سیرت و سوانح امام بخاریؒ اور جامع صحیح کا فنی جائزہ

سیرت و سوانح امام بخاریؒ اور جامع صحیح کا فنی جائزہ
عنوان: سیرت و سوانح امام بخاریؒ اور جامع صحیح کا فنی جائزہ
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

نام و نسب اور ولادتِ با سعادت

امام المحدثین، سید الفقہاء حضرت امام بخاری رحمة اللہ علیہ کا اسمِ گرامی محمد، کنیت ابو عبد اللہ اور لقب امام المحدثین و سید الفقہاء ہے۔
سلسلۂ نسب یہ ہے: محمد بن اسماعیل بن ابراہيم بن مغیرہ بن بردزبہ بخاری جعفی۔

آپ کے جدِ اعلیٰ مغیرہ نے حاکمِ بخارا یمان جعفی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا، اسی مناسبت سے آپ کو جعفی بھی کہا جاتا ہے۔

آپ کی ولادتِ با سعادت شوال المکرم ۱۹۴ھ میں ماوراء النہر کے مشہور شہر بخارا میں ہوئی۔ آپ کے والدِ گرامی اپنے زمانے کے جلیل القدر محدث تھے، لیکن امام بخاریؒ کے بچپن میں ہی ان کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے آپ کی پرورش و تربیت کی تمام تر ذمہ داری آپ کی والدہ محترمہ پر عائد ہوئی۔

بینائی کی واپسی (مستجاب الدعوات والدہ کا واقعہ)

امام بخاری رحمة اللہ علیہ ایامِ طفلی (بچپن) میں ہی بینائی سے محروم (نابینا) ہو گئے تھے، جس کے باعث آپ کی والدہ محترمہ کو بے پناہ قلق اور صدمہ رہتا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی تضرع، زاری اور گریہ و زاری کے ساتھ اپنے بیٹے کی بینائی کی واپسی کے لیے مسلسل دعائیں کیا کرتی تھیں۔

ان کی یہ تضرع اور دعا بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی اور انہوں نے ایک رات خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
"اے خاتون! اللہ تعالیٰ نے تیری گریہ و زاری اور مسلسل دعا کے سبب تیرے فرزند کی بصارت (بینائی) کو لوٹا دیا ہے"۔

جب صبح کو امام بخاریؒ بیدار ہوئے تو ان کی آنکھوں کا نور مکمل طور پر روشن اور منور ہو چکا تھا۔

تحصیلِ علم اور علمی اسفار (رحلات)

امام بخاریؒ نے اپنے وطن بخارا میں رسمی تعلیم کی تکمیل کے بعد بچپن ہی میں حدیثِ پاک کی تحصیل کی جانب خاص توجہ فرمائی۔ ابھی آپ کی عمر مبارک صرف دس (۱۰) سال کی تھی کہ آپ نے امام داخلی کے حلقۂ درس میں شرکت شروع کر دی اور اپنی خداداد قوتِ حفظ و ضبط کے ذریعے حدیثوں کی اسناد و متون کو ذہن نشین کرنا شروع کر دیا۔

قوتِ حفظ کا عالم یہ تھا کہ سولہ (۱۶) سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ نے حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ اور وکیعؒ کی تمام کتابوں اور تصانیف کے نسخے ازبر کر لیے تھے۔

آپ نے طلب و جستجوئے حدیث کے لیے صرف بخارا اور حجاز پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ سالہا سال اپنے وطن سے دور دیارِ غربت کی خاک چھانتے رہے۔ آپ خود فرماتے ہیں:
"میں نے شام، مصر اور جزیرہ کا دو بار دورہ کیا، بصرہ کا چار مرتبہ سفر کیا اور حجازِ مقدس میں چھ سال سکونت گزیں رہا، جبکہ کوفہ اور بغداد کا تو شمار ہی نہیں کہ کتنی بار وہاں کے محدثین کی صحبتوں سے فیض یاب ہوا"۔

قوتِ حفظ و ضبط کے حیرت انگیز واقعات

واقعہ ۱ (زبانی حفظ کا مظاہرہ): امام بخاری رحمة اللہ علیہ انتہائی بیدار مغز، روشن دماغ اور خارق العادہ حافظے کے مالک تھے۔ قلم اور کاغذ پر اتنا اعتماد نہ تھا جتنا کہ اپنے ذہنِ رسا پر تھا۔ محدث حاشد بن اسماعیل فرماتے ہیں کہ دیگر طلبہ روزانہ حدیثیں لکھا کرتے تھے جبکہ امام بخاریؒ بغیر قلم و کاغذ کے درس میں شرکت فرماتے تھے۔

سولہ (۱۶) دن بعد جب طلبہ نے تکرار کی تو امام بخاریؒ نے فرمایا: "اپنی لکھی ہوئی یادداشتیں لاؤ"۔ دیگر طلبہ نے پندرہ ہزار (۱۵,۰۰۰) حدیثیں لکھی تھیں، امام بخاریؒ نے تمام کی تمام ۱۵ ہزار احادیث اپنے حافظے سے بلا کم و کاست زبانی سنا دیں، جس پر تمام طلبہ حیران رہ گئے۔

امام بخاریؒ خود فرماتے تھے: "مجھے ایک لاکھ صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں"۔

