| عنوان: | علم کی فضیلت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
-
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے:
اَلْعِلْمُ خَزَائِنُ وَمِفْتَاحُهَا السُّؤَالُ فَاسْأَلُوا يَرْحَمْكُمُ اللَّهُ [رواه أبو نعيم في الحلية]
علم خزانے ہیں اور ان کی کنجی سوال ہے، تو سوال کرو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 76]
-
حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلْعِلْمُ مِيرَاثِي وَمِيرَاثُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي [رواه الديلمي في مسند الفردوس]
علم میری میراث ہے اور جو مجھ سے پہلے انبیاء گزرے ہیں ان کی میراث ہے۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 77]
-
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:
اَلْعِلْمُ وَالْمَالُ يَسْتُرَانِ كُلَّ عَيْبٍ، وَالْجَهْلُ وَالْفَقْرُ يَكْشِفَانِ كُلَّ عَيْبٍ [رواه الديلمي في مسند الفردوس]
علم اور مال ہر عیب کو چھپاتے ہیں اور جہالت و غریبی ہر عیب کو کھولتے ہیں۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 77]
-
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْعِلْمُ بِاللَّهِ، إِنَّ الْعِلْمَ يَنْفَعُكَ مَعَهُ قَلِيلُ الْعَمَلِ وَكَثِيرُهُ
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا علم بہترین عمل ہے۔ علم کے ساتھ تجھے تھوڑا اور زیادہ عمل فائدہ دے گا۔
وَإِنَّ الْجَهْلَ لَا يَنْفَعُكَ مَعَهُ قَلِيلُ الْعَمَلِ وَلَا كَثِيرُهُ [رواه الحكيم]
اور جہالت کے ساتھ نہ تجھے تھوڑا عمل فائدہ دے گا اور نہ زیادہ۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 82]
-
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:
خُيِّرَ سُلَيْمَانُ بَيْنَ الْمَالِ وَالْمُلْكِ وَالْعِلْمِ فَاخْتَارَ الْعِلْمَ، فَأُعْطِيَ الْمُلْكَ وَالْمَالَ لِاخْتِيَارِهِ الْعِلْمَ [رواه ابن عساكر]
حضرت سلیمان علیہ السلام مال، سلطنت اور علم کے درمیان اختیار دیے گئے تو انہوں نے علم کو پسند فرمایا، تو علم اختیار کرنے کے سبب سلطنت اور مال سے بھی سرفراز کیے گئے۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 87]
-
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے:
عَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ فَإِنَّ الْعِلْمَ خَلِيلُ الْمُؤْمِنِ [رواه الحكيم]
علم کو لازم پکڑو اس لیے کہ علم مومن کا گہرا دوست ہے۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 88]
-
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
فَضْلُ الْعِلْمِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ فَضْلِ الْعِبَادَةِ [رواه الحاكم]
علم کی زیادتی مجھے عبادت کی زیادتی سے بہت محبوب ہے۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 88]
-
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
قَلِيلُ الْعَمَلِ يَنْفَعُ مَعَ الْعِلْمِ وَكَثِيرُ الْعَمَلِ لَا يَنْفَعُ مَعَ الْجَهْلِ [رواه الديلمي في مسند الفردوس]
تھوڑا عمل علم کے ساتھ فائدہ دیتا ہے اور زیادہ عمل جہالت کے ساتھ فائدہ نہیں دیتا۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 88]
-
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:
لِكُلِّ شَيْءٍ طَرِيقٌ وَطَرِيقُ الْجَنَّةِ الْعِلْمُ [رواه الديلمي في مسند الفردوس]
