اپنے نئے تعلیمی سال کا آغاز اس طرح کریں

اپنے نئے تعلیمی سال کا آغاز اس طرح کریں!
عنوان: اپنے نئے تعلیمی سال کا آغاز اس طرح کریں!
تحریر: محمد شفیع احمد عطاری رضوی

تحصیلِ علمِ دین کی اہمیت و ضرورت کو سمجھنے کے لیے حضور اقدس ﷺ کا یہ فرمان ہی کافی ہے:

طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ

اے طالبانِ علومِ نبویہ! الحمد للہ علی احسانہ! ہماری اور آپ کی خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس پرفتن دور میں تحصیلِ علمِ دین کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس بات پر اللہ جل وعلا کا شکر ادا کریں کہ اس ربِ کائنات نے ہمیں ایک بار پھر سے اپنے تعلیمی سال کا بہترین انداز میں آغاز کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ اب ہماری اور آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس نعمتِ بے بدل کی قدر کی جانب توجہ مبذول کریں، اور اپنے تعلیمی سال کا آغاز بہترین و مہذب انداز میں شروع کرنے کی بھرپور سعی و کوشش کریں۔

فقیر راقم الحروف دعا گو ہے کہ: اللہ تعالیٰ اس سال کو ہمارے لیے بہترین انداز میں تحصیلِ علمِ دین کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، اپنے علم پر عمل اور کتبِ دینیہ کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، نیز اس سال کو ترقیِ درجات کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔

تعلیمی سال کو یادگار بنانے کے ۱۰ زریں اصول (امورِ عشرہ)

آئیے! چند ایسے اصول و ضوابط صفحۂ قرطاس پر نوکِ قلم کیے جاتے ہیں جن پر عمل کر کے اس سالِ رواں کو ایک یادگار تعلیمی سال بنایا جا سکتا ہے اور آنے والے سالوں کو خوب سے خوب تر بنایا جا سکتا ہے:

۱. مقصد کا تعین

اولاً اپنا مقصد متعین کر لیں۔ ویسے تو طالبانِ علومِ نبویہ کا تحصیلِ علمِ دین سے یہی مقصد ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ کریم ﷺ کی رضا پانے میں کامیاب ہو جائیں۔ بلکہ ہونا تو یہی چاہیے کہ:

میرا ہر عمل بس تیرے واسطے
کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی

۲. جدول (ٹائم ٹیبل) کی ترتیب

ثانیاً اپنا جدول سیٹ کریں کہ کون سا کام کس وقت کرنا ہے۔ حتی الامکان کوشش کریں کہ ہر کام اس کے مقررہ وقت پر ہی انجام پذیر ہو تاکہ امامِ اہل سنت علیہ الرحمہ کے اس شعر پر بھی عمل ہو جائے:

اے رضا! ہر کام کا ایک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا

۳. قرآن و حدیث کا فہم و مطالعہ

ثالثاً تحصیلِ علمِ دین کا ایک بنیادی اور اہم مقصد قرآن و حدیث کا فہم بھی ہے۔ لہٰذا روزانہ کچھ نہ کچھ کتبِ تفسیر و حدیث کا مطالعہ کرنے کا معمول بنا لیں۔

۴. قواعدِ نحو و صرف میں پختگی

رابعاً ہر طالب علم قواعدِ نحویہ و صرفیہ پر مہارتِ تامہ حاصل کرنے کی سعی کرے۔ بالخصوص بڑے درجات کے طالب علموں سے گزارش ہے کہ نحو و صرف کے قواعد کا ایک بار پھر سے دہرائی کر لیں تاکہ قواعد میں مزید مضبوطی آ جائے، کیونکہ یہ فنون درسِ نظامی میں کیمیائے جاں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی مشق و ممارست اپنے اساتذہ کی زیرِ نگرانی کریں۔

۵. کسی ایک خاص فن میں تخصصی مطالعہ

خامساً ابھی سے ایک خاص فن کو متعین کر لیں اور درسی کتب میں مضبوطی لانے کے ساتھ ساتھ اس فن کی کتابوں کو بھی اساتذہ کی رہنمائی میں زیرِ مطالعہ رکھیں، جیسے اگر آپ کی دلچسپی فقہ سے ہے تو کتبِ فقہ کو خاص طور سے مطالعہ میں رکھیں۔

۶. نوافل کا اہتمام اور دینی کاموں میں شرکت

سادساً فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ تہجد، اشراق، چاشت اور اوابین کے نوافل کو اپنے معمولات میں شامل رکھیں۔ نیز ۱۲ دینی کاموں کو بہتر سے بہترین انداز میں انجام دینے کی ضرورت ہے۔ خود بھی نیک اعمال بجا لائیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔

۷. محاسبہ اور کمزوریوں کی اصلاح

سابعاً اپنی کمزوریوں کو ایک کاپی یا ڈائری میں نوٹ کر لیں، یعنی اپنا محاسبہ کریں کہ میرے اندر کن کن صلاحیتوں کی کمی ہے اور کس چیز میں زیادہ محنت کی ضرورت ہے، پھر ان کے تدارک کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رابطہ کریں۔

۸. کتبِ اعلیٰ حضرت کا مطالعہ

ثامناً امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف کو روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھنے کا معمول بنائیں، کوئی بھی دن ایسا نہ گزرے جس میں آپ نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو نہ پڑھا ہو۔

۹. تلاوتِ قرآن اور درودِ پاک کی کثرت

تاسعاً روزانہ تلاوتِ قرآن کے ساتھ ساتھ ایک وقت متعین کر لیں جس میں پوری توجہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر درودِ پاک کا نذرانہ پیش کریں۔

۱۰. ادب و احترام

عاشراً "باادب با نسیب، بے ادب بے نصیب" اس اہم نصیحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جو پڑھیں، جن سے پڑھیں اور جس جگہ پڑھیں ان تمام کا ادب ضرور بجا لائیں، کیونکہ علم کا نور ادب ہی سے حاصل ہوا کرتا ہے۔ (تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ)

اختتامیہ

ذی وقار قارئین! مذکورہ امورِ عشرہ پر عمل کر کے ہم خود بھی ایک عمدہ اور کامیاب طالب علم بن سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی کامیابی کا زینہ طے کروا سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو ان امور پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے نئے تعلیمی سال کا آغاز و انتہا بہترین انداز میں کرنا مقدر فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔

رشحاتِ قلم: محمد شفیع احمد عطاری رضوی
۱ اپریل ۲۰۲۶ء

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!