واقعہ ۲ (علامہ بیکندی اور سلیم بن مجاہد کا واقعہ): بچپن کے زمانے میں علامہ بیکندی نے سلیم بن مجاہد سے فرمایا کہ تم ایک ایسے بچے سے ملنے والے ہو جو ۷۰,۰۰۰ احادیث کا حافظ ہے۔ جب ملاقات ہوئی اور سوال کیا گیا، تو نو عمر امام بخاریؒ نے فرمایا:
"بلکہ اس سے زائد یاد ہیں! اور جس حدیث کے بارے میں آپ مرفوع یا موقوف کا سوال کریں گے، میں اس کا جواب بھی دوں گا اور اس کے تمام راویوں کے حالات، تاریخِ ولادت و وفات اور سکونت کا پتہ بھی بتا سکتا ہوں"۔

تصانیف و تالیفات

امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے متعدد گراں مایہ تصانیف کا ذخیرہ امت کے لیے چھوڑا ہے، جن میں سے چند اہم ترین درج ذیل ہیں:

۱۔ الجامع الصحيح (صحيح البخاری) — شاہکارِ علمِ حدیث
۲۔ قضايا الصحابة والتابعين
۳۔ الأدب المفرد
۴۔ التاريخ الكبير
۵۔ التاريخ الأوسط
۶۔ التاريخ الصغير

صحیح البخاری: مقام، اہمیت اور شروح

امام بخاریؒ کی تمام تصانیف میں سے جس کتاب کو عالمگیر مقبولیت حاصل ہوئی، وہ الجامع الصحيح (صحيح البخاری) ہے۔ قرآنِ مجید کے بعد آج تک کسی کتاب کو وہ مقام و مرتبہ حاصل نہ ہو سکا جو اس کتاب کے حصے میں آیا۔ محدثینِ کرام متفقہ طور پر فرماتے ہیں:
"قرآنِ مجید کے بعد آسمان کے نیچے سب سے صحیح ترین کتاب 'صحیح بخاری شریف' ہے"۔

آپ نے صحیح بخاری کی تالیف کا خاص اہتمام فرمایا؛ جب بھی کوئی حدیث لکھتے، غسل فرماتے اور دو رکعت نفل نماز ادا کرتے۔ سولہ سال کے طویل عرصے میں احادیث کا انتخاب فرمایا۔ احادیث کی ترتیب کا کام مدینہ منورہ میں روضۂ اطہر اور منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان (ریاض الجنة) بیٹھ کر انجام دیا۔

عربی زبان میں اس کی مشہور ترین شروح درج ذیل ہیں:

۱۔ فتح الباری (حافظ ابن حجر عسقلانیؒ)
۲۔ عمدة القاری (علامہ بدر الدین عینیؒ)
۳۔ ارشاد الساری (علامہ قسطلانیؒ)
۴۔ الكوكب الدراری (علامہ کرمانیؒ)
۵۔ شرح النووی (امام نوویؒ)
۶۔ ہدایۃ الباری، تیسیر القاری، عون الباری وغیرہ۔

خصوصیاتِ صحیح بخاری

حافظ ابن صلاحؒ کے بقول، صحیح بخاری میں مکررات کو حذف کرنے کے بعد کل ۴,۰۰۰ (چار ہزار) احادیث ہیں، اور تکرار کے ساتھ مجموعی تعداد ۷,۲۷۵ (سات ہزار دو سو پچھتر) ہے۔

صحیح بخاری کے اہم ترین فنی و منہجی امتیازات:

آیات و آثار سے تائید: ترجمۃ الباب (عنوان) میں مناسب آیاتِ قرآنی اور آثارِ صحابہ و تابعین لاتے ہیں، پھر پوری سند کے ساتھ حدیث درج کرتے ہیں۔

ترجمۃ الباب کا تنوع: بعض اوقات باب کے تحت کثیر احادیث لاتے ہیں، کبھی ایک، اور کبھی شرائط کے مطابق حدیث نہ ملنے پر صرف عنوان چھوڑ دیتے ہیں۔

تقطیعِ حدیث اور استنباطِ احکام: ایک ہی حدیث کو متعدد ابواب میں مختلف مسائل کے استنباط کے لیے لاتے ہیں۔

غریب الفاظ کی تفہیم: مشکل یا غریب الفاظ کی وضاحت قرآنِ مجید اور مفسرین کے اقوال سے فرماتے ہیں۔

ثلاثیات کا اختصاص: صحیح بخاری کا خاص امتیاز اس کی ۲۲ (بائیس) ثلاثیات ہیں (یعنی وہ احادیث جن کی سند میں رسول اللہ ﷺ اور امام بخاریؒ کے درمیان صرف ۳ راوی ہیں)۔

ابتلاء و امتحان اور انتقالِ پرملال

۲۵۰ھ میں نیشاپور تشریف لے گئے جہاں تاریخی استقبال ہوا، لیکن بعد میں پیدا ہونے والے ناخوشگوار حالات کی وجہ سے بخارا لوٹ آئے۔

حاکمِ بخارا نے تقاضا کیا کہ آپ محل میں آ کر اس کے بچوں کو پڑھائیں، لیکن امام بخاریؒ نے علم کی عزت و حرمت کی حفاظت کرتے ہوئے انکار کر دیا اور فرمایا کہ علم کی تحقیر نہیں کی جا سکتی، جس کو پڑھنا ہو وہ حلقۂ درس میں آئے۔ حاکم نے ناراض ہو کر آپ کو بخارا سے نکل جانے کا حکم دیا۔

آپ سمرقند کی جانب روانہ ہوئے اور راستے میں خرتنگ نامی مقام پر بیمار پڑ گئے۔ بالآخر عید الفطر کی رات، یکم شوال ۲۵۶ھ کو اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔ آپ کا مدفن مبارک خرتنگ (سمرقند) میں ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!