علم کی فضیلت (قسط: سوم)|فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی

علم کی فضیلت (قسط: سوم)
عنوان: علم کی فضیلت (قسط: سوم)
تحریر: فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

  1. حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

    اَلْعِلْمُ أَفْضَلُ مِنَ الْمَالِ بِسَبْعَةِ أَوْجُهٍ

    علم مال سے سات وجہوں سے افضل ہے۔

    أَوَّلُهَا: اَلْعِلْمُ مِيرَاثُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمَالُ مِيرَاثُ الْفَرَاعِنَةِ

    اول: علم انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے اور مال فرعونوں کی میراث ہے۔

    وَالثَّانِي: اَلْعِلْمُ لَا يَنْقُصُ بِالنَّفَقَةِ وَالْمَالُ يَنْقُصُ

    دوم: علم خرچ کرنے سے نہیں گھٹتا ہے اور مال گھٹتا ہے۔

    وَالثَّالِثُ: يَحْتَاجُ الْمَالُ إِلَى الْحَافِظِ وَالْعِلْمُ يَحْفَظُ صَاحِبَهُ

    سوم: مال حفاظت کا محتاج ہوتا ہے اور علم عالم کی حفاظت کرتا ہے۔

    وَالرَّابِعُ: إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ يَبْقَى مَالُهُ وَالْعِلْمُ يَدْخُلُ مَعَ صَاحِبِهِ قَبْرَهُ

    چہارم: جب آدمی مر جاتا ہے اس کا مال دنیا میں باقی رہتا ہے اور علم اس کے ساتھ قبر میں جاتا ہے۔

    وَالْخَامِسُ: اَلْمَالُ يَحْصُلُ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ وَالْعِلْمُ لَا يَحْصُلُ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ

    پنجم: مال مومن اور کافر دونوں کو حاصل ہوتا ہے، اور علمِ دین صرف مومن کو حاصل ہوتا ہے۔

    وَالسَّادِسُ: جَمِيعُ النَّاسِ يَحْتَاجُونَ إِلَى صَاحِبِ الْعِلْمِ فِي أَمْرِ دِينِهِمْ وَلَا يَحْتَاجُونَ إِلَى صَاحِبِ الْمَالِ

    ششم: سب لوگ اپنے دینی معاملہ میں عالم کے محتاج ہیں اور مالدار کے محتاج نہیں۔

    وَالسَّابِعُ: اَلْعِلْمُ يُقَوِّي الرَّجُلَ عَلَى الْمُرُورِ عَلَى الصِّرَاطِ وَالْمَالُ يَمْنَعُهُ

    ہفتم: علم سے پل صراط پر گزرنے میں قوت حاصل ہوگی اور مال اس میں رکاوٹ پیدا کرے گا۔ [التفسير الكبير، ج: 1، ص: 277]

  2. سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً [التفسير الكبير، ج: 1، ص: 280]

    ایک ساعت غور و فکر کرنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔

    حضرت علامہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس فضیلت کی دو وجہیں ہیں:

    أَحَدُهُمَا: أَنَّ التَّفَكُّرَ يُوصِلُكَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَالْعِبَادَةُ تُوصِلُكَ إِلَى ثَوَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَالَّذِي يُوصِلُكَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى خَيْرٌ مِمَّا يُوصِلُكَ إِلَى غَيْرِ اللَّهِ

    اول: غور و فکر کرنا تجھے اللہ تعالیٰ تک پہنچائے گا، اور عبادت تجھے اللہ تعالیٰ کے ثواب تک پہنچائے گی اور جو چیز کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والی ہو وہ بہتر ہے اس چیز سے جو تجھے غیر اللہ تک پہنچائے۔

    وَالثَّانِي: أَنَّ التَّفَكُّرَ عَمَلُ الْقَلْبِ وَالطَّاعَةُ عَمَلُ الْجَوَارِحِ وَالْقَلْبُ أَشْرَفُ مِنَ الْجَوَارِحِ فَكَانَ عَمَلُ الْقَلْبِ أَشْرَفَ مِنْ عَمَلِ الْجَوَارِحِ

    دوم: غور و فکر دل کا کام ہے اور فرمانبرداری دوسرے اعضا کا عمل ہے، اور دل تمام اعضا سے افضل ہے تو اس کا عمل بھی تمام اعضا کے عمل سے افضل ہے۔ اور وہ دلیل جو اس بات کو مضبوط کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کا قول:

    أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي [سورۃ طٰه: 14]

    یعنی میری یاد کے لیے نماز قائم کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کی یاد کے لیے نماز کو وسیلہ ٹھہرایا، اور مقصود وسیلہ سے افضل ہوتا ہے، تو ثابت ہوا کہ علم دوسری چیزوں سے افضل ہے۔ [التفسير الكبير، ج: 1، ص: 280]

  3. حضرت علامہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

    وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا [سورۃ النساء: 113]

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے۔ اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے، تو اللہ تعالیٰ نے علم کو عظیم فرمایا؛ اور آیت کریمہ:

    وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا [سورۃ البقرة: 269]

    میں حکمت کو خیرِ کثیر فرمایا اور حکمت علم ہی ہے۔ اور یہ بھی فرمایا:

    الرَّحْمٰنُ ۞ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [سورۃ الرحمن: 1-2]

    کہ رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا، تو خدائے تعالیٰ نے اس نعمت کو ساری نعمتوں پر مقدم فرمایا جس سے ثابت ہوا کہ علم سب سے افضل ہے۔ [التفسير الكبير، ج: 1، ص: 280]

  4. حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:

    اَلْعِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَالِ، اَلْعِلْمُ يَحْرُسُكَ وَأَنْتَ تَحْرُسُ الْمَالَ، وَالْمَالُ تُنْقِصُهُ النَّفَقَةُ وَالْعِلْمُ يَزْكُو بِالْإِنْفَاقِ، وَالْعِلْمُ حَاكِمٌ وَالْمَالُ مَحْكُومٌ عَلَيْهِ

    علم مال سے بہتر ہے۔ علم تیری حفاظت کرتا ہے اور تو مال کی حفاظت کرتا ہے۔ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ علم حاکم ہے اور مال محکوم علیہ ہے۔ [التفسير الكبير، ج: 1، ص: 280]

  5. حضرت علامہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

    اَلْقَلْبُ مَيِّتٌ وَحَيَاتُهُ بِالْعِلْمِ

    دل مردہ ہے اور اس کی زندگی علم سے ہے۔ [التفسير الكبير، ج: 1، ص: 284]

  6. حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

    كَمَا أَنَّ الْغَيْثَ يُحْيِي الْبَلَدَ الْمَيِّتَ فَكَذَا عُلُومُ الدِّينِ تُحْيِي الْقَلْبَ الْمَيِّتَ

    جیسے بارش مردہ شہر میں زندگی پیدا کر دیتی ہے ایسے ہی دین کے علوم مردہ دل میں زندگی ڈال دیتے ہیں۔ [فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج: 1، ص: 161]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!