| عنوان: | میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
ربیع الاول اور خوشی کا شرعی تقاضا
ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی عاشقان رسول ﷺ کے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ درود و سلام کی محافل سجتی ہیں، مساجد و مدارس میں سیرت طیبہ بیان کی جاتی ہے، نعتیں پڑھی جاتی ہیں، قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے اور لوگ اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ خوشی محض ایک تاریخی واقعہ کی یاد نہیں بلکہ اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس کے ذریعے پوری انسانیت کو ہدایت، ایمان اور رحمت نصیب ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا"
ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا:
"وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ"
ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔
جب حضور اکرم ﷺ خود رحمت للعالمین ہیں تو آپ ﷺ کی تشریف آوری پر خوشی منانا محبت و شکر کا ایک فطری اور شرعی تقاضا ہے۔
میلاد کی اصل قرآن و سنت سے
میلاد شریف کی محفل کی موجودہ مخصوص شکل بعینہٖ عہد نبوی میں موجود نہ تھی، لیکن اس میں جمع ہونے والے بہت سے اعمال اپنی اصل کے اعتبار سے شریعت میں مشروع ہیں، جیسے قرآن کریم کی تلاوت، ذکر الٰہی، درود و سلام، نعت و مدح، سیرت کا بیان، صدقہ و خیرات اور کھانا کھلانا۔ لہٰذا کسی جائز عمل کو ایک جائز مقصد کے لیے جمع کرکے رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کا ذکر کرنا شرعاً ممنوع نہیں۔
خود رسول اللہ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کی نسبت سے شکر کا ایک طریقہ اختیار فرمایا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
"ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ"
ترجمہ: یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔ (یہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے)
اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو خصوصی نسبت سے یاد فرمایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ لہٰذا امت بھی آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، درود و سلام پڑھے، سیرت بیان کرے، صدقہ کرے اور نیکی کے دوسرے کام انجام دے تو یہ محبت و شکر کا اظہار ہے۔
میلاد صرف جشن نہیں بلکہ شکر اور محبت کا نام ہے
میلاد شریف کا مقصد صرف چراغاں، جھنڈے، جلوس یا ظاہری رونق نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ انسان کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت بڑھے، سیرت طیبہ کا علم حاصل ہو، درود و سلام کی کثرت ہو اور زندگی میں سنت رسول ﷺ کی پیروی کا جذبہ پیدا ہو۔
اگر کوئی شخص میلاد کی محفل میں بیٹھ کر حضور ﷺ کی سیرت سنتا ہے، آپ ﷺ پر درود پڑھتا ہے، نعت پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے، محتاجوں کو کھانا کھلاتا ہے اور پھر اپنی زندگی کو سنت کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ میلاد کے مقصد سے نہایت قریب عمل ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص میلاد کے نام پر ایسی چیز اختیار کرے جو خود شریعت میں ناجائز ہے تو وہ ناجائز عمل اپنی جگہ ناجائز رہے گا۔ حرام کام کو میلاد کی نسبت سے جائز نہیں کیا جاسکتا۔
میلاد کی محفل میں کن امور کا اہتمام ہونا چاہیے؟
میلاد شریف کی محفل میں قرآن کریم کی تلاوت ہو، اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو، کثرت سے درود و سلام پڑھا جائے، نعت و مدح رسول ﷺ پڑھی جائے، سیرت طیبہ اور شمائل مبارکہ بیان کیے جائیں، حضور ﷺ کے اخلاق و کردار کو لوگوں کے سامنے رکھا جائے، مسلمانوں کو نماز، سنت، تقویٰ، والدین کے ادب، حقوق العباد اور حسن اخلاق کی ترغیب دی جائے۔
ضرورت مندوں کو کھانا کھلایا جائے، غریبوں کی مدد کی جائے، دینی کتابیں تقسیم کی جائیں اور بچوں اور نوجوانوں کو سیرت رسول ﷺ سے جوڑا جائے۔ یہ وہ میلاد ہے جو محض ایک تقریب نہیں رہتا بلکہ اصلاح اور تربیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
میلاد کے نام پر ناجائز امور سے بچنا ضروری ہے
میلاد شریف محبت و تعظیم کا نام ہے اور محبت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شریعت کی حدود کو نظر انداز کردیا جائے۔ محفل میلاد میں نماز قضا کرنا، مرد و زن کا بے پردہ اختلاط، فحش یا ناجائز گانے، بے حیائی، فضول خرچی، کسی مسلمان کو تکلیف دینا، راستوں میں ایسا شور کرنا جس سے مریضوں، بوڑھوں یا نمازیوں کو اذیت ہو، یا کسی دوسرے ناجائز کام کا ارتکاب کرنا درست نہیں۔
