میلادِ مصطفیٰ ﷺ: محبت، تعظیم اور سیرت کا روشن پیغام (قسط اول)

میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط اول)
عنوان: میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط اول)
تحریر: سرفراز احمد قادری امجدی

میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت اور ولادتِ باسعادت

تاریخ عالم کے بے شمار واقعات میں سب سے زیادہ مبارک اور مسعود واقعہ وہ ہے جب مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر سرور کون و مکاں، رحمت عالم اور نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی آمد پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت ہے۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے جہالت کے اندھیرے چھٹے، ایمان و ہدایت کا نور عام ہوا، ظلم و جبر کے نظام کو شکست ہوئی اور انسان کو اس کے رب کی معرفت اور زندگی گزارنے کا صحیح راستہ ملا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
"وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ"
ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔

جب آپ ﷺ کی ذات اقدس خود رحمت للعالمین ہے تو آپ ﷺ کی ولادت باسعادت یقیناً پوری انسانیت کے لیے عظیم نعمت اور رحمت کا دن ہے۔ اسی لیے اہل ایمان ربیع الاول کی آمد پر اپنے دلوں میں خوشی محسوس کرتے ہیں، درود و سلام پڑھتے ہیں، سیرت و فضائل بیان کرتے ہیں اور اپنے آقا و مولا ﷺ کی بارگاہ میں محبت و عقیدت کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

ولادت باسعادت

حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ ﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ ﷺ کی ولادت نے دنیا کو وہ عظیم نعمت عطا فرمائی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت کو کمال تک پہنچایا اور آپ ﷺ کو خاتم النبیین کے منصب سے سرفراز فرمایا۔

آپ ﷺ کا اسم مبارک زمین پر محمد اور آسمان پر احمد ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے بھی اہل کتاب آپ ﷺ کی آمد کی بشارتوں سے واقف تھے اور آپ ﷺ کی تشریف آوری سے عالم انسانیت میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوا۔

آپ ﷺ کی ولادت کے موقع پر متعدد غیر معمولی واقعات کا ذکر سیرت و تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔ فارس کے بادشاہ کسریٰ کے محل کے بعض کنگروں کے گرنے، فارس کے آتش کدے کے بجھنے اور بعض دیگر عجیب واقعات کا ذکر بھی روایات میں موجود ہے۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا سے ولادت کے وقت نور ظاہر ہونے کی روایات بھی منقول ہیں۔

یہ واقعات اس عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسی مقدس ہستی تشریف لا رہی تھی جس کی آمد سے تاریخ کا رخ بدلنے والا تھا۔

ولادت مصطفیٰ ﷺ اور دنیا کا انقلاب

حضور رحمت عالم ﷺ کی تشریف آوری سے انسانیت کو عزت ملی۔ ظلم و جبر کے بجائے عدل و انصاف کا تصور مضبوط ہوا۔ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی۔ عورتوں کو حقوق عطا ہوئے۔ یتیموں، مسکینوں، کمزوروں اور بے سہارا لوگوں کی خبر گیری کا حکم دیا گیا۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسم کا خاتمہ ہوا اور معاشرے کو اخلاق و کردار کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا۔

آپ ﷺ نے انسان کو بتایا کہ اصل فضیلت مال و دولت، رنگ و نسل اور خاندان میں نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک کردار میں ہے۔ آپ ﷺ نے توحید کا پیغام دیا، شرک و باطل کا خاتمہ کیا اور انسان کو اس کے حقیقی خالق سے جوڑا۔

اسی لیے آپ ﷺ کی ولادت صرف ایک فرد کی ولادت نہیں بلکہ ہدایت کے ایک عظیم دور کا آغاز تھی۔

ولادت کی خوشی کیوں؟

اسلام انسان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر خوش ہونے اور ان کا شکر ادا کرنے سے نہیں روکتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا"
ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔

حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور رحمت ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کی ولادت باسعادت پر خوشی کا اظہار محبت اور شکر کا ایک جائز ذریعہ ہے، بشرطیکہ اس خوشی کے اظہار میں کوئی ناجائز یا خلاف شرع کام شامل نہ ہو۔

اسی بنیاد پر اہل سنت کے نزدیک میلاد شریف کی محافل منعقد کرنا، ذکر ولادت کرنا، نعت و درود پڑھنا، سیرت بیان کرنا، صدقہ و خیرات کرنا، حسب استطاعت چراغاں کرنا اور جائز طریقے سے خوشی کا اظہار کرنا مستحسن امور میں سے ہے۔

میلاد صرف خوشی کا نام نہیں

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ میلاد منانے کا مقصد صرف ایک دن خوشی منانا نہیں بلکہ اس عظیم ہستی کی آمد کو یاد کرنا ہے جن کی پوری زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:
"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"
ترجمہ کنزالایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔

لہٰذا حقیقی محبت یہ ہے کہ میلاد کی محفل میں حضور ﷺ کا ذکر کرنے کے ساتھ آپ ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں بھی جگہ دی جائے۔ نمازوں کی پابندی ہو، معاملات میں سچائی ہو، والدین کا ادب ہو، رشتہ داروں سے حسن سلوک ہو، پڑوسیوں کے حقوق ادا کیے جائیں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کی جائے اور ہر معاملے میں شریعت و سنت کو مقدم رکھا جائے۔

محفل چند گھنٹوں کی ہوتی ہے لیکن سیرت پوری زندگی کے لیے ہے۔ چراغاں چند دن کا ہوتا ہے لیکن دل میں محبت مصطفیٰ ﷺ کا چراغ ہمیشہ روشن رہنا چاہیے۔

میلاد محبت کا اظہار ہے

عاشق رسول ﷺ کے لیے ربیع الاول صرف ایک مہینہ نہیں بلکہ یاد مصطفیٰ ﷺ کا موسم ہے۔ اس مہینے میں درود و سلام کی کثرت، سیرت طیبہ کا مطالعہ، نعت رسول ﷺ، صدقات و خیرات اور محافل ذکر و میلاد کے ذریعے محبت رسول ﷺ کا اظہار کیا جاتا ہے۔

لیکن اس محبت کی سب سے خوبصورت تکمیل اتباع سنت ہے۔ اگر میلاد کے بعد ایک مسلمان کی نماز درست ہو جائے، معاملات پاکیزہ ہو جائیں، زبان جھوٹ اور غیبت سے محفوظ ہو جائے، والدین خوش ہو جائیں، کسی غریب کی مدد ہو جائے اور زندگی میں سنت رسول ﷺ کا کوئی نیا عمل شامل ہو جائے تو یہی میلاد کے پیغام کا حقیقی ثمر ہے۔

پس میلاد مصطفیٰ ﷺ ہمیں محبت بھی سکھاتا ہے، تعظیم بھی اور عمل بھی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب کریم ﷺ کی سچی محبت نصیب فرمائے، آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر بجا لانے اور آپ ﷺ کی سنتوں پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

نوٹ و تعارفِ مصنف

نوٹ: اگلی قسط میں میلاد النبی ﷺ منانے کی شرعی حیثیت، اس کے جواز و استحباب کے دلائل، قرآن و حدیث سے رہنمائی، میلاد کے جائز طریقے اور اس سلسلے میں اکابر اہل سنت کے ارشادات بیان کیے جائیں گے۔

رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
عہدہ: بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار | خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!