| عنوان: | تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (ساتویں اور آخری قسط) |
|---|---|
| تحریر: | عبدالسبحان بزمی مصباحی امجدی |
تمہیدی اشعار
ہست دینِ مصطفےٰ دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات
ڈاکٹر اقبال تڑپ کر کہتے ہیں:
اس راز کو عورت کی حقیقت ہی کرے فاش
مجبور ہیں معذور ہیں مردانِ خردمند
کیا چیز ہے آرائش و زیبائش میں زیادہ
آزادیِ نسواں یا زمرد کا گلوبند
شراب پر مکمل پابندی اور دورِ جاہلیت
ظہورِ اسلام سے پیشتر اہلِ عرب کا محبوب مشروب شراب تھی، کوئی دن ایسا نہیں جو بنا شراب کے گزرتا ہو۔ شراب زینتِ محفل میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے شمار کیا جاتا تھا، صبح کی شراب الگ، شام کی الگ اور رات کی الگ، یعنی مختلف اوقات میں مختلف اقسام کی شرابیں دستیاب رہتی تھیں۔ نیز شراب کے پیالے بھی مختلف نوعیت کے موجود ہوتے تھے۔
اہلِ عرب شراب کے کتنے بڑے شوقین تھے، اس کا اندازہ درِ یتیم کے اس اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے:
"شراب ان کی گھٹی میں پڑی تھی، شرابیں پی کر ناچتے، گاتے، بجاتے اور بدمستیاں کرتے۔ ساغر و مینا اور بادہ و شاہد ان کی زندگی بن گئے تھے۔ ان کے ایک مشہور شاعر کو جب قتل کی سزا تجویز ہوئی اور اس سے پوچھا گیا کہ تم کس طرح قتل ہونا چاہتے ہو، تو اس نے تمنا ظاہر کی کہ خوب شراب پی کر جب میں انتہائی مست و بے خود ہو جاؤں تو میری فصدیں تیز اور گہرے نشتر سے کھلوا دینا۔ یہاں تک کہ خون ٹپکتے ٹپکتے مجھ میں جان باقی نہ رہے۔ ان میں ایسے شقی القلب بھی تھے جو اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی کھوپڑیوں میں مزے لے لے کر انتہائی فخر و غرور کے ساتھ شراب پیتے تھے۔"
علامہ ڈاکٹر غلام زرقانی قادری صاحب قبلہ اس حوالے سے رقم طراز ہیں: آفتابِ اسلام کے طلوع ہونے سے پہلے سرزمینِ عرب میں شراب نوشی روز مرہ کے معمولات میں داخل تھی۔ لوگ بڑے شوق و ذوق سے مزے لے لے کر شراب پیتے اور نشے میں دھت رہتے۔ نشے کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک بار عبداللہ بن جدعان نے نشے کی حالت میں امیہ بن صلت کی آنکھوں پر گھونسہ رسید کر دیا۔ ضرب اس قدر شدید تھی کہ جس سے بینائی سلب ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ دوسرے دن جب عبداللہ بن جدعان کی ملاقات امیہ بن صلت سے ہوئی، تو وہ حیرت سے پوچھنے لگا کہ تمہاری آنکھوں میں یہ سوجن کیسی ہے؟ امیہ بن صلت نے جواب دیا کہ یہ سب تمہارے ہی گھونسہ کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ حیرت سے تکنے لگا اور پھر قسم کھا لی کہ آئندہ شراب کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن جدعان کو ان لوگوں میں سے شمار کیا جاتا ہے، جنہوں نے زمانۂ جاہلیت ہی میں شراب چھوڑ دی تھی۔
عہدِ حاضر میں شراب نوشی کی تباہ کاریاں اور رپورٹس
عہدِ حاضر میں بھی شراب نوشی کی کثرت ہے، شراب کے نقصانات و مضرات کے لیے یہ حدیث رقم کر دینا کافی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"إياكم وشرب الخمر، فإن شربها مفتاح كل شر"
ترجمہ: شراب نوشی سے دور رہو کہ بے شک شراب نوشی ہر خرابی کی کنجی ہے۔