اسی طرح میلاد کی خوشی میں فرض نماز کو چھوڑ دینا یا شریعت کے کسی قطعی حکم کی خلاف ورزی کرنا محبت رسول ﷺ نہیں ہوسکتی۔ ہمیں یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ میلاد شریعت کے خلاف نہیں بلکہ شریعت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
میلاد اور اتباع سنت ایک دوسرے کے مخالف نہیں
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر میلاد منایا جائے گا تو سنت پر عمل کا مقصد کم ہوجائے گا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صحیح میلاد تو انسان کو سنت کی طرف لے جاتا ہے۔
• ہم حضور ﷺ کی ولادت کا ذکر کریں اور آپ ﷺ کی سنت بھی سیکھیں۔
• ہم آپ ﷺ کے اخلاق بیان کریں اور اپنے اخلاق بھی درست کریں۔
• ہم آپ ﷺ کی رحمت کا ذکر کریں اور مخلوق پر رحم بھی کریں۔
• ہم آپ ﷺ کی امانت داری کا تذکرہ کریں اور اپنے معاملات میں دیانت بھی اختیار کریں۔
• ہم آپ ﷺ کی عبادت کا ذکر کریں اور اپنی نمازوں کی پابندی بھی کریں۔
• ہم آپ ﷺ کی امت ہونے پر فخر کریں اور امت کے افراد کے حقوق بھی ادا کریں۔
یہی میلاد کی حقیقی روح ہے۔
میلاد کا سب سے خوبصورت تحفہ اور ہماری ذمہ داری
ربیع الاول میں اگر ہم اپنے آقا ﷺ کی بارگاہ میں حقیقی نذرانہ پیش کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زندگی میں ایک نیکی کا اضافہ کریں۔ جو نماز میں سستی کرتا ہے وہ نماز کی پابندی شروع کرے۔ جو جھوٹ بولتا ہے وہ جھوٹ چھوڑنے کا عہد کرے۔ جو والدین کی نافرمانی کرتا ہے وہ ان کے قدموں میں محبت و ادب کے ساتھ جھکے۔ جو رشتہ داروں سے ناراض ہے وہ صلح کی کوشش کرے۔ جو کسی کا حق دبائے ہوئے ہے وہ حق واپس کرے۔ جو غریبوں سے بے نیاز ہے وہ ان کی مدد کرے۔ جو سنتوں سے دور ہے وہ کم از کم ایک سنت کو اپنی زندگی میں مضبوطی سے اختیار کرے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس سے میلاد محض ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ پوری زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آج ہمیں میلاد کو صرف ایک موسم نہیں بلکہ ایک پیغام بنانا ہے۔ ہم گھروں کو سجائیں مگر اپنے اخلاق بھی سجائیں۔ ہم گلیاں روشن کریں مگر اپنے دل بھی روشن کریں۔ ہم محفلیں سجائیں مگر اپنی زندگی کو بھی سنت سے سجائیں۔ ہم نعتیں پڑھیں مگر اپنے کردار کو بھی نعت کا آئینہ بنائیں۔ ہم درود و سلام پڑھیں مگر حقوق العباد بھی ادا کریں۔ ہم سیرت سنائیں مگر سیرت پر چلنے کا عہد بھی کریں۔ ہم اپنے بچوں کو صرف میلاد کی رونق نہ دکھائیں بلکہ انہیں حضور ﷺ کی محبت، سنت، اخلاق اور سیرت بھی سکھائیں۔
اختتامیہ
میلادِ مصطفیٰ ﷺ محبت کا اظہار بھی ہے، شکر کا ذریعہ بھی، سیرت کے تذکرے کا موقع بھی اور اپنی زندگی کی اصلاح کا بہترین وقت بھی۔ ہمیں چاہیے کہ ربیع الاول میں اپنے محبوب ﷺ کا ذکر کثرت سے کریں، درود و سلام پڑھیں، سیرت طیبہ سنیں اور سنائیں، محتاجوں کی مدد کریں، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اپنے دل میں یہ عہد پیدا کریں کہ ہم حضور ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا راستہ بنائیں گے۔
میلاد کی محفل ختم ہوجائے گی، چراغ بجھ جائیں گے، جھنڈے اتر جائیں گے اور جلسہ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا، لیکن اگر اس محفل کے بعد ہمارے اندر نماز کی پابندی، سنت کی محبت، اخلاق کی پاکیزگی اور حقوق العباد کی ادائیگی پیدا ہوگئی تو سمجھیں کہ میلاد کا پیغام ہماری زندگی میں اتر گیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور رحمت عالم ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے، آپ ﷺ کی بارگاہ کا ادب نصیب فرمائے، سنتوں پر استقامت عطا فرمائے، میلاد شریف کو شریعت کے مطابق منانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگی کو سیرت مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ بنادے۔ آمین یا رب العالمین۔
نوٹ و تعارفِ مصنف
نوٹ: قسط پنجم میں ان شاء اللہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے تاریخی پس منظر، صحابہ و تابعین کے دور میں محبت و تعظیم رسول ﷺ کے مظاہر اور بعد کے ادوار میں محافل میلاد کی روایت پر گفتگو کی جائے گی، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ میلاد کی محفل کو بدعات و منکرات سے پاک رکھنا کیوں ضروری ہے۔
رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
عہدہ: بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار | خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی
