| عنوان: | حضرت امام شافعیؒ: نقوشِ حیات، علمی مقام اور اخلاقی عظمت |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
نقوشِ حیات، نام و نسب اور ولادت
آپ کا اسمِ گرامی محمد، کنیت ابو عبد اللہ اور لقب ناصر الحدیث ہے۔ جدِ اعلیٰ کی نسبت سے آپ کو "شافعی" کہا جاتا ہے۔
سلسلۂ نسب:
محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع بن سائب بن عبید بن عبد یزید بن ہاشم بن مطلب بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فهر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔
امام شافعیؒ کا سلسلۂ نسب عبد مناف پر رسول اللہ ﷺ کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے۔
ولادتِ با سعادت:
آپ کی ولادت ۱۵۰ھ میں بمقام غزہ (شام) ہوئی، اگرچہ عسقلان اور یمن کی بھی روایتیں ملتی ہیں، مگر علامہ ابن خلکان کے نزدیک غزہ کا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔
آپ کی ولادت سے قبل آپ کی والدہ ماجدہ نے خواب دیکھا کہ مشتری ستارہ ان کے جسم سے نکل کر مصر میں گرا اور اس کی روشنی ہر شہر تک پہنچی۔ معبرین نے تعبیر دی کہ ان کے بطن سے ایک بے نظیر عالم پیدا ہوگا جس کا علم دنیا بھر میں عام ہوگا۔ جب آپ کی عمر محض دو سال تھی، تو آپ کی والدہ محترمہ آپ کو غزہ سے مکہ مکرمہ لے آئیں۔
علم و فضل اور شیوخ و اساتذہ
اللہ تعالیٰ نے امام شافعیؒ کو قوتِ استنباط، پختہ بصیرت، بلاغت و فصاحت اور علم و فضل کا بے گراں شوق عطا فرمایا تھا۔ آپ نے تنگ دستی کی سختیاں جھیل کر تحصیلِ علم کی اور جگہ جگہ سفر فرما کر وقت کے نامور علماء سے علم حاصل کیا۔ فقہ، حدیث اور سنت کے جامع آپ کے انیس (۱۹) ممتاز شیوخ درج ذیل ہیں:
• مکی شیوخ: سفیان بن عیینہ، مسلم بن خالد زنجی، سعید بن سالم مداح، داؤد بن عبدالرحمن عطار، عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد۔
• مدنی شیوخ: امام مالک بن انس، ابراہیم بن سعد انصاری، عبدالعزیز بن محمد دراوردی، ابراہیم بن ابی یحییٰ اسامی، محمد بن ابی سعید، عبداللہ بن نافع صائغ۔
• یمنی شیوخ: مطرف بن مازن، ہشام بن یوسف، عمر بن ابی سلمہ، یحییٰ بن حسان۔
• عراقی شیوخ: وکیع بن جراح، ابو اسامہ حماد بن اسامہ، اسماعیل بن علیہ، عبدالوہاب بن عبدالمجید، اور امام محمد بن حسن شیبانی۔
فہمِ قرآن اور تفسیری بصیرت
امام شافعیؒ عربی لغت، ادب اور اسالیبِ نثر و نظم پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے آیاتِ احکام کے اسرار و رموز اور اعجازِ بیان پر عمیق نظر رکھی۔ آپ کی مشہور تصنیف احکام القرآن میں قرآن کے احکام کی چار بنیادی اقسام بیان کی گئی ہیں:
۱۔ عقائد: توحید، رسالت، کتبِ سماویہ، انبیاء کرام علیہم السلام اور آخرت پر ایمان۔
۲۔ عبادات: خدا اور بندے کے درمیان تمدنی و بدنی حقوق (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج) اور بندوں کے باہمی تحفظ و معاشرت کے قوانین (نکاح، طلاق، وراثت)۔
