آمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے قرآنی مقاصد

آمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے قرآنی مقاصد
عنوان: آمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے قرآنی مقاصد
تحریر: مولانا ابو النور راشد علی عطاری مدنی

عدل پر مبنی نظامِ زندگی کا قیام

اللہ تعالیٰ کی جانب سے انبیاء کی بعثت کا ایک عظیم اور دائمی مقصد یہ رہا ہے کہ وہ معاشرے میں عدل قائم کریں، ظلم و استحصال کا خاتمہ کریں اور زندگی کے تمام شعبوں میں ایسا توازن لائیں جو انسان کی فطرت، ضرورت اور حق کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت بھی اسی تسلسل کی کڑی تھی، مگر اس میں کمال اور اتمام کا پہلو نمایاں تھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کو اس لیے بھی بھیجا گیا کہ انسانیت کو ایک ایسا جامع نظام دیا جائے جو عبادات کے ساتھ ساتھ معیشت، معاشرت، عدلیہ، تجارت اور تعلیم الغرض ہر میدان میں عدل کو قائم کرے۔

قرآنِ مجید نے اس عظیم مقصد کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
﴿لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾
ترجمہ کنز الایمان: بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔(۱)

یہ ایک جامع اعلان ہے کہ نبیوں کی بعثت کا مقصد فرد کی اخروی نجات کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی اجتماعی سطح پر عدل کا قیام ہے۔ کتاب، جو وحی ہے اور میزان، جو اعتدال اور عدل کا پیمانہ ہے، دونوں رسولوں کے ساتھ اس لیے نازل کی گئیں تاکہ معاشرہ کسی بھی ظلم، ناانصافی یا طاقت کے ناجائز استعمال سے محفوظ رہے۔

رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے مکہ میں جب اپنی دعوت کا آغاز کیا تو ظلم، غلامی، نسل پرستی اور سرمایہ داری نظام نے جڑیں پکڑ رکھی تھیں۔ طاقتور کمزور کو دباتے، عورت کو وراثت سے محروم رکھا جاتا، یتیم کا مال کھایا جاتا اور فیصلے خاندانی تعصب پر ہوتے۔ ایسے وقت میں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے وحی کی روشنی میں عدل کے اصول پیش کیے اور عملی طور پر ان کا نفاذ کیا۔

آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی عدالت میں کوئی غیر معروف شخص بھی حق دار ہوتا تو انصاف پاتا۔ مشہور واقعہ ہے کہ قریش کی ایک بااثر خاتون (فاطمہ) مخزومیہ نے چوری کی، تو بعض لوگوں نے سفارش کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے سختی سے فرمایا: ”اگر فاطمہ بنتِ محمد بھی چوری کرتی، تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“(۲)

یہ اعلان تھا کہ عدل قبیلے، تعلق، حیثیت، یا طاقت کا محتاج نہیں، وہ صرف حق کا پابند ہے۔

قرآن نے عدل کو محض ایک اخلاقی وصف کے طور پر بیان نہیں کیا، بلکہ ایک فریضۂ الٰہیہ بنایا:
﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ﴾
ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی (کا)۔ (۳)

بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ پہلو یعنی عدل کا قیام در حقیقت اللہ کی صفتِ عدل کا عملی مظاہرہ ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک زندہ معاشرے کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔

آج بھی جب دنیا ظلم، عدمِ مساوات، طبقاتی نظام، نسلی امتیاز اور سیاسی استبداد کا شکار ہے تو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہی مشن اُمّت کے سامنے ایک تازہ تقاضا بن کر کھڑا ہے کہ وہ عدل کو اپنے عمل، اداروں، قانون اور رویوں میں غالب کرے۔ یہی بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچائی کا اقرار ہے اور یہی اس کا فطری تقاضا بھی ہے۔

غفلت زدہ قوموں کو بیدار کرنا

جب نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سورج طلوع ہوا تو انسانیت ایک لمبی رات کی تاریکی میں سوئی ہوئی تھی۔ عقل و فہم سُست ہو چکے تھے، شعور پر تعصب کی گرد جم چکی تھی، دل دنیا کے دھندلکوں میں منجمد ہو چکے تھے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ایک ایسی سوئی ہوئی دنیا کو جگائیں جو حق کی صدا سے غافل اور مقصدِ زندگی سے لا علم ہو چکی تھی۔

قرآن نے اس عالمگیر غفلت کو یوں بیان فرمایا: ﴿لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ﴾ ترجمہ کنزالایمان: تاکہ تم اس قوم کو ڈر سناؤ جس کے باپ دادا نہ ڈرائے گئے تو وہ بے خبر ہیں۔(۴)

یہ غفلت محض معلومات کی کمی کا نام نہیں تھی بلکہ یہ فکر اور رُوحانی بیداری کی موت تھی۔ صدیوں سے کوئی نبی نہ آیا تھا، آسمانی کتابیں بھلا دی گئی تھیں اور انسانی معاشرے رسم و رواج، جاہ و مال اور خود ساختہ خداؤں کی پرستش میں مگن ہو چکے تھے۔

رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مکہ کے نیند میں ڈوبے ہوئے قریش کو پکارا اور کہا: "قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللهُ تُفْلِحُوْا" (کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم کامیاب ہو جاؤ گے)۔

رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہ صرف توحید کا اعلان کیا، بلکہ لوگوں کو ان کے اصل مقام سے آگاہ کیا: ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ﴾ ترجمہ کنزالایمان: اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو۔(۵)

یہ دعوت، ایک جھنجھوڑنے والا پیغام تھا، جو انسان کو خودی سے نکال کر خدا کی بندگی میں لاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نیند سے جگانے والے واعظ کی طرح دلوں کو جھنجھوڑا اور بار بار فرمایا: "اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ؟"، "اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ؟"، "اَفَلَا تَنظُرُوْنَ؟"۔

