میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شرعی حیثیت اور طریقہ (قسط دوم)

میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط دوم)
عنوان: میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط دوم)
تحریر: سرفراز احمد قادری امجدی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے انسانیت کو ایمان کی روشنی، ہدایت کا راستہ، اخلاق و کردار کی بلندی اور زندگی گزارنے کا کامل دستور نصیب ہوا۔ اسی لیے اہل محبت کے دلوں میں آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر ہمیشہ سے خوشی، شکر اور عقیدت کا سبب رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا"
ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت پر خوشی کا حکم دیا۔ اور حضور نبی کریم ﷺ تو اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ"
ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔

جب نبی کریم ﷺ خود رحمت للعالمین ہیں تو آپ ﷺ کی تشریف آوری پر خوشی کا اظہار کرنا محبت و شکر کا فطری تقاضا ہے۔

میلاد شریف کی اصل کیا ہے؟

میلاد شریف کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت، آپ ﷺ کے نسب شریف، مبارک حلیہ، اخلاق و اوصاف، سیرت طیبہ، معجزات اور تعلیمات کا ذکر کیا جائے، درود و سلام پڑھا جائے، نعت شریف پڑھی جائے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے اور لوگوں کو نیکی و سنت کی طرف راغب کیا جائے۔

یہ تمام امور اپنی اصل کے اعتبار سے نیک اور باعث اجر ہیں۔ لہٰذا اگر میلاد کی محفل میں قرآن کریم کی تلاوت، ذکر و درود، نعت، سیرت کا بیان، صدقہ و خیرات اور کھانا کھلانا ہو تو یہ سب نیکی کے کام ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ محفل میلاد میں کوئی ایسا کام شامل نہ ہو جو شریعت کے خلاف ہو۔

حضور ﷺ نے اپنی ولادت کے دن شکر کیسے ادا فرمایا؟

صحیح مسلم کی مشہور حدیث ہے کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ پیر کے دن روزہ کیوں رکھتے ہیں؟

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ"
یعنی یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے اپنی ولادت کے دن اللہ تعالیٰ کا شکر روزہ رکھ کر ادا فرمایا۔

یہاں غور کرنے کی بات ہے کہ جب خود حضور ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو یاد فرمایا اور اس دن عبادت کے ذریعے شکر ادا فرمایا تو اہل محبت اگر ولادت مصطفیٰ ﷺ کا ذکر کریں، درود و سلام پڑھیں، سیرت بیان کریں، صدقہ کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں تو اس کی اصل شریعت میں موجود ہے۔

میلاد خوشی کا نام ہے مگر خوشی شریعت کے دائرے میں

میلاد مصطفیٰ ﷺ کا مقصد صرف ظاہری چراغاں یا اجتماع نہیں بلکہ دل میں محبت رسول ﷺ کو تازہ کرنا اور زندگی کو سنت رسول ﷺ کے مطابق بنانے کا عہد کرنا ہے۔

ہم گھروں کو روشن کریں تو اچھی بات ہے مگر دلوں کو بھی محبت مصطفیٰ ﷺ سے روشن کریں۔
ہم محفل سجائیں تو اچھی بات ہے مگر اپنے کردار کو بھی سنت سے سجائیں۔
ہم نعت پڑھیں تو اس کے ساتھ نماز کی پابندی بھی کریں۔
ہم درود و سلام پڑھیں تو حقوق العباد بھی ادا کریں۔
ہم ولادت مصطفیٰ ﷺ کی خوشی منائیں تو آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش بھی کریں۔

کیونکہ حقیقی محبت وہی ہے جس کا اثر انسان کے عمل میں ظاہر ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ"
ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

لہٰذا محبت رسول ﷺ کا سب سے بڑا تقاضا اتباع رسول ﷺ ہے۔

میلاد اور اتباع ایک دوسرے کے مقابل نہیں

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میلاد منانا اور سنت پر عمل کرنا دو الگ چیزیں ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

میلاد ہمیں حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی یاد دلاتا ہے اور سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اس عظیم نبی ﷺ کی زندگی کیسی تھی۔ اگر ہم میلاد کی محفل میں حضور ﷺ کی محبت کا ذکر کریں اور پھر اپنی زندگی میں جھوٹ، بددیانتی، بدنگاہی، بدزبانی، والدین کی نافرمانی، رشتہ داروں سے قطع تعلقی اور حقوق العباد کی پامالی جاری رکھیں تو ہمیں اپنے عمل کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔

