تعلیم و تصنیف کی فضیلت|فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی

تعلیم و تصنیف کی فضیلت
عنوان: تعلیم و تصنیف کی فضیلت
تحریر: فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

  1. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ: عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ، تَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ [رواه ابن ماجه والبيهقي، مشكاة المصابيح، ص: 35]

    ترجمہ: مومن کو اس کی موت کے بعد جو اعمال و نیکیاں پہنچتی رہتی ہیں، ان میں سے: ایک علم ہے جو اس نے حاصل کیا اور پھیلایا؛ دوسرے وہ نیک اولاد کہ جس کو اس نے چھوڑا؛ تیسرے قرآن مجید جس کا وارث بنایا؛ چوتھے مسجد جس کو اس نے تعمیر کی؛ پانچویں مسافر خانہ بنایا؛ چھٹے نہر جاری کی؛ اور ساتویں صدقہ جس کو اس نے اپنی صحت و زندگی میں نکالا۔ ان سب چیزوں کا ثواب مرنے کے بعد بھی مومن کو پہنچتا ہے۔

    ان تمام چیزوں کا اور اسی طرح دینی کتابیں وراثت میں چھوڑنے، ان کو وقف کرنے اور مدرسہ و خانقاہیں بنوانے کا ثواب بھی مومن کو قبر میں ملتا رہے گا جب تک کہ وہ دنیا میں باقی رہیں گی۔ ان میں تعلیم دینے کا ثواب زیادہ دنوں تک ملتا رہے گا بشرطیکہ شاگردوں کو قابل بنائے اور ان سے درس و تدریس کا سلسلہ چل پڑے۔ اور سب سے زیادہ ثواب بہترین دینی کتابوں کی تصنیفات کا ملے گا کہ وہ پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گی جن سے مسلمان اپنے ایمان و عمل کو سنوارتے رہیں گے۔

  2. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَجْوَدُ جُودًا؟

    کیا تم لوگ جانتے ہو سب سے بڑا سخی کون ہے؟

    قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ

    صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔

    قَالَ: اللَّهُ أَجْوَدُ جُودًا، ثُمَّ أَنَا أَجْوَدُ بَنِي آدَمَ، وَرَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَهُ، يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيرًا وَحْدَهُ، أَوْ قَالَ: أُمَّةً وَاحِدَةً [رواه البيهقي، مشكاة المصابيح، ص: 35]

    فرمایا: اللہ سب سے بڑا جواد (سخی) ہے۔ پھر انسانوں میں سب سے زیادہ سخی میں ہوں۔ اور میرے بعد سب سے زیادہ سخی وہ شخص ہے کہ جس نے علمِ دین حاصل کیا تو اس کو پھیلایا، وہ اکیلا امیر ہو کر آئے گا یا جماعت کی حیثیت سے۔

    مطلب یہ ہے کہ درس و تدریس یا تصنیف و تالیف سے جو شخص علمِ دین پھیلائے گا وہ قیامت کے دن بڑی شان و شوکت اور جاہ و حشمت کے ساتھ آئے گا۔

  3. حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَالِمٌ لَا يُنْتَفَعُ بِعِلْمِهِ [رواه الدارمي، مشكاة المصابيح، ص: 35]

    ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن بہت برے درجہ والا وہ عالم ہوگا جس کے علم سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔

    یعنی وہ عالم جو درس و تدریس یا تصنیف و تالیف میں مشغول نہ ہو، اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ نہ پہنچائے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دے [أشعة اللمعات، ج: 1، ص: 671] یا یہ مطلب ہے کہ علمِ دین حاصل کیا مگر اس پر عمل نہیں کیا تو وہ جاہل سے برا ہے کہ ایسے عالم پر عذاب جاہل سے سخت ہوگا [مرقاة المفاتيح، ج: 1، ص: 255]۔ جو لوگ علمِ دین حاصل کرنے کے بعد کاروبار میں لگ جاتے ہیں اور اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتے وہ اس حدیث شریف سے نصیحت حاصل کریں اور وہ عالم بھی کہ جو بے عمل ہیں۔

  4. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [رواه أحمد والدارمي، مشكاة المصابيح، ص: 38]

    ترجمہ: اس علم کی مثال جس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے اس خزانے کی طرح ہے کہ جس میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں نہ خرچ کیا جائے۔

  5. حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ [رواه ابن ماجه، كنز العمال، ج: 10، ص: 8]

    ترجمہ: جس نے کسی شخص کو علمِ دین سکھایا تو اس کے لیے اس آدمی کا ثواب ہے کہ جس نے اس پر عمل کیا، مگر عمل کرنے والے کا ثواب کم نہ ہوگا۔

  6. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

    مَنْ عَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَوْ بَابًا مِنْ عِلْمٍ أَنْمَى اللَّهُ أَجْرَهُ إِلَى الْقِيَامَةِ [رواه ابن عساكر، كنز العمال، ج: 10، ص: 8]

    ترجمہ: جو شخص قرآن مجید کی کوئی آیت یا علم کا کچھ حصہ سکھائے تو اللہ تعالیٰ اس کے ثواب کو قیامت تک بڑھائے گا۔

  7. حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

    وَوُزِنَ حِبْرُ الْعُلَمَاءِ بِدَمِ الشُّهَدَاءِ فَرَجَحَ عَلَيْهِ [رواه الخطيب، كنز العمال، ج: 10، ص: 8]

    ترجمہ: عالموں کے قلم کی روشنائی شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی تو وہ خون پر غالب ہو جائے گی۔

  8. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

    يُؤْزَنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ وَدَمُ الشُّهَدَاءِ، فَيَرْجَحُ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ عَلَى دَمِ الشُّهَدَاءِ [رواه الشيرازي والمرہبي وابن عبد البر وابن الجوزي، كنز العمال، ج: 10، ص: 8]

    ترجمہ: قیامت کے دن عالموں کے قلم کی روشنائی اور شہیدوں کے خون تولے جائیں گے تو عالموں کی روشنائی شہیدوں کے خون پر بھاری ہوگی۔

    یعنی کتابوں کی تصنیف خدائے تعالیٰ کے نزدیک اتنی زیادہ فضیلت رکھتی ہے کہ اس کے لیے عالمِ دین جو روشنائی استعمال کرتے ہیں وہ قیامت کے دن وزن میں شہیدوں کے خون پر غالب آ جائے گی۔

  9. حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے:

    عَالِمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ [رواه في مسند الفردوس، كنز العمال، ج: 10، ص: 14]

    ترجمہ: وہ عالم کہ جس (کی تعلیم و تصنیف) سے فائدہ اٹھایا جائے ہزار عابد سے بہتر ہے۔

  10. حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

    أَتَصَدَّقُ النَّاسِ صَدَقَةً أَفْضَلُ مِنْ عِلْمٍ يُنْشَرُ [رواه الطبراني، كنز العمال، ج: 10، ص: 89]

    ترجمہ: وہ علم کہ جسے (تعلیم و تصنیف سے) پھیلایا جائے اس سے افضل لوگوں کا کوئی صدقہ نہیں۔

  11. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

    مَنْ أَدَّى إِلَى أُمَّتِي حَدِيثًا لِيُقَامَ بِهِ سُنَّةٌ أَوْ تُشْكَمَ بِهِ بِدْعَةٌ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ [رواه أبو نعيم في الحلية، كنز العمال، ج: 10، ص: 90]

    ترجمہ: جو شخص میری امت تک کوئی دینی بات پہنچائے تاکہ اس سے سنت قائم کی جائے یا اس سے بد مذہبی دور کی جائے تو وہ جنتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!