حضرت امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ (حیات و خدمات)

حضرت امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ (حیات و خدمات)
عنوان: حضرت امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ (حیات و خدمات)
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

اسمِ گرامی، نسب اور ولادت

آپ کا اسمِ گرامی مسلم، کنیت ابوالحسن اور لقب عساکر الدین ہے۔ آپ کا مکمل سلسلۂ نسب اس طرح ہے: مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کوشاد۔

آپ کا وطن نیشاپور تھا، جو خراسان کا ایک مشہور و معروف اور مردم خیز شہر تھا اور تیسری صدی ہجری میں اسلامی دنیا کا ایک باوقار علمی مرکز شمار ہوتا تھا۔ نسب کے اعتبار سے آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے قشیر سے تھا، اسی لیے آپ کو قشیری بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے سنِ ولادت میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، تاہم راجح قول کے مطابق آپ کی ولادت ۲۰۶ھ میں بمقام نیشاپور ہوئی۔

تحصیلِ علم اور اسفار

حضرت امام مسلم کا زمانہ علمِ حدیث کی نقل و روایت اور تدریس و تدوین کا زریں عہد تھا۔ علمِ حدیث کے بڑے بڑے مراکز اسلامی شہروں میں قائم ہو چکے تھے جہاں اکابر محدثین کا فیض عام جاری تھا۔ نیشاپور خود علمِ حدیث کے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا تھا جہاں محدثین کے بڑے بڑے حلقے قائم تھے۔

امام مسلم نے ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد تقریباً بارہ سال کی عمر میں—جب کہ عقل و فہم میں استواری اور حفظ میں پختگی आती ہے—عقیدت و احترام کے جذبے اور حسنِ نیت و خلوص کے ساتھ اس کوچے میں قدم رکھا۔ آپ نے علمِ حدیث کی طلب میں خراسان، عراق، حجاز، شام، بغداد اور مصر کے دور دراز علاقوں کا سفر (سعیِ بلیغ) کیا اور وہاں کے جلیل القدر محدثین سے کسبِ فیض کر کے اس علم میں کامل دستگاہ حاصل کی۔

فضل و کمال اور ائمہ کا خراجِ تحسین

امام مسلم نے اپنے دور کے علمی چشموں سے کامل فیض پایا اور علومِ حدیث کے بحرِ بے کنار میں غواصی کر کے لعل و جواہر اپنے دامن میں سمیٹے۔ آپ کی خداداد ذہانت، طباعی، اور قوتِ حفظ و ضبط کو دیکھ کر آپ کے اساتذہ ششدر رہ جاتے تھے۔

استاد امام اسحاق راہویہ علیہ الرحمہ کی پیشین گوئی: آپ کے استاد امام اسحاق راہویہ آپ کے بارے میں فرماتے تھے: "أَيُّ رَجُلٍ يَكُونُ هَذَا" (خدا جانے یہ کتنا بلند انسان ہوگا!)۔

اسحاق بن منصور علیہ الرحمہ کی رائے: اسحاق بن منصور نے امام مسلم کی طرف دیکھا اور آپ کی عظمت و بزرگی پر نظر کرتے ہوئے فرمایا: "لَنْ نَعْدَمَ الْخَيْرَ مَا أَبْقَاكَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ" (جب تک خدا آپ کو مسلمانوں کے لیے زندہ رکھے گا، بھلائی ہمارے ہاتھ سے نہ جائے گی)۔

آپ کا اخلاقی مقام یہ تھا کہ آپ نے عمر بھر نہ کسی کی غیبت کی، نہ کسی کو مارا اور نہ کسی کو گالی دی۔ آپ صحیح و سقیم حدیث کی پہچان میں اپنے تمام معاصرین میں ممتاز تھے، بلکہ بعض امور میں آپ کو امام بخاری پر بھی ترجیح و فضیلت حاصل ہے۔

جامع صحیح مسلم اور اس کی وجہِ تالیف

عالمِ اسلام میں جن کتابوں کو صحاح کے نام سے شہرت حاصل ہے، ان میں بالاشبہ صحیح بخاری کا مرتبہ سب سے بلند ہے، لیکن اس کے بعد جس اہم کتاب کا نام نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے وہ امام مسلم کی الجامع الصحیح ہے۔ حسنِ ترتیب و تدوین کے اعتبار سے یہ کتاب صحیح بخاری پر بھی فوقیت رکھتی ہے۔