شراب نوشی ہی کی وجہ سے سڑک حادثے، کینسر کے امراض، ایک دوسرے پر حملہ آور ہونا، اپاہج، جرائم کا ارتکاب دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں، سماجی و قومی ثقافت حد درجہ متاثر ہو رہی ہے۔ ان سب واردات و واقعات رپورٹس پر ایک نظر ڈالیے، جس کو ڈاکٹر غلام زرقانی قادری صاحب نے اپنی تصنیف میں نقل فرمایا ہے، تو اندازہ ہو گا کہ شراب سے کیسے کیسے بھیانک اور خوف ناک حادثات پیش آئے ہیں۔
آٹھ سو صفحات پر مشتمل کینسر رپورٹ کا یہ حصہ پڑھیے:
"The report shows that alcohol-attributable cancers were responsible for a total of 337,400 deaths worldwide in 2010, mostly among men. The majority were liver cancer deaths, but drinking alcohol is also a risk for cancers of the mouth, oesophagus, bowel, stomach, pancreas, breast and others." (Sarah Boseley, The Guardian, 3Feb, 2014)
رپورٹ کے مطابق دنیا میں ۳ لاکھ ۳۷ ہزار ۴ سو اموات مئے نوشی کے نتیجے میں ہونے والے کینسر کی وجہ سے زیادہ تر مردوں میں ہوئیں۔ گو کہ ان میں زیادہ تعداد جگر کے کینسر میں مبتلا تھی، تاہم مئے نوشی منہ، گلے، آنت، پیٹ، لبلبہ اور پستان کے کینسر کا بھی سبب ہے۔
سڑک حادثے کے حوالے سے یہ رپورٹ پڑھیں، تعجب بعد میں، پہلے افسوس ہو گا:
"Every day, 36 people die, and approximately 700 are injured, in motor vehicle crashes that involve an alcohol-impaired driver. Drinking and drugged driving is the number one cause of death, injury and disability of young people under the age of 21." (Professionals (NDCP))
ہر دن سڑک حادثات میں مئے نوشی کی وجہ سے ۳۶ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور تقریباً ۷۰۰ افراد زخمی ہوتے ہیں۔ مئے نوشی اور منشیات کی عادت ۲۱ سال سے کم عمر کے بچوں میں موت، زخمی ہونے اور اپاہج ہونے کا سببِ اول ہے۔
معزز قارئین! دیکھ رہے ہیں شراب اور جرم کے درمیان کس قدر گہرے تعلقات ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی جیلوں میں مختلف جرائم کی پاداش میں سزا پانے والوں میں اکثریت ایسے مجرموں کی ہے، جو شراب اور منشیات کے عادی رہے ہیں۔
"Most inmates are in prison, at least in large part, because of alcohol and drugs. 80% of offenders abuse drugs or alcohol. Nearly 50% of jail and prison inmates are clinically addicted. Imprisonment has little effect on alcohol and drug abuse." (National Association of Drug Court Professionals)
زیادہ تر قیدی، کم سے کم بڑی تعداد میں، مئے نوشی اور منشیات کے عادی ہونے کی وجہ سے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ۸۰ فیصد مجرموں نے شراب اور منشیات کے نشے میں جرائم کا ارتکاب کیا۔ تقریباً ۵۰ فیصد قیدی طبی طور پر عادی پائے گئے۔ قید میں رکھنا بھی مئے نوشی اور منشیات پر قابو پانے میں زیادہ مؤثر نہیں ہو سکا ہے۔
شراب کی حرمت: قرآنی و نبوی تعلیمات
