| عنوان: | حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں مبارک |
|---|---|
| تحریر: | محمد حسان عطاری |
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے سید المحبوبین صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو پیدا فرمایا، پھر تمام جہان کو وجود بخشا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام طرح کے خصائل و فضائل اور شمائل و خصائص عطا فرمائے، یوں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسنِ باطنی سے بھی نوازا اور حسنِ ظاہری میں بھی کامل و اکمل بنایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ منور کو دنیا و ما فیہا سے افضل و اعلیٰ اور بلند و بالا کیا۔ بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ہر عضو دنیا کی تمام چیزوں میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے، اور امتیازی حیثیت رکھے بھی کیوں نہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا کوئی مثل و ثانی نہیں بنایا۔
اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ہر عضوِ مبارک کی تعریف کی جائے تو قلم کی روشنائی ختم ہو جائے گی اور آپ کے اوصافِ حمیدہ کے بیان کا حق ادا نہ ہو سکے گا۔ انہی اعضائے مبارکہ میں سے ایک عضوِ مبارک پنڈلیاں بھی ہیں، جو اپنی بناوٹ میں حسن کا اعلیٰ و ممتاز درجہ رکھتی ہیں، کیونکہ آپ کی پنڈلیاں مبارک موزوں اور پتلی تھیں جو کہ مردانہ حسن و جمال کے لیے ضروری ہے۔
آئیے! ہم اس مقالے میں جانیں گے:
-
پنڈلیاں کسے کہتے ہیں؟
-
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں مبارک حدیث کی روشنی میں
پنڈلیاں مبارک
انسان کے جسم میں گھٹنوں کے بعد اور ٹخنوں سے پہلے کا جو حصہ ہوتا ہے وہ پنڈلیاں کہلاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں مبارک اتنی خوبصورت تھیں کہ جب بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کی پنڈلیوں مبارک کا ذکر کرتے تھے تو ان کی چمک دمک یاد آ جاتی، اور پکار اٹھتے کہ میں اب بھی اس چمک کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔
پنڈلیاں مبارک احادیثِ کریمہ کی روشنی میں
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پنڈلیوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں مبارک پنڈلیاں ضخیم نہیں بلکہ موزونیت کے ساتھ پتلی تھیں۔ [سراپائے مصطفےٰ، ص: 110]
علامہ محقق علی الاطلاق عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، ایک اور حدیث میں ہے کہ:
نَظَرْتُ إِلَى سَاقَيْهِ كَأَنَّهُمَا جُمَّارَةٌ
ترجمہ: میں نے آپ کی پنڈلی کی طرف نظر ڈالی گویا کہ وہ درختِ خرما تھا۔
“جُمَّارَةٌ” (جیم کے ضمہ اور میم کے تشدید کے ساتھ) اس کا معنی ہے: درختِ خرما، جسے “شَحْمُ النَّخْلِ” بھی کہتے ہیں، جس کا مطلب صاف، لطیف اور سفید ہے۔ [مدارج النبوۃ، ج: 1، ص: 37]
ایک اور صحابیِ رسول حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے ابطح کے مقام پر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس پنڈلیوں کی زیارت کی، وہ منظر میرے ذہن میں ایسا محفوظ ہے کہ گویا آج بھی میں ان مقدس پنڈلیوں کی چمک دمک دیکھ رہا ہوں۔
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ ہجرت کی شب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کرتے ہوئے آپ کے قریب پہنچے تھے اور آپ کی مقدس پنڈلیوں کی زیارت انہیں نصیب ہوئی تھی، وہ ان کی چمک دمک کو یوں بیان فرماتے ہیں: آپ کی مبارک پنڈلیاں یوں نظر آ رہی تھیں جیسے کھجور کا گوشہ اپنے پردے سے باہر نکل آیا ہو۔
جیسا کہ اس بات کو عاشقوں کے امام، ہم سنیوں کی شان امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ساقِ اصلِ قدم، شاخِ نخلِ کرم
شمعِ راہِ اصابت پہ لاکھوں سلام [جمالِ مصطفےٰ، ص: 125]
شرحِ کلامِ رضا: میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں ہیں یا کہ جود و عطا کے درخت کی دو شاخیں جن کی قیادت میں ہر کسی کو راہِ ہدایت اور منزلِ مقصود مل رہی ہے، صراطِ مستقیم کی ان شمعوں پر میری طرف سے لاکھوں سلام۔ [شرحِ حدائقِ بخشش، ص: 1033]
بالجملہ حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماقبل مذکورہ ساری باتوں کو عمیق نظری سے پڑھنے پر یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عضوِ مبارک (پنڈلی مبارک) کا یہ عالم ہے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے جسدِ اطہر، جو نورٌ علیٰ نورٍ ہے، ان کا عالم کیا ہو گا! اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ہر عضوِ مبارک کا ادب و احترام ہم پر لازم و ضروری ہے، کیونکہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص ادب جانتے ہوئے بھی باادب نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 158]
