| عنوان: | تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (قسط ششم) |
|---|---|
| تحریر: | عبدالسبحان بزمی مصباحی |
تمہیدی شعر اور مساواتِ انسانی
ہست دینِ مصطفےٰ دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات
اسلام نے قبائلی تفاخر و نسلی تقابل کے تصور کو یکسر خارج کر دیا اور انسانی مساوات کو جاری رکھنے کا اعلانِ عام کیا۔
تحفظ وقارِ نسواں اور دورِ جاہلیت
دورِ جاہلیت میں بعض جگہ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی درگور کر دیا جاتا، دنیا کے صبح و شام دیکھنے سے پہلے ہی اس کی زندگی کی شام ہو جاتی، گلشنِ عالم میں کھلنے سے پیشتر اس کو مرجھا دیا جاتا اور مسل دیا جاتا۔ اس کے وجود کو باعثِ عار اور وجہِ ہلاکت گردانا جاتا تھا۔ عورتوں کی سماج میں کوئی حیثیت نہیں تھی، محض لطف اندوزی کا سامان اور لوگوں کے ہاتھ کا کھلونا تھیں، ان کی عصمت دری عام بات تھی، ان کے کچھ حقوق نہیں تھے، ان کے ساتھ بڑا نازیبا سلوک کیا جاتا تھا۔
درِ یتیم میں ہے:
"وہ غیور تھے، مگر ان کی غیرت انتہائی شقاوت اور سنگ دلی کے سانچے میں ڈھل گئی تھی۔ لڑکی کا بیاہنا ان کے نزدیک عار سمجھا جاتا تھا۔ قانونِ فطرت سے وہ اس طرح جنگ کرتے کہ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زمین میں دفن کر دیتے۔ سینکڑوں ہزاروں جانیں اس جاہلانہ غیرت اور شقاوت کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ مائیں اپنی لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی چھپانے کی کوشش کرتیں۔ مگر یہ درندے ان کے دھڑکتے سینوں سے پھول سی بچیوں کو چھڑا کر زمین میں گاڑ دیتے۔ ممتا دیکھتی کی دیکھتی رہ جاتی۔" (مرجع سابق، ص: ۶۵)
اسلام میں بیٹیوں اور عورتوں کے حقوق
رحمتِ عالم ﷺ نے بیٹی کو رحمتِ الٰہی قرار دیا، اس کی اچھی طرح دیکھ بھال میں ہونے والی دقت کو برکت کا ذریعہ بتایا اور بشارتِ عظمیٰ کا پروانہ دیا، ہر طرح کی عزت و عظمت سے نوازا، نیز وراثت میں حصہ قرار دیا۔ رحمت ﷺ نے بچیوں کے ساتھ حسنِ سلوک پر بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"مَنْ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ البَنَاتِ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ" (ترمذی)۔
ترجمہ: جو شخص بیٹیوں کے حوالے سے آزمائش میں ڈالا جائے تو وہ بچیاں اس کے لیے جہنم سے حجاب بن جائیں گی۔
ایک دوسری حدیث میں بہنوں کے ساتھ حسنِ سلوک پر بھی جنت میں داخلے کی بشارتِ عظمیٰ دی گئی ہے:
"لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ابْنَتَانِ أَوْ أُخْتَانِ، فَيَتَّقِي اللَّهَ فِيهِنَّ، وَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ" (مسند احمد)۔
ترجمہ: تم میں سے کسی کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں، یا دو بیٹیاں اور دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، تو وہ جنت میں جائے گا۔
اس بیان سے یہ بات مثلِ آفتاب روشن ہو گئی کہ نبیِ رحمت ﷺ نے عورتوں اور بیٹیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچا لیا اور عزت و وقار کے مسند سے سرفراز فرمایا، ان کی بہتر نگہداشت اور حسنِ سلوک پر ثواب کی بشارت دی۔
عصرِ حاضر کے فتنوں سے انتباہ
مگر آج نادانی و جہالت کی وجہ سے ہماری ماں، بہنیں اسلامی قیود و قوانین کو اپنے اوپر گراں سمجھتی ہیں، "میرا جسم، میری مرضی" کی صدائے احتجاج بلند کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور دنیاوی آسائشوں کی خاطر اسلامی احکامات کو پسِ پشت ڈال کر آزاد تصور کرتی ہیں۔ اغیار کے دامِ فریب میں پھنس کر اپنا دین گنوائے جا رہی ہیں، انہیں پتا ہی نہیں کہ اس کا وجود اسلام کی رہینِ منت ہے، اسلام نے اسے قعرِ مذلت سے نکال کر تکریم کے ایوان میں پناہ دی ہے۔
اے بنتِ حوا! یاد رکھنا، اعدائے دین فقط تمہیں اپنی خواہشات کی تکمیل کا باعث جانتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تمہاری عزت، تمہارے وقار کا برسرِ عام تماشا ہو۔ وہ حجاب کے نقصانات بتا کر تمہاری عفت کو تار تار کرنے کے خواہاں ہیں۔ اب تمہیں غور کرنا ہے، تمہاری بھلائی کس میں ہے، حجاب میں یا بلا حجاب، تمہارا حسن کہاں محفوظ ہے، گھر میں یا سڑکوں پر یا محفلوں میں؟
(جاری....)
