| عنوان: | تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (قسط پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | عبدالسبحان بزمی مصباحی |
تمہیدی شعر
ہست دینِ مصطفےٰ دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات
اس کے علاوہ بھی اسلام نے غلاموں کے ساتھ سلوک و برتاؤ کا طریقہ بتایا ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی نہ کرو، بلکہ شفقت کرو، کھانے پینے، پہننے میں تفریق نہ کرو، بلکہ جو کھاؤ وہ کھلاؤ، جو پہنو وہ پہناؤ، طاقت سے زیادہ کام نہ لو، آرام کا وقت دو، غلام آزاد کرو، وغیرہ۔
مذکورہ بالا عبارات پر طائرانہ نگاہ دوڑائیے تو یہ امر واضح ہو جائے گا کہ اسلام ہی وہ پاکیزہ اور انصاف و عدل کا پیکر مذہب ہے جس نے غلاموں کی ہمدردی کی بات کی، ان پر ہونے والے جبر و استبداد کا کھل کر رد کیا اور ان کے حقوق سے لوگوں کو روشناس کرایا۔
جنگ و جدل پر پابندی
کسی بھی قوم میں امن و اماں کا ماحول اور تہذیبی نظام اس وقت برقرار رہتا ہے جب تک اس میں بے جا جنگ و جدل، دنگا و فساد کا تصور نہ ہو، آپسی لڑائی، باہمی اختلافات اور قبائلی عصبیت کا غلغلہ نہ ہو، ورنہ بصورتِ دیگر نتائج بالکلیہ منفی ظاہر ہوں گے۔ یہی حال عرب کے لوگوں کا تھا کہ معمولی سی بات پر باہم دست و گریباں ہو جاتے، قتل و غارت، خونریزی تک کی نوبت آ جاتی، یہاں تک کہ اگر کسی کا اونٹ دوسرے کے کھیت میں چلا جاتا تو خون کے پیاسے ہو جاتے، طرفین کی طرف سے تلواریں ہوا میں لہرائی جاتی تھیں۔ گھڑ دوڑ کے مقابلے میں اگر کسی کا گھوڑا قبل از وقت تھوڑا آگے بڑھ جاتا تو اتنی سی بات سے جنگ کا آغاز ہو جاتا، پھر یہ جنگیں انتقام کے لیے مسلسل نسل در نسل جاری رہتیں اور برسہا برس ایک دوسرے کے جانی دشمن بنے رہتے۔ ایک دوسرے کا خون بہانا ان کے لیے بازیچۂ اطفال کے مترادف تھا، نسل و نسب کے تفاخر پر مشتمل اشعار سن کر آپسی لڑائی شروع ہو جاتی تھی۔
درِ یتیم میں ہے:
"خونریزی اور قتل و غارت گری عربوں کے لیے ایک کھیل تھی۔ انسانی جان کی ان کی نگاہ میں کوئی قدر و قیمت ہی نہ رہی تھی۔ جیسے درختوں کی ڈالیاں اور گھاس کی پتیاں کاٹ دی اور مسل دی جاتی ہیں، بالکل اسی طرح وہ شقاوت پیشہ بھی ایک دوسرے کا گلا کاٹ کر کسی طرح کی پشیمانی اور ندامت و افسوس کا اظہار نہ کرتے تھے۔ انسانوں کے جسم ان کے نزدیک مٹی کے گھروندے تھے کہ جب چاہا توڑ پھوڑ ڈالا۔"
رسولِ اکرم ﷺ نے اس طرح کی جنگوں کا سدِّ باب فرمایا اور امن قائم رکھنے کی ہدایت کی، انسانی جان کی اہمیت سے آگاہ فرمایا:
"الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ آمَنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ" (سنن نسائی)
ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے انسان امن میں رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کی جانیں اور مال محفوظ رہیں۔
ایک جگہ اور فرمایا:
"لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّم يَرْحَم صَغِيْرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا"
ترجمہ: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے بچوں سے رحم کا سلوک نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق کا لحاظ نہیں کرتا۔
اس طرح رحمتِ عالم ﷺ نے امن، آپسی میل جول اور ایک دوسرے کی امداد رسی، مشکلات میں باز پرسی کا درسِ عظیم دیا، ایسا کیوں نہ ہو کہ آپ ﷺ "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ" کے حامل و منبع تھے۔ اور امن کے حوالے سے اسلام کا وطیرہ یہی ہے کہ انسانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
درسِ مساوات
عرب و دیگر ممالک میں ذات برادری، حسب و نسب اور قبیلے کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فخریہ رعب جمایا جاتا تھا، یہاں تک کہ بڑے قبیلے کے افراد سے کوئی جرم ہوتا تو مال و دولت سے معاف ہو جاتا، مگر کم درجے والوں کو بہر حال عقاب دیا جاتا۔ ان کو قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا جاتا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت علیہ السلام نے مساوات، عدل و انصاف کے ساتھ رہنے کی تعلیم دی اور اسلام نے بتایا کہ انساب و قبائل محض آپسی شناخت کے لیے ہیں، نہ کہ تفاخر و تکبر کے لیے:
"کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل ہے، کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر فضیلت حاصل ہے، بلکہ فضیلت صرف تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے۔"
قرآن میں ہے:
"وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ" (الحجرات: ۱۳)
ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک شخص سے میری تکرار ہو گئی، تو میں نے کہا: اے کالی عورت کے بیٹے! تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! صاع پورا نہیں بھر جاتا، سفید عورت کے بیٹے کو سیاہ عورت کے بیٹے پر کوئی فضیلت نہیں۔“ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں لیٹ گیا اور اس شخص سے کہا: اٹھو اور میرے رخسار کو پامال کر دو۔
(جاری...)