حضور ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری زبان بھی سنورے، معاملات بھی سنوریں، اخلاق بھی سنوریں اور عبادات بھی سنوریں۔

میلاد میں کن باتوں کا اہتمام ہونا چاہیے؟

میلاد شریف کی محفل ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ نافع اور بابرکت بنانے کے لیے درج ذیل امور کا اہتمام کیا جائے:
• قرآن کریم کی تلاوت کی جائے۔
• کثرت سے درود و سلام پڑھا جائے۔
• حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ بیان کی جائے۔
• حضور ﷺ کے اخلاق و شمائل کا ذکر کیا جائے۔
• نعت شریف پڑھی جائے۔
• صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت بیان کی جائے۔
• غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کو کھانا کھلایا جائے۔
• صدقہ و خیرات کیا جائے۔
• نماز اور دیگر فرائض کی پابندی کا عہد کیا جائے۔
• اور سب سے بڑھ کر حضور ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے۔

ایک ضروری تنبیہ

میلاد کی محبت اپنی جگہ بہت عظیم نعمت ہے، لیکن کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جس میں نماز فوت ہو، پردے کی خلاف ورزی ہو، مرد و زن کا ناجائز اختلاط ہو، لہو و لعب ہو، فضول خرچی ہو، کسی مسلمان کی دل آزاری ہو یا کوئی دوسرا شرعی ممنوع کام شامل ہو۔

کیونکہ حضور ﷺ کی خوشی کے نام پر حضور ﷺ کی شریعت کی مخالفت کرنا محبت کا صحیح طریقہ نہیں ہوسکتا۔ محبت یہ ہے کہ محفل بھی مصطفوی ہو اور طریقہ بھی مصطفوی ہو۔

ہماری ترجیحات کیا ہوں؟

ربیع الاول ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں:
کیا ہماری نماز درست ہے؟
کیا ہمارے معاملات پاکیزہ ہیں؟
کیا ہماری زبان جھوٹ اور غیبت سے محفوظ ہے؟
کیا ہم والدین کے حقوق ادا کرتے ہیں؟
کیا ہم رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے ہیں؟
کیا ہمارے پڑوسی ہم سے محفوظ ہیں؟
کیا ہم غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھتے ہیں؟
کیا ہمارے اندر سنت رسول ﷺ کی محبت ہے؟

اگر ان سوالات کے جوابات میں ہماری زندگی کمزور نظر آتی ہے تو ربیع الاول کا سب سے خوبصورت عمل یہی ہے کہ ہم اصلاح کا آغاز کریں۔ میلاد صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ محبت کو عمل میں بدلنے کا نام ہے۔

ہم حضور ﷺ کی ولادت پر خوشی منائیں، درود و سلام پڑھیں، سیرت بیان کریں اور نعتیں پڑھیں، لیکن ساتھ ہی یہ عہد کریں کہ ہمارے معاملات میں صداقت ہوگی، ہماری زبان میں نرمی ہوگی، ہمارے گھروں میں سنت ہوگی اور ہمارے کردار میں اخلاق مصطفیٰ ﷺ کا رنگ ہوگا۔ یہی وہ میلاد ہے جو چند گھنٹوں کی محفل سے نکل کر پوری زندگی کو روشن کرسکتا ہے۔

خلاصہ و تعارفِ مصنف

میلاد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت پر خوشی اور شکر کا اظہار ہے۔ اس میں قرآن خوانی، ذکر، درود و سلام، نعت، سیرت کا بیان، صدقہ و خیرات اور دیگر جائز نیک اعمال کیے جائیں تو یہ محبت و عقیدت کے مظاہر ہیں۔ البتہ ہر جائز خوشی بھی شریعت کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ ہمیں ایسا میلاد منانا چاہیے جس سے محبت رسول ﷺ بڑھے، علم دین بڑھے، سنت زندہ ہو، نماز کی پابندی پیدا ہو، اخلاق سنوریں اور حقوق العباد ادا کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضور رحمت عالم ﷺ کی سچی محبت، کامل ادب اور سنت کی پیروی نصیب فرمائے اور ہمارے میلاد و ذکر کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

نوٹ: اگلی قسط میں میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے دلائل قرآن و حدیث سے اور صحابہ کرام و سلف صالحین کے طرزِ عمل کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔

رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
عہدہ: بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار | خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!