مفسر کے لیے ضروری علوم اور بالرائے تفسیر کی وعید

مفسر کے لیے ضروری علوم اور بالرائے تفسیر کی وعید
عنوان: مفسر کے لیے ضروری علوم اور بالرائے تفسیر کی وعید
تحریر: محمد شفیع احمد عطاری رضوی

آج کل ہر ایرا غیرا قرآن کریم کی تفسیر کرنا شروع کر دیتا ہے، اگرچہ کبھی تعلیم و تعلم کے "تا" اور "عین" سے بھی ملاقات نہ ہوئی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سمجھ بوجھ عطا فرمائے جو خلافِ شرع تفسیرِ قرآن اپنی مرضی سے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں؛ نہ باقاعدہ علومِ دینیہ سے واقفیت ہے اور نہ ہی مفسر کے لیے ضروری علوم سے آشنائی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف عجیب و غریب تماشائی اور علمی تباہی مچی ہوئی ہے۔ الأمان والحفیظ!

آئیے! جائزہ لیتے ہیں کہ ایک مفسر کے لیے کن علوم کا ہونا ضروری ہے۔

مفسر کے لیے ضروری علوم

علماءِ کرام نے مفسر کے لیے جن علوم کو ضروری قرار دیا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • علمِ لغت
  • علمِ نحو
  • علمِ صرف
  • علمِ اشتقاق
  • علومِ بلاغت (معانی، بیان اور بدیع)
  • علمِ قراءات
  • علمِ اصولِ دین (عقائد)
  • علمِ اصولِ فقہ
  • علمِ اسبابِ نزول
  • علمِ ناسخ و منسوخ
  • مجمل اور مبہم کی تفسیر پر مبنی احادیث کا علم

غیر اہل کے لیے نصیحت و خبرداری

ان ضروری علوم کے نام نقل کرنے کے بعد، مفتیِ دعوتِ اسلامی مفتی محمد قاسم عطاری (دام ظلہ العالی) ان لوگوں کو جو اپنی مرضی سے تفسیرِ قرآن کرتے ہیں، نصیحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

"ان علوم کو سامنے رکھتے ہوئے ان خواتین و حضرات کو اپنے طرزِ عمل پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنے کی حاجت ہے جو قرآن مجید کا صرف اردو ترجمہ اور تفاسیر کی اردو کتب پڑھ کر ترجمہ و تفسیر کرنا اور اس کے معانی و مطالب بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک اقدام ہے۔ اسے یوں سمجھئے کہ اگر کوئی شخص از خود میڈیکل کی کتابیں پڑھ کے اپنا کلینک کھول لے اور مریضوں کا علاج کرنا اور ان کے آپریشن کرنا شروع کر دے تو اس کا کیا نتیجہ ہو گا؟ اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ نازک قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر کا معاملہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا معنی و مفہوم اور اس کی مراد بیان کرنی ہوتی ہے اور یہ کام سیکھے بغیر کرنا اور علم کے بغیر کرنا جہنم میں پہنچا دے گا۔ اس لیے اگر کسی کو تفسیر بیان کرنے کا شوق ہے تو اسے چاہیے کہ باقاعدہ علومِ دینیہ سیکھ کر اس کا اہل بنے۔"

امام حسن بصری (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں:

"عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا کہ ان میں سے کوئی قرآن مجید کی آیت پڑھتا ہے اور وہ اس کے معانی سے جاہل ہوتا ہے، تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا شروع کر دیتا ہے۔" (البحر المحیط)

اپنی مرضی سے تفسیرِ قرآن کرنے پر وعید

رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:

مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
"جس شخص نے قرآن مجید میں بغیر علم کے کچھ کہا، اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ سمجھ لینا چاہیے۔" (ترمذی)

(ماخوذ از: صراط الجنان، ج: ۱، ص: ۳۰-۳۱)

حاصلِ کلام

محترم قارئینِ کرام! مذکورہ بالا ضروری علوم کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ آج کل کے خلافِ شرع تفسیر کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو بغیر سوچے سمجھے اور بغیر دینی علم کے تفسیرِ قرآن کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اپنی مرضی اور خلافِ شرع تفسیرِ قرآن کرنے سے محفوظ و مامون فرمائے۔ آمین!

رشحاتِ قلم: محمد شفیع احمد عطاری رضوی
۶ اپریل ۲۰۲۶ء

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!