں جس تیزی سے پھیلا کہ تاریخِ عالم میں اس کی نظیر نہیں۔ اسلام کی اشاعت میں اسلامی اخلاق و کردار کا اہم رول ہے۔ صحابہ کے حسنِ اخلاق، صدق و صفاء، امن پسندی اور صلح و آشتی جیسے معمولاتِ زندگی نے اسلام کی ترویج و اشاعت میں حیرت انگیز سرعت پیدا کر دی جو تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ واضح رہے کہ صحابہ کے کارہائے تبلیغ و ارشاد میں جارحیت کا دور دور تک نشان نہیں۔ تاریخِ عالم میں ان کا اخلاق و کردار ظلم و تعدی سے بالکل صاف و شفاف نظر آتا ہے۔ لیکن ہمارے کچھ برادرانِ وطن آج بھی اسلام کو ایک عسکری مذہب کہتے پھر رہے ہیں اور تاریخِ انسانیت کو بالائے طاق رکھ کر، انصاف و رواداری سے بالکل الگ ہو کر اسلام پر الزام تراشی کرنے سے باز نہیں آتے اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ اسلام کشت و خون کا درس دیتا ہے بلکہ اس کی ترویج و اشاعت بھی انسانی خوں ریزی ہی سے ہوئی ہے، حالانکہ اسلام نے مسلمانوں کو تو یہ مزاج دیا کہ:
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر!
اس لیے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
باعثِ حیرت ہے کہ جہاد کو ہمیشہ غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور اسلامی جہاد کو غیر مسلموں کے مقابلے میں مسلمانوں کی طرف سے اس مقصد کے تحت لڑی جانے والی جنگ قرار دیا گیا کہ کچھ لوگ مجبور ہو کر اسلام قبول کر لیں۔ اے کاش! تعصب و عناد پرستی سے ہٹ کر اسلامی جنگوں کے اسباب و علل کا بغور مطالعہ کیا جاتا تو انصاف پسندی ضرور پکار اٹھتی کہ اسلام تلوار کے سائے میں نہیں پھیلا بلکہ کردار کے سائے میں پھیلا ہے۔ اسلام تو روزِ اول ہی سے اپنے اصول پر سختی سے کاربند رہا اور اپنے ماننے والوں کو یہ مزاج دیتا رہا کہ 'خود جیو اور دوسروں کو جینے دو'۔ بقائے نسلِ انسانی اور تحفظِ انسانیت اسلام کے اصول میں داخل ہے۔ اسی لیے اسلام نے افزائشِ نسلِ انسانی پر بھی کافی زور دیا۔
اسلام کا ابتدائی زمانہ
اسلام روزِ اول ہی سے صبر و شکر کا درس دے رہا ہے اور قوتِ اعتقاد و عمل کو اپنی پوری قوت سمجھتا رہا ہے، یہی وجہ تھی کہ رسولِ اکرم ﷺ نے جب فاران کی چوٹی پر کھڑے ہو کر اہلِ مکہ کو اسلام کی دعوت دی تو وہی کفارِ مکہ جو اس سے پہلے آپ کی امانت و دیانت داری کے بڑے مداح تھے، بیک وقت آمادۂ پیکار ہو گئے اور آپ کی جان کے دشمن ہو گئے۔ اس موقع پر بھی رسولِ اکرم ﷺ نے بزورِ شمشیر لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انتہائی صبر و شکر کے ساتھ قوتِ اعتقاد و تحمل کو اپنا ہتھیار بنایا اور تقریباً بارہ سال تک آپ اور آپ کے رفقاء اہلِ مکہ کے مظالم و مصائب برداشت کرتے رہے۔ بلالِ حبشی، صہیبِ رومی کی دلدوز داستان کسے نہیں معلوم، چلچلاتی ہوئی دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا جاتا، مال و اسباب چھین لیا جاتا، طرح طرح سے اذیتیں پہنچائی جاتیں۔ لیکن پیغمبرِ اسلام نے اس وقت بھی اپنے ساتھیوں کو انتقام کا جذبہ نہیں دیا اور نہ خود اس کے لیے پیش قدمی فرمائی، بلکہ خود صابر و شاکر رہے اور رفقاء کو بھی صبر و شکر کی تلقین کرتے رہے اور صبر و استقامت پر گامزن رہنے کا درس دیتے رہے۔ اور جب دیکھا کہ معاملہ حد سے تجاوز کر رہا ہے تو ترکِ وطن کی اجازت ضرور دے دی جیسا کہ آپ کے کچھ رفقاء نے سب سے پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ پھر کفارِ مکہ نے جب آپ کو بھی بہت زیادہ تنگ کرنا شروع کر دیا تو آپ نے بھی مکہ کو خیر باد کہہ کر مدینہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ کیا یہ ظلم و جبر تھا یا صبر و شکر اور قوتِ اعتقاد و عمل؟
اسلامی جنگیں
اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح آشکارا ہوتی ہے کہ اہلِ اسلام سے کفار کی جتنی بھی جنگیں ہوئیں ان میں کبھی بھی مسلمانوں کی جانب سے پیش قدمی کا ثبوت نہیں ملتا۔ لڑائی کا آغاز ہمیشہ مخالفین نے کیا، مسلمانوں نے اس وقت تک ہاتھ نہ اٹھایا جب تک انہیں مجبور نہ کیا گیا۔ مسلمانوں کو قتال کی اجازت اسلام نے دی لیکن غور کرنا چاہیے کہ اجازت کس انداز سے دی گئی۔ فرمایا گیا: جو تم سے لڑے اس سے تم بھی قتال کرو اور جو نہ لڑے اس سے تم بھی نہ لڑو، اس لیے برملا کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے جتنی بھی جنگیں لڑیں سب دفاعی جنگیں تھیں۔ ارشادِ خداوندی ہے:
"وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ... (سورۃ البقرۃ، آیات ۱۹۰ تا ۱۹۴)"
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو، اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔ اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو اور انہیں نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے اور مسجدِ حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو، کافروں کی یہی سزا ہے۔ پھر اگر وہ باز رہیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر۔ ماہِ حرام کے بدلے ماہِ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے، جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے۔
کفار کی اقسام اور اسلامی رواداری
اسلام نے کفار کو تین حصوں میں رکھا ہے: معاہد، ذمی اور حربی۔ اسلام نے معاہد کے ساتھ عہد کی پابندی کرنے تک جنگ نہ کرنے کا حکم دیا، ذمی سے لڑائی کو بالکل ناجائز قرار دیا بلکہ ان کے بارے میں عام اعلان کر دیا:
"دِمَاؤُهُمْ كَدِمَائِنَا وَأَمْوَالُهُمْ كَأَمْوَالِنَا"
ان کے خون ہمارے خون کی طرح، ان کے مال ہمارے مال کی طرح ہیں۔ (فتح القدیر، کتاب السیر، جلد ۵، ص ۴۳۰) یعنی ان کا تحفظ اور ان کی آل و اولاد کا تحفظ اپنی آل و اولاد کے تحفظ کی طرح لازم اور ضروری قرار دیا گیا۔
لیکن وہ کفار جو صلح و آشتی نہ چاہتے اور ہمیشہ اہلِ اسلام کو ایذاء رسانی کی اعلانیہ اور خفیہ تدبیریں کرتے، اسلام کے خلاف شورش اور تحریک چلاتے، ان سے جہاد کو واجب قرار دیا گیا۔ اور غور کیا جائے تو سماج کے شرپسند عناصر اور فتنہ پروری کی بیخ کنی کے لیے ان سے جنگ کرنا انسانیت کا اہم تقاضا ہے بلکہ اسی میں انسانیت کا تحفظ ہے۔ لہٰذا شورش پسندوں اور فتنہ پروروں سے جنگ کرنے کا اسلامی نظریہ در حقیقت انسانی نظریہ ہے۔ اس کو خوں ریزی اور تباہی و بربادی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ تو سماج و معاشرہ کی اصلاح ہے اور اسی میں رازِ ترقی و فلاح و بہبود ہے۔
جہاد کا مفہوم اور اس کا مقصد
