| عنوان: | حضرت امام ابو عبدالرحمٰن نسائی اور سننِ نسائی کا علمی مقام |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
ولادت اور نسب
علمِ حدیث کے عظیم الشان امام، حضرت امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر بن دینار خراسانی نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۲۱۵ھ میں ہوئی۔ آپ کا وطنِ اصلی خراسان کا مشہور شہر نسا تھا، جو اس دور میں علم و فضل کا اہم مرکز شمار ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے آپ کو نسائی کہا جاتا ہے۔
تحصیلِ علم اور اسفار
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۵ سال کی عمر تک ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد علمِ حدیث کی پیاس بجھانے کے لیے سفر کا آغاز کیا۔
• سب سے پہلے قتیبہ بن سعید بلخی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے پاس ایک سال دو ماہ قیام کر کے علمِ حدیث حاصل کیا۔
• اس کے بعد آپ نے اسلامی دنیا کے مختلف تعلیمی مراکز جیسے حجاز، عراق، شام اور مصر کے مشائخ و محدثین کی بارگاہوں کا رخ کیا اور وساطتِ علم حاصل کی۔
فضل و کمال اور فقہی بصیرت
حدیث مبارکہ میں مہارت، حفظ، ضبط، اور فہم و بصیرت میں آپ کو قدرت نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔
• تاریخ و رجال کی کتابوں میں آپ کو الحافظ الامام شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔
• آپ فنِ حدیث کے ساتھ ساتھ فقہ پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔
• امام حاکم اور امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہما کے مطابق آپ مصر کے سب سے بڑے فقہیہ شمار ہوتے تھے۔
• آپ کی قوتِ اجتہاد اور علمی بصیرت کی بنا پر آپ کو حمص کا قاضی بھی مقرر کیا گیا تھا، جہاں آپ کی فقہی بصیرت روزِ روشن کی طرح عیاں رہی۔
تصانیفِ عالیہ
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے علومِ حدیث اور دیگر دینی علوم میں متعدد گراں قدر تصانیف چھوڑیں، جن میں سے چند مشہور کتب درج ذیل ہیں:
۱. السنن الکبریٰ
۲. المجتبٰی (سنن صغریٰ)
۳. خصائص علی
۴. مسند علی
۵. مسند مالک
۶. مسند منصور
۷. فضائل الصحابہ
۸. کتاب التمییز
۹. کتاب المدلسین
۱۰. کتاب الضعفا
۱۱. کتاب الاخوہ
۱۲. کتاب الجرح والتعدیل
۱۳. اسماء الرواۃ
۱۴. مناسکِ حج
امام نسائی کی تصانیف میں سنن کے نام سے دو اہم کتابیں ہیں: سننِ کبریٰ اور سننِ صغریٰ۔ صحاحِ ستہ (حدیث کی ۶ معتبر ترین کتابوں) میں سننِ صغریٰ شامل ہے، جسے المجتبٰی بھی کہا جاتا ہے۔
سننِ نسائی کا تعارف اور خصوصیات
سببِ تالیف:
جب امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے "السنن الکبریٰ" تالیف کی، تو امیرِ وقت نے ان سے دریافت کیا: "کیا اس کتاب کی تمام احادیث صحیح ہیں؟" آپ نے فرمایا: "نہیں۔ اس میں حسن اور صحیح دونوں قسم کی احادیث ہیں اور کچھ دیگر روایات بھی"۔ امیر نے درخواست کی: "میرے لیے صرف اعلیٰ درجے کی صحیح احادیث کا ایک مجموعہ مرتب فرما دیں"۔ چنانچہ آپ نے السنن الکبریٰ کا اختصار فرمایا اور المجتبٰی (معروف بہ سننِ نسائی) تصنیف فرمائی، جس میں صحیح الاسناد روایات درج ہیں۔
حافظ عبداللہ بن رشید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"علمِ سنن میں جتنی کتابیں تالیف ہوئی ہیں، تصنیف کے لحاظ سے سننِ نسائی ان سب میں نادر اور ترتیب کے لحاظ سے عمدہ ہے۔ یہ کتاب بخاری اور مسلم دونوں کے طریقہ کی جامع ہے"۔
سننِ نسائی کی ممتاز خصوصیات:
• کڑے شرائط: سننِ نسائی کی شرائط بعض امور میں امام بخاری اور امام مسلم سے بھی سخت ہیں۔
• جامع اسلوب: یہ کتاب بخاری، مسلم، ترمذی اور ابو داؤد کے بعد لکھی گئی، اس لیے اس میں تمام کتبِ صحاح کے اسالیب کا بہترین امتزاج ملتا ہے۔
• استنباطِ مسائل: امام بخاری کی طرح ایک حدیث کو متعدد ابواب میں ذکر کر کے اس سے مختلف فقہی مسائل ثابت کرتے ہیں۔
• طرق و الفاظ کا جمع کرنا: امام مسلم کی طرح ایک حدیث کے تمام طرق اور الفاظ کے اختلاف کو ایک جگہ جمع فرماتے ہیں۔
• فقہی احکام: امام ابو داؤد کے انداز میں صرف احکامِ فقہ سے متعلق احادیث کی تدوین کی گئی ہے۔
• راویوں پر بحث: امام ترمذی کی طرح احادیث کے ذیل میں ان کے راویوں کی حالت پر گفتگو فرماتے ہیں۔
• حسنِ ترتیب: ترتیب و تالیف کی خوبصورتی اور عمدگی کے لحاظ سے یہ تمام کتبِ سنن میں ممتاز اور منفرد مقام رکھتی ہے۔
حادثۂ شہادت اور وفات
عمر کے آخری حصے میں امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ دمشق تشریف لے گئے۔ اس وقت وہاں بنو امیہ کے حامیوں اور خوارج کا اثر و رسوخ تھا، جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آلِ بیت کی شان میں گستاخیاں کی جاتی تھیں۔ امام نسائی نے آلِ علی کے فضائل میں اپنی کتاب "خصائصِ علی" جامع مسجدِ دمشق میں پڑھ کر سنائی۔
بعض متعصب لوگوں کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے آپ سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں حدیث بیان کرنے کو کہا۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ روایات بیان کیں جو ان تک پہنچیں، جس پر مشتعل ہجوم نے آپ پر تشدد کیا، جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے۔
آپ نے اپنے خدام سے فرمایا: "مجھے مکہ لے چلو"۔ چنانچہ آپ کو مکہ مکرمہ لایا گیا، جہاں ۱۳ صفر ۳۰۳ھ کو آپ کا انتقال ہوا۔ صحیح قول کے مطابق آپ کی وفات مکہ مکرمہ میں ہوئی اور آپ کو صفا اور مروہ کے درمیان سپردِ خاک کیا گیا۔
