امام ترمذی رضی اللہ عنہ کی حیات و خدمات

امام ترمذی رضی اللہ عنہ کی حیات و خدمات
عنوان: امام ترمذی رضی اللہ عنہ کی حیات و خدمات
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

نام، کنیت اور نسب

آپ کا اسمِ گرامی محمد، کنیت ابو عیسیٰ اور سلسلۂ نسب محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن ضحاک السلمی الترمذی ہے۔
آپ کی ولادت با سعادت مشہور قول کے مطابق ۲۰۹ھ میں بمقام شہر ترمذ ہوئی، جو کہ دریائے جیحوں (آمو دریا) کے ساحل پر آباد ہے۔

تحصیلِ علم اور اسفار

امام ترمذیؒ نے جس زمانہ میں آنکھ کھولی، اس وقت ان کے گرد و پیش کا سارا ماحول علم و فضل اور حدیث کے شغف سے معمور تھا۔ آپ نے اپنی فطری مناسبت، قوتِ حفظ اور ضبطِ اتقان کے ساتھ ابتدائی تعلیم اپنے شہر کے محدثین سے حاصل کی۔ اس کے بعد طلبِ علم الحدیث کی خاطر دیگر اسلامی شہروں کا سفر کیا اور اپنے دامن کو علم و معرفت کے موتیوں سے مالامال کیا۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ آپ کے سفر و اسفار کے متعلق فرماتے ہیں:
"طَافَ الْبِلَادَ وَ سَمِعَ خَلْقًا مِنَ الْخُرَاسَانِيِّيْنَ وَ الْعِرَاقِيِّيْنَ وَ الْحِجَازِيِّيْنَ"
(انہوں نے متعدد شہروں کا سفر کیا اور خراسان، عراق اور حجاز کے اکابر محدثین و شیوخ سے سماعِ حدیث کیا)۔

خارق العادہ قوتِ حافظہ اور ایک بصیرت افروز واقعہ

اللہ تعالیٰ نے امام ترمذیؒ کو غیر معمولی اور بے مثال حافظہ و ضبط عطا فرمایا تھا۔ جس حدیث کو ایک بار سن لیتے، وہ ان کے ذہن کے صفحے پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی۔

ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے راستے میں آپ کی ملاقات ایک شیخ سے ہوئی۔ امام ترمذیؒ نے ان کے اجزا (احادیث کے نسخے) سنانے کی درخواست کی۔ شیخ نے موافقت ظاہر کی اور فرمایا کہ اپنے اجزا نکال لو تاکہ تم مقابلہ کرتے جاؤ۔ اتفاق سے امام ترمذیؒ کے پاس وہ اجزا موجود نہ تھے، چنانچہ انہوں نے دو سفید (سادہ) کاغذ ہاتھ میں لے لیے اور سننے میں مشغول ہو گئے۔

قرأت کے دوران جب شیخ کی نظر سادہ کاغذ پر پڑی تو وہ سخت برہم ہوئے اور فرمایا: "کیا تم مجھ سے مذاق کر رہے ہو؟" امام ترمذیؒ نے نہایت ادب سے عرض کیا: "مجھے تمام احادیث حفظ ہو چکی ہیں"۔ پھر آپ نے پورا واقعہ بیان کیا اور وہ تمام احادیث من و عن شفاہی (زبانی) سنا دیں۔ شیخ کو سخت تعجب ہوا، لہٰذا انہوں نے مزید امتحان لینے کے لیے اپنی ۴۰ غریب احادیث پڑھیں، اور امام ترمذیؒ نے فوراً وہ تمام احادیث بحسن و خوبی دہرا دیں۔ شیخ نے بے ساختہ فرمایا: "مَا رَأَيْتُ مِثْلَكَ" (میں نے تمہاری مثل کسی کو نہیں دیکھا)۔

تصانیف اور علمی شہرت

امام ترمذیؒ بلند پایہ مصنف، ماہر فنِ رجال اور علتِ حدیث کے عظیم ناقد تھے۔ آپ صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور آئمہ فقہ کے اقوال و آراء میں درجۂ کمال رکھتے تھے۔ آپ کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

۱۔ جامع الترمذی (سنن الترمذی)
۲۔ کتاب العلل
۳۔ کتاب التاریخ
۴۔ کتاب الزہد
۵۔ کتاب اسماء والکنیٰ
۶۔ کتاب الشمائل النبویہ

وفات

امام ترمذیؒ کا انتقال ۱۳ رجب المرجب ۲۷۹ھ کو بمقام ترمذ (بوغ) میں ہوا اور آپ وہیں مدفون ہوئے۔

جامع الترمذی اور اس کے علمی خصائص

امام ترمذیؒ کی جامع الترمذی تمام تصانیف میں سب سے زیادہ مقبول، مشہور اور مجموعی حدیثی فوائد کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبار علماء نے اسے کتبِ حدیث میں خاص فوقیت دی ہے۔

جامع الترمذی کی نمایاں خصوصیات:

۱۔ حسنِ ترتیب: کتاب کی ترتیب اور تبویب انتہائی عمدہ ہے اور اس میں تکرارِ حدیث سے بچا گیا ہے۔
۲۔ استدلالِ فقہاء: اس میں فقہاء (مثلاً امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل وغیرہ) کے مذاہب اور ان کے استدلال کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
۳۔ انواعِ حدیث کی نشاندہی: حدیث کی مختلف اقسام جیسے صحیح، حسن، ضعیف، غریب، معلل اور مرسل کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔
۴۔ علمِ رجال اور اسماء و کنیٰ: راویوں کے نام، ان کی کنیت، القاب اور علمِ رجال سے متعلق گراں قدر فوائد شامل کیے گئے ہیں۔
۵۔ معمول بہ احادیث: اس کتاب کی تقریباً تمام احادیث پر کسی نہ کسی امام یا فقیہ کا عمل رہا ہے۔
۶۔ احادیث کے تعارض کا حل: اگر دو احادیث میں ظاہری تعارض ہو تو امام ترمذیؒ تطبیق و توجیہ پیش کرتے ہیں، یا نسخ کا بیان فرما کر تعارض کو رفع کرتے ہیں۔
۷۔ جرح و تعدیل کی وضاحت: راوی یا سند میں جو بھی عیب، علت یا شذوذ ہوتا ہے، آپ صراحت کے ساتھ اس کو ظاہر کر دیتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!