یومِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور "پیس اینڈ ہیومنیٹی ڈے"

یومِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور "پیس اینڈ ہیومنیٹی ڈے"
عنوان: یومِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور "پیس اینڈ ہیومنیٹی ڈے"
تحریر: محمد ابرار عالم مصباحی

بعثتِ نبوی سے قبل دنیا کے حالات

حضورِ رحمتِ عالم ﷺ کی آمد سے قبل ہر طرف بدامنی کا دور دورہ تھا۔ دورانِ سفر مسافر کو ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا تھا کہ کسی بھی وقت ڈاکوؤں اور بدمعاشوں کا کوئی گروہ حملہ آور ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بدامنی صرف جنگلوں اور بیابانوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ آبادیوں میں بھی یہی حال تھا۔ سماج کا کمزور طبقہ ہر وقت طاقتور کے نشانے پر رہتا، اور جب چاہتا طاقتور لوگ کمزوروں کو جانی و مالی نقصان پہنچا دیتے۔ غرض یہ کہ ہر طرف بدامنی ہی بدامنی تھی؛ نہ کسی کی عزت محفوظ تھی، نہ مال اور نہ ہی جان۔

انسانیت کا بھی حال کچھ ایسا ہی تھا کہ انسان کو قابلِ تکریم سمجھا جاتا تھا، لیکن صرف اس وقت جب وہ گورا ہو، دولت مند ہو، سردار ہو یا کسی خاص قبیلے سے تعلق رکھتا ہو۔ لیکن اگر وہ کالا ہو، غریب ہو یا کسی بااثر قبیلے سے تعلق نہ رکھتا ہو تو پھر انسان ہوتے ہوئے بھی کسی تکریم کا حقدار نہ سمجھا جاتا۔

دینِ اسلام اور امن و انسانیت کا قیام

پھر ہمارے نبی ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور دنیا میں امن اور خالص انسانیت کی بحالی کے لیے انتھک جدوجہد فرمائی۔ یہاں تک کہ امن کا یہ عالم ہو گیا کہ ایک عورت عراق کے شہر حیرہ سے تنہا اپنی سواری پر بیٹھ کر مکہ آتی اور اسے سفر میں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوتا۔ اور انسانیت کی تکریم کا یہ عالم ہوا کہ کالے رنگ کے غیر عرب غلام حضرت بلالِ حبشی رضی اللہ عنہ کو قریش سے تعلق رکھنے والے امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنا سردار کہہ کر مخاطب کرتے۔

اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا
خاک کے ذروں کو ہمدوشِ ثریا کر دیا

"پیس اینڈ ہیومنیٹی ڈے" کا پس منظر

اسی لیے تنظیم دعوتِ قرآن ۲۰۱۶ء سے تاحال حضورِ رحمتِ عالم ﷺ کے یومِ ولادت کو "پیس اینڈ ہیومنیٹی ڈے" یعنی یومِ امن و انسانیت کے طور پر مناتی ہے۔

تنظیم محض ایک دن منانے کا کام نہیں کرتی، بلکہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو زندگی میں اتارنے، امن کو فروغ دینے، انسانیت کی خدمت کرنے اور محبت و اخوت کا پیغام عام کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کرتی ہے، بحمدہ تعالی جس کے اثرات کو محسوس بھی کیا جا رہا ہے۔

فلاحی سرگرمیاں اور خدمتِ انسانیت کے کام

اس موقع پر دعوتِ قرآن کی جانب سے انجام دی جانے والی مختلف سرگرمیوں اور خدمتِ انسانیت کے کاموں کی مختصر تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

فری آئی چیک اَپ کیمپ: ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو مدعو کرکے فری آئی چیک اَپ کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس کیمپ میں آنکھوں کا معائنہ مکمل طور پر مفت کیا جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹر کسی مریض کے لیے چشمہ یا دوا تجویز کرتے ہیں تو وہ بھی مفت فراہم کی جاتی ہے۔ الحمدللہ، ہر سال تقریباً ۵۰۰ افراد اس کیمپ سے استفادہ کرتے ہیں۔

