| عنوان: | میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط سوم) |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
محبت کا تقاضا: اتباعِ سنت
میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا ذکر دراصل اس عظیم ہستی کا ذکر ہے جن کی آمد سے انسانیت کو ایمان کی دولت، ہدایت کی روشنی اور زندگی گزارنے کا کامل طریقہ نصیب ہوا۔ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور آپ ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
لیکن ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ محبت صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی اطاعت کی جائے، اس کے طریقے کو اپنایا جائے اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ"
ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب! تم فرماؤ کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ، اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ محبت کا سب سے بڑا ثبوت اتباع ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ اسی وقت اپنی حقیقی روح حاصل کرتا ہے جب انسان آپ ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
سیرتِ مبارکہ: رہنمائی کا کامل نمونہ
رسول اللہ ﷺ کی سیرت مبارکہ ہمارے لیے زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ عبادت میں کامل نمونہ ہیں، معاملات میں صداقت و امانت کا پیکر ہیں، اخلاق میں بے مثال ہیں، غریبوں اور محتاجوں کے لیے رحمت ہیں، یتیموں کے لیے شفقت ہیں، پڑوسیوں کے حقوق کے محافظ ہیں اور عدل و انصاف کے سب سے بلند معیار ہیں۔
آپ ﷺ نے صرف مسجد میں عبادت کرنا نہیں سکھایا بلکہ بازار میں دیانت داری بھی سکھائی۔ صرف ذکر و عبادت نہیں سکھائی بلکہ والدین کا ادب بھی سکھایا۔ صرف نعت و درود کا ذوق نہیں دیا بلکہ زبان کو جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ رکھنے کی تعلیم بھی دی۔ صرف اپنے لیے نیکی کرنا نہیں سکھایا بلکہ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی بھی تاکید فرمائی۔
ہمارا طرزِ عمل اور محاسبہ
آج جب ربیع الاول آتا ہے تو ہمارے دلوں میں محبت کی ایک نئی لہر پیدا ہوتی ہے۔ مساجد و مدارس میں محافل سجتی ہیں، درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، نعت خوانی ہوتی ہے، سیرت کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں اور عاشقان رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سب محبت کے مظاہر ہیں، لیکن ہمیں اس موقع پر اپنا احتساب بھی کرنا چاہیے۔ ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ جس نبی ﷺ کا ذکر ہم اتنی محبت سے کرتے ہیں، کیا ہماری زندگی میں بھی ان کی سنت موجود ہے؟
• ہم نعت میں آپ ﷺ کی رحمت کا ذکر کرتے ہیں، کیا ہم اپنے گھر والوں کے لیے رحمت بنے ہوئے ہیں؟
• ہم آپ ﷺ کی صداقت بیان کرتے ہیں، کیا ہمارے کاروبار اور معاملات میں سچائی ہے؟
• ہم آپ ﷺ کی امانت کا ذکر کرتے ہیں، کیا ہم دوسروں کی امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں؟
• ہم آپ ﷺ کے حسن اخلاق کے واقعات بیان کرتے ہیں، کیا ہمارے اخلاق سے ہمارے والدین، بیوی بچوں، رشتہ دار اور پڑوسی خوش ہیں؟
• ہم آپ ﷺ کی امت ہونے پر فخر کرتے ہیں، کیا ہم دوسرے مسلمانوں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟
یہ سوالات کسی دوسرے پر تنقید کے لیے نہیں بلکہ اپنے دل کا محاسبہ کرنے کے لیے ہیں۔ کیونکہ میلاد کا ایک عظیم پیغام یہ بھی ہے کہ جس ہستی کی آمد پر ہم خوشی مناتے ہیں، اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں جگہ بھی دیں۔ اگر میلاد کے بعد بھی جھوٹ وہی رہے، معاملات میں خیانت وہی رہے، زبان سے غیبت جاری رہے، والدین کی نافرمانی جاری رہے، رشتہ داروں سے قطع تعلقی جاری رہے، پڑوسی تکلیف میں رہے اور نمازوں میں سستی باقی رہے تو ہمیں اپنے میلاد کے پیغام پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
سچی محبت کے عملی تقاضے
محبت رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے اندر تبدیلی پیدا کرے۔
• اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو نماز کی پابندی کریں۔
• اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو حلال و حرام کا فرق سمجھیں۔
• اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو جھوٹ سے بچیں۔
• اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو والدین کا ادب کریں۔
• اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو رشتہ داروں سے حسن سلوک کریں۔
• اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو یتیم، مسکین اور محتاج کی مدد کریں۔
• اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو کسی مسلمان کی عزت پامال نہ کریں۔
• اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو اپنے اخلاق کو سنت کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں میلاد ایک محفل سے بڑھ کر زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
میلادِ مصطفیٰ ﷺ: مسرت اور اصلاح کا حسین سنگم
اہل سنت کے بعض معتبر مصادر میں بھی میلاد کے ذکر کے ساتھ محبت رسول ﷺ، ذکر سیرت، صدقہ و خیرات اور عبادت و شکر کو اہم مقاصد میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے میلاد کی خوشی ضرور منائیے، مگر شریعت کے دائرے میں رہ کر۔ درود و سلام پڑھئے، سیرت بیان کیجیے، نعتیں پڑھئے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے، محتاجوں کی مدد کیجیے اور سب سے بڑھ کر سنت رسول ﷺ کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کیجیے۔
ہم اپنے گھروں کو چراغوں سے روشن کریں تو ساتھ اپنے دلوں کو بھی محبت رسول ﷺ سے روشن کریں۔ ہم محفل سجائیں تو اپنے کردار کو بھی سجائیں۔ ہم نعت پڑھیں تو اپنی زبان کو جھوٹ اور غیبت سے بھی پاک کریں۔ ہم درود و سلام پڑھیں تو حقوق العباد کی ادائیگی بھی کریں۔ ہم سیرت بیان کریں تو سیرت پر چلنے کا عہد بھی کریں۔
کیونکہ میلاد کی حقیقی برکت یہی ہے کہ انسان کے اندر اپنے محبوب ﷺ کی محبت بڑھے اور اس محبت کے نتیجے میں اس کی زندگی سنت و شریعت کے مطابق سنور جائے۔ میلاد کی محفل چند گھنٹوں کی ہوتی ہے، لیکن سیرت مصطفیٰ ﷺ پوری زندگی کے لیے ہے۔ اس لیے ربیع الاول کا مہینہ ہمیں صرف خوشی کا پیغام نہ دے بلکہ اصلاح کا پیغام بھی دے، صرف محبت کا اظہار نہ ہو بلکہ اطاعت کا عہد بھی ہو، صرف زبان پر نعت نہ ہو بلکہ کردار میں سنت بھی ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبت رسول ﷺ عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو عشق مصطفیٰ ﷺ سے معمور فرمائے، ہمیں سنت رسول ﷺ پر مضبوطی سے قائم رکھے اور ہماری زندگی کو سیرت مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
نوٹ و تعارفِ مصنف
نوٹ: قسط چہارم میں ان شاء اللہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانے کی شرعی حیثیت، قرآن و حدیث سے خوشی اور شکر کے اصول، میلاد کی محافل کے جائز طریقے اور ان امور کی وضاحت کی جائے گی جن سے میلاد کی محفل کو پاک رکھنا ضروری ہے۔
رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
عہدہ: بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار | خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی
