| عنوان: | علم کی فضیلت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
-
اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا
اور تم عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے۔ [پ: 16، ع: 14]
حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس آیتِ کریمہ سے علم کی فضیلت واضح طور پر ثابت ہوتی ہے اس لیے کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم کے علاوہ کسی دوسری چیز کی زیادتی کے طلب کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔ [فتح الباری شرح بخاری، ج: 1، ص: 130]
-
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:
اَلْعِلْمُ حَيَاةُ الْإِسْلَامِ وَعِمَادُ الدِّيْنِ۔ [رواہ ابو الشيخ]
ترجمہ: علم اسلام کی زندگی اور دین کا کھمبا ہے۔ [کنز العمال، ج: 10، ص: 76]
-
حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
اَلْعِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْعِبَادَةِ۔ [رواہ ابو الشيخ]
ترجمہ: علم عبادت سے بہتر ہے۔ [کنز العمال، ج: 10، ص: 76]
-
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ خَيْرٌ مِنْ إِحْيَائِهَا۔
ترجمہ: رات میں ایک گھڑی علم کا پڑھنا پوری رات جاگنے سے بہتر ہے۔ [مشکوٰۃ، ص: 36]
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ایک گھنٹہ آپس میں علم کی تکرار کرنا، استاد سے پڑھنا، شاگرد کو پڑھانا، کتاب تصنیف کرنا یا ان کا مطالعہ کرنا رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔ [مرقاۃ شرح مشکوٰۃ، ج: 1، ص: 271]
-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
فَضْلٌ فِيْ عِلْمٍ خَيْرٌ مِنْ فَضْلٍ فِيْ عِبَادَةٍ وَمَلَاكُ الدِّيْنِ الْوَرَعُ۔
علم کی زیادتی عبادت کی زیادتی سے بہتر ہے اور دین کی اصل پرہیزگاری ہے۔ [مشکوٰۃ، ص: 36]
یعنی علم کی زیادتی اگرچہ تھوڑی ہو، عبادت کی زیادتی سے بہتر ہے اگرچہ زیادہ ہو۔ [اشعۃ اللمعات، ج: 1، ص: 172]
اور دین کی درستگی حرام اور شبہہ حرام سے بچنے میں ہے جیسے کہ دین کا فساد لالچ میں ہے۔ [مرقاۃ، ج: 1، ص: 251]
-
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا:
اَلْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ أَوْ فَرِيْضَةٌ عَادِلَةٌ۔ [رواہ ابو داؤد وابن ماجہ]
علم تین ہیں: ثابت آیت، مضبوط حدیث اور تیسرے فریضہ عادلہ یعنی اجماع و قیاس۔ [مشکوٰۃ، ص: 35]
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی بخاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں اس حدیث شریف کا خلاصہ یہ ہے کہ دین اور شریعت کے اصول کے علم چار ہیں: قرآن، حدیث، اجماع، قیاس۔ [اشعۃ اللمعات، ج: 1، ص: 167]
-
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلٰى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللّٰهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِيْ بِهَا وَيُعَلِّمُهَا۔ [رواہ البخاري]
دو چیزوں کے سوا کسی میں حسد جائز نہیں؛ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہِ حق میں خرچ کرے، اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے دین کا علم عطا فرمایا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ [بخاری، ج: 1، ص: 17]
یہ آرزو کرنا کہ کسی کی نعمت یا فضیلت اس کی بجائے مجھ کو مل جائے اسے حسد کہتے ہیں اور حسد کرنا حرام ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ:
اَلْحَسَدُ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ۔
یعنی حسد نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جیسے کہ آگ لکڑی کو۔ [ابو داؤد شریف، ج: 2، ص: 316]
اور اس حدیث شریف میں جو بظاہر دو چیزوں میں حسد کرنے کو جائز بتایا گیا اس کا مطلب ہے رشک و آرزو۔ حدیث شریف کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگ طرح طرح کی آرزو کرتے ہیں لیکن آرزو کرنے کے لائق صرف دو نعمتیں ہیں: ایک وہ مال جو راہِ حق میں خرچ کیا جائے اور دوسرے وہ علم کہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور اسے لوگوں کو سکھایا جائے۔
-
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ۔ [رواہ مسلم]
جب انسان مر جاتا ہے تو اس سے اس کا عمل کٹ جاتا ہے مگر تین عمل کا ثواب برابر جاری رہتا ہے: صدقہ جاریہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ [مشکوٰۃ، ص: 32]
صدقہ جاریہ سے مراد ہے مسجد و مدرسہ بنوانا یا زمین اور کتاب وغیرہ وقف کرنا۔ اور علم سے مراد ہے دینی کتابیں تصنیف کرنا اور اچھے شاگردوں کو چھوڑ جانا جن سے دینی فیضان جاری رہے۔ اور باپ نے اگر اپنی اولاد کو نیک بنایا تو وہ اس کے لیے دعائے خیر کریں یا نہ کریں باپ کو بہرحال ثواب ملے گا۔