حافظ علی نیشاپوری کا قول: "مَا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ كِتَابٌ أَصَحَّ مِنْ كِتَابِ مُسْلِمٍ" (آسمان کے نیچے صحیح مسلم سے بڑھ کر اور کوئی صحیح کتاب نہیں ہے)۔

وجہِ تالیف: جامع صحیح کی وجہِ تالیف کچھ یوں ہے کہ بعض تلامذہ نے امام مسلم سے یہ درخواست کی کہ احادیثِ صحیحہ کا ایک ایسا مجموعہ تیار کریں جس میں بلا تکرار احادیث کو جمع کیا جائے۔ چنانچہ اس درخواست پر امام مسلم نے "صحیح مسلم" کو تالیف فرمایا۔ صحیح مسلم میں مکررات کو چھوڑ کر احادیث کی تعداد تقریباً چار ہزار (۴,۰۰۰) ہے۔

خصوصیاتِ صحیح مسلم

صحیح مسلم میں شرائطِ اخذِ حدیث امام بخاری سے بھی سخت ہیں:

۱۔ راویوں کا معیار: امام مسلم نے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ اپنی صحیح میں صرف ایسی حدیث بیان کریں گے جس کو کم از کم دو ثقہ تابعین نے دو صحابیوں سے روایت کیا ہو، اور یہی شرط تمام طبقات (تابعین و تبع تابعین) میں ملحوظ رکھی ہے یہاں تک کہ سلسلۂ اسناد ان تک ختم ہو۔
۲۔ عدالت کے ساتھ شہرت: وہ صرف راویوں کی عدالت پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ شرطِ شہادت (شہرت و معرفت) کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہیں۔
۳۔ اجماعِ مشائخ: احادیث کی صحت کے معاملے میں صرف اپنی رائے پر اعتماد نہیں کیا بلکہ ان احادیث کا اندراج فرمایا جو مشائخِ وقت کے نزدیک بالاتفاق صحیح تھیں۔

تصنیف و تالیف

حافظ ذہبی، امام مسلم کو "صاحبِ تصانیفِ کثیرہ" قرار دیتے ہیں۔ آپ کی مشہور ترین تصانیف میں شامل ہیں:

۱. صحیح مسلم شریف
۲. مسندِ کبیر
۳. الاسماء والکنیٰ
۴. جامع کبیر
۵. کتاب العلل
۶. کتاب التمییز
۷. کتاب الوحدان
۸. کتاب الافراد
۹. کتاب الاقراں
۱۰. کتاب اولاد الصحابہ
۱۱. کتاب اوہام المحدثین وغیرہ۔

وفاتِ حسرت آیات

آپ کی وفات کا واقعہ علمی جستجو اور کمالِ انہماک کی ایک حیرت انگیز داستان ہے۔ وفات کے ایام تک حدیثِ رسول کی تلاش و جستجو کا حیرت انگیز انہماک قائم رہا۔

ایک دن مجلسِ مذاکرہ میں امام مسلم سے ایک حدیث کے بارے میں استفسار کیا گیا۔ اس وقت آپ اس حدیث کے بارے میں کچھ نہ بتا سکے، گھر آ کر کتابوں میں اس کی تلاش شروع کر دی۔ قریب ہی کھجور کا ایک ٹوکرا رکھا ہوا تھا، امام مسلم حدیث کی تلاش کے دوران ایک ایک کھجور اٹھا کر کھاتے رہے۔ حدیث تلاش کرنے میں غرق اور انہماک کا یہ عالم تھا کہ کھجوروں کی مقدار کی جانب آپ کی توجہ نہ ہو سکی۔

بالآخر وہ حدیث مل گئی اور اسی اثناء میں کھجوروں کا سارا ٹوکرا خالی ہو گیا۔ غیر ارادی طور پر کھجوروں کے زیادہ کھا لینے ہی کی وجہ سے آپ کی طبیعت ناساز ہو گئی اور یہی بیماری آپ کی وفات کا سبب بن گئی۔

اس طرح ۲۴ رجب ۲۶۱ھ بروز اتوار، دن کے وقت شام کے قریب علمِ حدیث کا یہ درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا۔ اگلے دن ہزاروں سوگواروں نے نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد آپ کو سپردِ خاک کر دیا۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!