ہر چیز کا ایک راستہ ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 89]
-
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
مَنْ صَارَ بِالْعِلْمِ حَيًّا لَمْ يَمُتْ أَبَدًا
جو علم سے زندہ ہوگا وہ کبھی نہیں مرے گا۔ [حاشية الهداية، ج: 1، ص: 2]
رہتا ہے نام علم سے زندہ ہمیشہ داغ
اولاد سے تو بس یہی دو پشت چار پشت -
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
مَا اسْتَرْذَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَبْدًا إِلَّا حَظَرَ عَلَيْهِ الْعِلْمَ وَالْأَدَبَ [رواه ابن النجار]
اللہ تعالیٰ علم و ادب کو بندے پر روک کر اسے ذلیل کرتا ہے۔ [كنز العمال، ج: 10، ص: 89]
-
حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں:
تَعَلَّمِ الْعِلْمَ، فَإِنْ كَانَ لَكَ مَالٌ كَانَ الْعِلْمُ لَكَ جَمَالًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ مَالٌ كَانَ الْعِلْمُ لَكَ مَالًا
علم حاصل کرو، اگر تمہارے لیے مال بھی ہوگا تو علم تمہارے لیے خوبصورتی ہوگا اور اگر تمہارے لیے مال نہیں ہوگا تو علم ہی تمہارے لیے مال ہوگا۔ [التفسير الكبير، ج: 1، ص: 275]
-
حضرت علامہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
قَالَ بَعْضُهُمْ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَابِيًا. اَلسَّيْلُ هَاهُنَا الْعِلْمُ، شَبَّهَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِالْمَاءِ لِخَمْسٍ خِصَالٍ
اللہ تعالیٰ کے قول "أَنْزَلَ" الخ، یعنی خدائے عزوجل نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بھر نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی، اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ "السَّيْلُ" سے مراد یہاں علم ہے۔ پانچ وجوہات ہیں کہ علم کو پانی سے تشبیہ دی ہے:
أَحَدُهَا: كَمَا أَنَّ الْمَطَرَ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ كَذٰلِكَ الْعِلْمُ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ
اول: جیسے بارش آسمان سے اترتی ہے ایسے ہی علم بھی آسمان سے اترتا ہے۔
وَالثَّانِي: كَمَا أَنَّ إِصْلَاحَ الْأَرْضِ بِالْمَطَرِ فَإِصْلَاحُ الْخَلْقِ بِالْعِلْمِ
دوم: زمین کی درستگی بارش سے ہے تو مخلوق کی درستگی علم سے ہے۔
وَالثَّالِثُ: كَمَا أَنَّ الزَّرْعَ وَالنَّبَاتَ لَا يَخْرُجُ بِغَيْرِ الْمَطَرِ كَذٰلِكَ الْأَعْمَالُ وَالطَّاعَاتُ لَا تَخْرُجُ بِغَيْرِ الْعِلْمِ
سوم: جیسے کھیتی اور ہریالی بغیر بارش کے نہیں پیدا ہوتی ایسے ہی اعمال و طاعات کا وجود بغیر علم کے نہیں ہوتا۔
وَالرَّابِعُ: كَمَا أَنَّ الْمَطَرَ فِيهِ الرَّعْدُ وَالْبَرْقُ كَذٰلِكَ الْعِلْمُ فَإِنَّهُ فِيهِ الْوَعْدُ وَالْوَعِيدُ
چہارم: جیسے کہ بارش گرج اور بجلی کی فرع ہے ایسے ہی علم ہے کہ وہ وعدہ اور وعید کی فرع ہے۔
وَالْخَامِسُ: كَمَا أَنَّ الْمَطَرَ نَافِعٌ وَضَارٌّ كَذٰلِكَ الْعِلْمُ نَافِعٌ وَضَارٌّ، نَافِعٌ لِمَنْ عَمِلَ بِهِ ضَارٌّ لِمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِهِ
پنجم: جیسے کہ بارش نفع و نقصان دونوں پہنچاتی ہے ایسے ہی علم سے نفع اور نقصان دونوں پہنچتا ہے، جو علم پر عمل کرے اس کے لیے وہ فائدہ مند ہے اور جو اس پر عمل نہ کرے اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ [التفسير الكبير، ج: 1، ص: 276]