جتنی بار ان رپورٹس کو پڑھیں دل دہل جاتا ہے، آنکھیں بھر آتی ہیں؛ اس لیے اسلام و پیغمبرِ اسلام، عالمِ غیب ﷺ نے شراب پر ہر طرح سے قدغن لگانے کے لیے جابجا اس کی حرمت کا حکم صادر فرمایا، اس کے باطنی و ظاہری امراض و مضرات سے آگاہی فراہم کی اور شرابیوں بلکہ اس کے جملہ مقدمات کو ملعون قرار دیا۔
حدیث میں آیا ہے:
"لَعَنَ اللهُ الخَمْرَ، وَشَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهَا" (مسند احمد)
ترجمہ: سرکارِ دو عالم ﷺ فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت فرمائی، نیز اس کے پینے والے، پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے، نچوڑنے والے، اسے تیار کرنے والے، اس کے اٹھانے والے اور جس کے لیے اٹھائی جائے، سب پر لعنت فرمائی ہے۔
قرآن میں ہے:
"يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ" (المائدة: ۹۰)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔
جملہ تصریحات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں شراب اور شرابی کتنا ناپسندیدہ و مکروہ ہے، شراب نوشی کارِ شیطان ہے۔ اسلام کے سوا دیگر مذاہب میں بھی پابندیاں عائد کی گئیں، قانون نافذ کر کے روک لگانے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی، مگر منشا کے مطابق کامیابی کم حاصل ہوئی۔ مگر اسلام نے شراب کے خاتمہ کے لیے جو پابندیاں لگائیں، سماج پر اس کے عمدہ اثرات دیکھنے کو ملے، نیز اسی پر عمل کر کے پورے عالم میں امن و سلامتی کی فضا قائم کی جا سکتی ہے اور بہتر تہذیب و تمدن کے گہوارہ کو وجود دیا جا سکتا ہے۔
اسلامی تہذیب کے عالمگیر اثرات کا خلاصہ
بالجملہ یہ کہ اسلامی احکامات اور نبوی تعلیمات اور اسلامی تہذیب و تمدن نے پوری دنیا کو نظامِ حیات بخشا؛ وہ یورپ جو جہالت و وحشت کا اڈہ تھا، جہاں سیاست و ثقافت، علوم و فنون کا تصور نہیں تھا، مگر رحمتِ عالم ﷺ کے مقناطیسی تعلیم و سیرت نے نقشہ ہی بدل دیا، کتابیں عربی سے یورپی زبان میں منتقل کی گئیں جس کی بنا پر ہر طرف علم و تمدن کی بہاریں نظر آنے لگیں اور ترقیاتی منصوبے تیار ہونے لگے۔
موسیو لیبان لکھتا ہے:
"عربوں نے چند صدیوں میں اندلس کو مالی اور علمی لحاظ سے یورپ کا سرتاج بنا دیا یہ انقلاب صرف علمی و اقتصادی نہ تھا اخلاقی بھی تھا۔ انہوں نے نصاریٰ کو انسانی خصائل سکھائے، ان کا سلوک یہود و نصاریٰ کے ساتھ وہی تھا جو مسلمانوں کے ساتھ۔ انہیں سلطنت کا ہر عہدہ مل سکتا تھا۔ مذہبی مجلس کی کھلی اجازت تھی، ان کے زمانے میں لا تعداد گرجوں کی تعمیر اس امر کی مزید شہادت ہیں۔" (موسیو لیبان، تمدنِ عرب: ۲۵۷)
اسلامی تہذیب و تمدن کے اثرات دیگر ممالک پر نظریات تک کو محیط تھے۔ مسلمان مشرقی اور وسطی افریقہ، بحر الکاہلی جزائر، ملایا اور چین میں تجارت کی غرض سے گئے تھے مگر اپنی غالب اور پر کشش تہذیب و ثقافت کی وجہ سے وہاں کا نقشہ بدل آئے۔ لہٰذا انڈونیشیا، ملایا، چین اور شرقی و وسطی افریقہ کے کروڑوں مسلمان ان تاجروں کی یاد دلاتے ہیں جو تیرہ سو سال پہلے ان علاقوں میں بغرضِ تجارت گئے تھے۔
رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے:
"عربوں کے اسپین اور سسلی کی تجارتی و صنعتی سر گرمیوں نے یورپ کی تجارت و صنعت کو جنم دیا۔" (رابرٹ بریفالٹ، تشکیلِ انسانیت: ۲۶۵)
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