اسکالرشپ کی تقسیم: تعلیم کے فروغ اور غریب و محنتی طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر سال مستحق طلبہ میں ۴۰۰۰ روپے بطور اسکالرشپ تقسیم کیے جاتے ہیں، تاکہ مالی مشکلات ان کی تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔

راشن کی تقسیم: معاشرے میں ایسے بہت سے سفید پوش اور خوددار افراد موجود ہیں جو ضرورت مند ہونے کے باوجود کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرتے۔ ایسے ہی مستحق خاندانوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے ۲۰۰ سے زائد افراد کے گھروں تک ایک ماہ کا مکمل راشن کٹ پہنچایا جاتا ہے۔

مریضوں کی عیادت: علاقے کے مختلف اسپتالوں میں جا کر تنظیم کے ممبران مریضوں کی عیادت کرتے ہیں، ان کی خیریت دریافت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہمدردی و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس موقع پر انہیں ہارلکس کا ڈبہ اور دیگر صحت بخش غذاؤں پر مشتمل گفٹ پیک بھی پیش کیا جاتا ہے۔

بھوکوں کو کھانا کھلانا: پی جی ہاسپیٹل کولکاتا اور اس کے اطراف و جوانب سے بہت سے لوگ اپنے مریضوں کے علاج کے لیے آتے ہیں۔ مریضوں کے ساتھ آنے والے بعض افراد روزانہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے۔ ایسے لوگوں کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ان کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے، تاکہ علاج و تیمارداری کے مشکل وقت میں انہیں کم از کم کھانے کی فکر نہ رہے۔

پیغامِ محبت: محبت، اخوت اور انسان دوستی کا پیغام عام کرنے کے لیے تنظیم کے ممبران کی ایک ٹیم گلاب کے پھول اور ناشتے کے پیکٹ لے کر سڑکوں پر نکلتی ہے اور راستے سے گزرنے والے لوگوں کو بلا تفریقِ مذہب و ملت یہ تحفہ پیش کرتی ہے۔ اس خوبصورت عمل کے ذریعے اسلام کے پیغامِ محبت، امن اور خیر خواہی کو عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

شجر کاری: ماحول کو بہتر اور سرسبز بنانے کے مقصد سے خضرپور کی مختلف جگہوں پر شجر کاری کی جاتی ہے۔ اس سرگرمی کے ذریعے نہ صرف ماحول کی حفاظت کا پیغام دیا جاتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

یتیم بچوں کے ساتھ محبت: یتیم بچوں کے ساتھ محبت و شفقت کا اظہار بھی ہماری فلاحی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ یتیم خانے میں جا کر میلاد النبی ﷺ کی خوشیاں ان بچوں کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں۔ اس موقع پر انہیں روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کے ساتھ میٹھائیاں اور مختلف قسم کے کھلونے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ (اس سرگرمی کی تصویری جھلکیاں دعوتِ قرآن کی ویب سائٹ اور فیس بک پیج وغیرہ پر بھی دیکھی جا سکتی ہیں)۔

محفلِ میلاد النبی ﷺ: محفلِ میلاد النبی ﷺ کا انعقاد بھی ہماری دینی و روحانی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔ محفل کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم مع ترجمہ سے ہوتا ہے، جس کے بعد منظوم و منثور انداز میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ محفل کے اختتام پر صلوٰۃ و سلام پیش کیا جاتا ہے اور پھر اجتماعی دعا کے ساتھ اس بابرکت محفل کا اختتام عمل میں آتا ہے۔

دعائیہ کلمات

اللہ کریم ہماری اس تنظیم کو لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع بخش بنائے، اس کے تمام فلاحی و سماجی کاموں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، تمام کارکنان کی محنتوں کو بارآور فرمائے اور تنظیم سے محبت رکھنے والے تمام افراد کو سعادتِ دارین نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!