۳۔ معاملات: باہمی خرید و فروخت (بیع) اور اجارہ وغیرہ کے قوانین۔
۴۔ عقوبات: تعزیری قوانین، حدود اور قصاص۔
آپ کا فرمان تھا کہ جو شخص لغتِ عرب، حالاتِ نزول اور سیرتِ نبوی ﷺ کے بغیر تفسیر کی جرأت کرتا ہے، وہ قرآنی حلاوت اور اس کی حقیقی نصیحت سے محروم رہتا ہے۔
علمی تصانیف
آپ نے دنیائے علم کو لازوال علمی اثاثہ عطا فرمایا:
• الرسالہ: اصولِ فتاویٰ و فقہ پر آپ کی کمسنی اور شاہکار تصنیف۔
• کتاب الأم: فقہی احکام اور مسائل پر مشتمل آپ کا مبسوط ترین مجموعہ۔
• مسند امام شافعی: احادیثِ مبارکہ کا عظیم مجموعہ۔
جاحظ نے آپ کے طرزِ تحریر پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ: "میں نے امام شافعی کی کتابیں دیکھیں، وہ پروئے ہوئے موتی کی مانند ہیں، ان سے خوبصورت تالیف میں نے نہیں دیکھی"۔
زہد، توکل اور قناعت
امام شافعیؒ کی زندگی صبر و قناعت کا عملی نمونہ تھی۔ آپ نے حرص و طمع اور دنیاوی عہدوں سے ہمیشہ دوری اختیار کی۔
• کم خوری: آپ فرماتے تھے: "میں نے سولہ سال سے کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا، کیونکہ پیٹ بھر کھانا جسم کو بوجھل، دل کو سخت، اور ذہن کو سست کر کے عبادت سے محروم کر دیتا ہے"۔
• عہدۂ قضا سے معذرت: جب خلیفہ ہارون رشید نے آپ کو قاضی کا عہدہ پیش کیا تو آپ نے صاف معذرت کر لی۔
• قناعت پر ارشاد: "جس نے قناعت اختیار کی، اس سے دوسروں کے سامنے عاجز ہونے کی ذلت ختم ہو گئی"۔
جود و سخاوت اور فیاضی
سخاوت آپ کا امتیازی وصف تھا۔ آپ خود تہی دست رہتے لیکن مانگنے والوں کو ان کی توقع سے زیادہ عطایا سے نوازتے۔
ایک مرتبہ ایک بقال نے شادی کے لیے امداد چاہی اور صرف ۱۰ درہم کا سوال کیا، آپ نے اسے ۳۰ دینار دینے کا حکم دیا۔ خلیفہ ہارون رشید جب بھی آپ کو نذرانے میں اشرفیاں پیش کرتا، آپ واپس آتے ہوئے رستے میں ہی تمام اشرفیاں محتاجوں میں بانٹ دیتے اور گھر خالی ہاتھ پہنچتے۔
رحلت، تجہیز و تکفین
• آخری ایام اور رجب ۲۰۴ھ: ۳۰ رجب ۲۰۴ھ کو یومِ پنجشنبہ (جمعرات) کے دن عصر کے وقت آپ کی طبیعت شدید ناساز ہو گئی۔ شاگردِ رشید امام مزنیؒ نے مزاج پوچھا تو آپ نے اپنے اشعار میں دنیا سے رخصتی، موت کا جام پینے اور بارگاہِ الٰہی میں پیشی کی کیفیت کو درد انگیز انداز میں بیان فرمایا۔
• تجہیز و تکفین: آپ کی روح شبِ جمعہ عشاء کے وقت پرواز کر گئی۔ جمعہ کے دن امام مزنیؒ نے آپ کو غسل دیا۔ سیدہ نفیسہ بنت حسن بن زیدؒ نے سب سے پہلے جنازے کی نماز پڑھی اور سری بن عبدالکریمؒ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
• مدفن: آپ کو قاہرہ کے باہر جبلِ مقطم کے پاس قرافۃ الصغریٰ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد جب نعش کو بغداد منتقل کرنے کے لیے قبر کشائی کی کوشش کی گئی تو اندر سے ایسی شدید اور عطر بیز خوشبو آنے لگی کہ لوگ باختہ ہو گئے اور یہ ارادہ ہمیشہ کے لیے ترک کر دیا۔