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کا یہ پہلو اس قدر اہم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَ اَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ﴾ ترجمہ کنزالایمان: اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے۔(۶)

یعنی ایسی غفلت جو آخرت کو بھلا دے، وہ سب سے خطرناک نیند ہے۔ اور رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس لیے بھیجا گیا کہ وہ اس قیامت سے پہلے دلوں کو بیدار کر دیں۔

یہی بعثت کا عظیم مقصد آج بھی تقاضا کرتا ہے کہ اُمّتِ مسلمہ غفلت میں ڈوبی دنیا کو علم، محبت، فکر، حکمت اور دَرد سے بیدار کرے۔ آج کا انسان مال و لذت کی مستی میں غرق ہے، اسے وہی آواز درکار ہے جو حرا کی غار سے گونجی تھی: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ﴾ ترجمہ کنزالایمان: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔(۷)

اور آج بھی، یہی وحی، یہی پیغام اور یہی مقصدِ دنیا کی نجات کا واحد راستہ ہے۔

مومنوں کو خوشخبری دینا، منکرین کو تنبیہ کرنا

اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کو دو پہلوؤں کے ساتھ بھیجا: بشارت (خوشخبری) اور انذار (تنبیہ)۔ یہ دو پہلو نبوت کی دعوت، رحمت اور عدل کے درمیان وہ عظیم توازن ہیں جو انسان کے دل کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت بھی اسی ازلی سنت کی روشنی میں ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جہاں مومنین کے لیے بشیر یعنی جنت، مغفرت اور رضا کی خوشخبری سنانے والا بنایا، وہیں کفار، مشرکین اور منافقین کے لیے نذیر یعنی برائیوں، عذاب اور قیامت کی ہولناکیوں سے خبردار کرنے والا بنایا۔

قرآن مجید بار بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان دونوں اوصاف کا ذکر کرتا ہے: ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾
ترجمہ کنز الایمان: بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔(۸)

یہ تین اوصاف (شاہد، مبشر، نذیر) در حقیقت بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوتی حکمت کو مکمل کرتے ہیں۔ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر وہ کلام جاری ہوا جو اہلِ ایمان کے لیے دل کی ٹھنڈک اور ناقدری کرنے والوں کے لیے دلوں پر چوٹ تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے نکلا ہر وعدہ، ہر آیت، ہر دعا ایک خوشبو تھی جو مومنوں کے دلوں کو زندگی بخشتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت مومنین کے لیے اللہ کے وعدوں کا ظاہر تھی: ﴿وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں۔(۹)

یہ خوشخبری صرف آخرت کی جنت تک محدود نہیں تھی۔ دنیا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے اہلِ ایمان کو نصرت، اطمینان، معیتِ الٰہی اور رحمت کی بشارت ملتی رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ صَلَّى عَلَىَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا" (جو مجھ پر ایک بار درود پڑھے، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے)۔(۱۰)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ان لوگوں کے لیے تنبیہ بن گئی جنہوں نے حق سے اعراض کیا، وحی کا مذاق اڑایا، یا دعوتِ توحید کو جھٹلایا۔ ان کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "نذیر" بن کر آئے؛ ڈرانے والے، سمجھانے والے اور خبردار کرنے والے۔

﴿إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ﴾ ترجمہ کنز الایمان: تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی۔(۱۱)

منکرینِ حق کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کی ہولناکیوں، جہنم کی سزا اور اللہ کے عذاب کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ نذیری کو سورہ مدثر میں یوں فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۝ قُمْ فَأَنْذِرْ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اے بالا پوش اوڑھنے والے! کھڑے ہو جاؤ پھر ڈر سناؤ۔(۱۲)

انذار کا پہلو قیصر و کسریٰ، قریش، یہود و نصاریٰ اور تمام انسانوں کے لیے تھا تاکہ کوئی قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اس حکمت کا کامل نمونہ تھی کہ خوشخبری اور تنبیہ دونوں ایک ساتھ پیش ہوں—نہ ایسا ڈر کہ امید ٹوٹ جائے، نہ ایسی امید کہ گناہ پر جری ہو جائیں۔ یہ توازن ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی حقانیت کی دلیل ہے۔

﴿وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے۔(۱۳)

امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاہیے کہ وہ بھی اپنے نبی کی طرح مومنین کے لیے بشارت کا سرچشمہ اور منکرین کے لیے دعوت و انذار کی آواز بنے۔ ہمیں تبلیغ کے اس اسلوب کو زندہ کرنا ہے جس میں نہ غصہ ہو، نہ طنز، صرف محبت، حکمت اور خیر خواہی ہو، کیونکہ ہم ایک مبشر و نذیر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکار ہیں۔

(جاری ہے)

حوالہ جات

(۱) پ۲۷، الحدید: ۲۵
(۲) دیکھئے: بخاری، ۲/ ۴۶۸، حدیث: ۳۴۷۵
(۳) پ۱۴، النحل: ۹۰
(۴) پ۲۲، یٰس: ۶
(۵) پ۱، البقرة: ۲۱
(۶) پ۲۴، مؤمن: ۱۸
(۷) پ۳۰، العلق: ۱
(۸) پ۲۶، الفتح: ۹
(۹) پ۱، البقرة: ۲۵
(۱۰) مسلم، ص۱۶۲، حدیث: ۸۴۹
(۱۱) پ۱۳، الرعد: ۱۱
(۱۲) پ۲۹، المدثر: ۱، ۲
(۱۳) پ۷، الانعام: ۴۸

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!