حضرت امام ابن ماجہ رحمہ اللہ علیہ کی حیات، خدمات اور سنن ابن ماجہ

حضرت امام ابن ماجہ رحمہ اللہ علیہ کی حیات، خدمات اور سنن ابن ماجہ
عنوان: حضرت امام ابن ماجہ رحمہ اللہ علیہ کی حیات، خدمات اور سنن ابن ماجہ
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

ولادت اور اسمِ گرامی

آپ کا اسمِ گرامی محمد، کنیت ابو عبد اللہ اور لقب حافظ ہے۔ آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے: محمد بن یزید بن عبد اللہ بن ماجہ ربعی قزوینی۔

ماجہ آپ کے والد ماجد کا لقب تھا۔ آپ کی ولادتِ با سعادت عراقِ عجم کے مشہور شہر قزوین میں ۲۰۹ھ میں ہوئی۔ آپ نسلاً عجمی تھے اور قبیلہ 'ربعیہ' کی طرف نسبتِ ولاء کی بنا پر ربعی کہلاتے تھے۔

تحصیلِ علم اور اسفار

امام ابن ماجہ کا زمانہ علمِ حدیث کی ترقی اور اشاعت کا زریں دور تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد طلبِ حدیث کے لیے دور دراز بلاد و امصار کا سفر اختیار فرمایا۔ ابن خلکان کے بیان کے مطابق آپ نے کتابتِ حدیث کی غرض سے عراق، بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ، شام، مصر اور رے (Rayy) جیسے اہم علمی مراکزی کا سفر کیا اور علمِ حدیث میں کمال حاصل کیا۔

علمی مقام، زہد و تقویٰ

ابن خلکان فرماتے ہیں:

"کان إماماً فی الحديث عارفاً بعلومه و جميع ما يتعلق به"
(ترجمہ: آپ حدیث کے امام، اس کے علوم اور تمام متعلقہ فنون کا گہرا درک رکھنے والے تھے)

آپ تدین، تقویٰ، زہد اور صلاح کے اعلا مرتبے پر فائز تھے۔ احکامِ شریعت کی سختی سے پابندی فرماتے اور اصول و فروع میں سچے متبعِ سنت تھے۔ آپ کی تصنیف 'سنن ابن ماجہ' اس بات کی روشن شاہد ہے۔

تصانیف

امام ابن ماجہ ایک بلند پایہ مصنف بھی تھے۔ آپ کی تین مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:

۱. سنن ابن ماجہ
۲. تفسیر ابن ماجہ
۳. التاریخ

تعارفِ سنن ابن ماجہ

سنن ابن ماجہ علمِ حدیث کی ایک مایۂ ناز اور لطیف تصنیف ہے۔ اس میں ۱,۵۰۰ ابواب اور تقریباً ۴,۰۰۰ احادیث شامل ہیں۔

امام ابو زرعہ کا خراجِ تحسین: جب امام ابن ماجہ نے یہ کتاب امام ابو زرعہ کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اسے دیکھ کر بے ساختہ فرمایا: "اگر یہ کتاب لوگوں کے ہاتھ میں پہنچ گئی تو اس دور کی اکثر جوامع و مصنفات بے کار و معطل ہو کر رہ جائیں گی"۔

حافظ ابن حجر عسقلانی کا قول: "ان کی یہ کتاب جامع، عمدہ اور کثیر الابواب و الغرائب ہے، اگرچہ اس میں کچھ ضعیف احادیث بھی موجود ہیں"۔

ابن کثیر کا خراجِ عقیدت: "صاحبِ کتاب السنن المشہورة؛ یہ کتاب ان کے علم، تبحر، علمی اطلاع اور اصول و فروع میں اتباعِ سنت پر دلالت کرتی ہے"۔

سنن ابن ماجہ کی اہم خصوصیات

حسنِ ترتیب: یہ کتاب ترتیب اور تبویب کے لحاظ سے تمام کتبِ صحاح پر فوقیت رکھتی ہے۔

عدمِ تکرار و اختصار: تکرار سے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت جامع کتاب ہے اور دیگر کتب کے مقابلے میں زیادہ مسائل و معلومات پر مشتمل ہے۔

احکام سے متعلق مرویات: اس کی مرویات کا زیادہ تر تعلق مسائل و احکام سے ہے، محض فضائل و مناقب سے نہیںے۔

منفرد احادیث: اس میں بہت سی ایسی احادیث موجود ہیں جو دیگر صحاحِ ستہ میں نہیں ملتیں۔

صحاحِ ستہ میں مقام: علامہ ابو الحسن سندھی لکھتے ہیں کہ متاخرین کی غالب اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ 'سنن ابن ماجہ' صحاحِ ستہ کی چھٹی کتاب ہے۔

وصال

آپ نے ۲۲ رمضان المبارک ۲۷۳ھ (بروز پیر) کو ۶۴ سال کی عمر میں وفات پائی، اور دوسرے دن منگل کے روز تجہیز و تکفین عمل میں آئی۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!