جہاد کے لغوی معنی 'کوشش صرف کرنے' کے ہیں اور اصطلاح میں: اللہ کے راستے میں اپنی پوری قوت و کوشش کو صرف کر دینے کا نام جہاد ہے۔ یعنی اللہ پر ایمان اور دنیا میں اس کے حکم کو اعلیٰ و ارفع بنانے کی تبلیغ اور جدوجہد۔ اس سے قطعی یہ مستفاد نہیں کہ اللہ کے حکم کو ارفع و اعلیٰ ثابت کرنا صرف جنگ و لڑائی سے ہی ممکن ہے، دوسری اور کوئی صورت نہیں۔ یہ کام پر امن طریقہ سے بھی ہو سکتا ہے اور متشدد ذرائع سے بھی۔ رسولِ اکرم ﷺ نے جہاد کے چار مختلف طریقوں کی نشاندہی فرمائی ہے جن کی رو سے بندۂ مومن اپنے جہاد کے فرض سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے: دل، زبان، ہاتھ، تلوار۔
احکامِ خداوندی کی خلاف ورزی کو دل سے برا ماننا ہر بندۂ مومن کے اہم فرائض میں سے ہے۔ قوت و وسعت ہو تو زبان سے اسے روکنے کی کوشش کرے، زبان سے کام نہ چلے تو پھر ہاتھ استعمال کر سکتا ہے، ہاتھ سے بھی کام نہ چلے تو آخری صورت تلوار ہے۔
واضح رہے کہ جہاد جنگ و جارحیت کا نام نہیں، اسے جنگ و جارحیت سمجھنا غلط فہمی کا شکار ہونا ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسے بے شمار ابواب ملیں گے کہ مسلمانوں نے اسلام کی تبلیغ کے لیے ترغیب و مناظروں کے ذرائع اختیار کیے، جبر و اکراہ کے ذریعہ قبولِ اسلام کا ثبوت کہیں سے نہیں ملتا۔ صبر و استقامت کے ساتھ اسلام کی خوبیاں لوگوں کے سامنے رکھی جاتیں، اللہ جسے ہدایت دیتا وہ دامنِ اسلام سے وابستہ ہو جاتا۔ ہاں، جب کبھی کفار اسلام کی سالمیت کے لیے خطرہ بنتے تو اس وقت مسلمان اپنے ذاتی تحفظ اور دفاع کے لیے ضرور تیار ہو جاتے۔ اس لیے کہ اب بھی اگر وہ صبر و تحمل کرتے رہتے تو یہ دانش مندی نہ ہوتی بلکہ اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈالنا ہوتا۔ اپنے تحفظ و بقاء کے لیے دشمنوں کے حملوں کا دفاع جنگ نہیں بلکہ جہاد ہے۔ جنگ لعنت ہے، جہاد عبادت ہے۔ جہاد ایک مامون و محفوظ ماحول قائم کرنے میں مدد دیتا ہے، جنگ تباہی اور بربادی لاتی ہے۔ قابلِ غور بات ہے کہ اہلِ مغرب اہلِ جہاد کو جنگجو اور کشت و خون کا خوگر سمجھتے اور بتاتے ہیں، جبکہ اہلِ جہاد کا ایمان ہے کہ بے قصور کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے:
"مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ"
ترجمۂ کنز الایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔ (سورۃ المائدہ، آیت نمبر ۳۲)
صلح جوئی اور جنگ کے اسلامی اصول
اہلِ جہاد کا تو وہ مذہب ہے جو لوگوں کو سلامتی کے طریقے بتاتا ہے، جو دشمنی کے اشتعال سے باز رہنے کا درس دیتا ہے، اور مذہب کی ترویج و اشاعت کے لیے مسلمانوں کو "لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ" (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر ۲۵۶) جیسا نعرہ عطا فرماتا ہے۔ مسلمان جنگ کے لیے صرف اسی وقت تیار ہوتا ہے جب اس کی آزادیِ مذہب کو خطرہ لاحق ہو یا ان کی بقا و تحفظ پر حملے ہوں، ان کے جائز حقوق چھینے جائیں، وہ ملک بدر کیے جائیں، ان کا اقتدار و وقار برباد کیا جائے اور اہلِ اسلام ہونے کے ناتے ان پر ظلم و ستم ڈھایا جائے۔ اگرچہ اسلام نے مذکورہ صورتوں میں لڑائی کی اجازت مرحمت فرمائی، لیکن قرآنِ حکیم کی ایک آیت بھی ایسی نہیں ملے گی جس میں کافر کو بجبر و اکراہ مسلمان بنانے کا حکم ہو، اور نہ ہی پیغمبرِ اسلام اور ان کے صحابۂ عظام کی سیرت میں ایسا کوئی واقعہ ملتا ہے جس سے پتہ چلتا ہو کہ کسی کافر کو زبردستی بزورِ شمشیر مسلمان بنایا گیا ہو۔ حاصل یہ کہ اسلام اگر جنگ کرنے کی اجازت دیتا ہے تو بالکل ناگزیر حالت میں کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہو، ورنہ اسلام تو جنگ و جدال سرد کرتا ہے۔
ارشاد ہے: "كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُۙ-وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ"
ترجمۂ کنز الایمان: جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (سورۃ المائدہ، آیت ۶۴)
ارشاد ہے: "وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ"
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ (سورۃ الأنفال، آیت ۶۱)
تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب کبھی بھی اپنے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے دفاعی جنگوں کے لیے تیار ہوا تو اس وقت بھی بانیِ اسلام نے مسلمانوں کو اخوت و بھائی چارگی اور انسانی ہمدردی کا درس دے کر محاذ کے لیے روانہ فرمایا۔ تلقین فرماتے کہ کفار و مشرکین کے بوڑھے، بیمار، بچے اور ان کی عورتیں اگر تمہاری تلوار کے نیچے آ جائیں تو انہیں ہرگز نہ مارنا۔ اسی لیے ایک جنگ میں ایک عورت کی لاش دیکھی تو ارشاد فرمایا: "مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ فِيمَنْ يُقَاتِلُ" (یہ تو لڑنے والوں میں شامل نہ تھی - سنن ابن ماجہ، حدیث: ۲۸۴۲)۔ پھر سپہ سالارِ جنگ حضرت خالد بن ولید کو کہلا بھیجا کہ "لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا" (کسی عورت اور مزدور کو ہرگز قتل نہ کرو - سنن ابی داؤد، حدیث: ۲۶۶۹)۔
اللہ کے رسول ﷺ نے ان دفاعی جنگوں میں شب خون کی بھی ممانعت فرما دی تھی۔ اعلان فرما دیا تھا کہ صبح سے پہلے کسی دشمن پر حملہ نہ کیا جائے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں: "كَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ" (آپ جب کبھی کسی دشمن قوم پر رات میں پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی حملہ نہ کرتے تھے - سنن ترمذی، حدیث: ۱۵۵۰)۔ اسی طرح آپ نے دشمن کو ایذا دے کر ان کی بے حرمتی کرنے اور ان کے اعضاء بگاڑ کر (مثلَہ کر کے) قتل کرنے سے سختی سے روکا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے دشمن کو باندھ کر مارنے سے بھی منع فرمایا۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا: "فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا" (خدا کی قسم! اگر مرغی بھی ہو تو میں اسے باندھ کر نہ ماروں - سنن ابی داؤد، حدیث: ۲۶۸۷)۔
برادرانِ وطن اور اہلِ مغرب انصاف کی عینک لگا کر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں اور ساتھ ہی اپنے مہا بھارت اور رامائن کی جنگوں کی تاریخ بھی سامنے رکھیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ کس مذہب میں بے قصور کشت و خون اور انسانی خوں ریزی کا درس ہے اور کس میں انسانی ہمدردی اور انسانیت نوازی کا سبق ہے۔
