| عنوان: | تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (قسط سوم) |
|---|---|
| تحریر: | عبدالسبحان بزمی مصباحی |
تمہیدی شعر
ہست دینِ مصطفےٰ دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات
فکرِ آخرت اور محاسبۂ نفس
حضور اکرم ﷺ نے لوگوں کو اپنی سیرت و تعلیم کے ذریعے فکرِ آخرت کا تحفہ دیا اور خود کا محاسبہ کرنے کی تلقین فرمائی۔ ایک جگہ یہ تاکید فرمائی کہ:
"كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ"
ترجمہ: "دنیا میں تم ایک اجنبی یا مسافر کی طرح زندگی گزارو۔" (صحیح البخاری)
یہ دنیا، آخرت کی کھیتی ہے اور آخرت دارِ جزا ہے، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ اپنی تمام تر توجہ آخرت کی جانب پھیر دے اور اخروی زندگی کو کامیاب و نایاب بنانے کے لیے سعیِ تام کرے۔ قرآن مجید جگہ جگہ فکرِ آخرت کا نظریہ پیش کرتا ہے:
"وَ نَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْا وَ إِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَ كَفَى بِنَا حَسِبِيْنَ" (الانبیاء: ۴۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہو گا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو۔
امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میزان کے خطرے سے وہی بچ سکتا ہے جس نے دنیا میں اپنا محاسبہ کیا ہو اور اس میں شرعی میزان کے ساتھ اپنے اعمال، اقوال اور خطرات و خیالات کو تولا ہو۔ (صراط الجنان)
ایک جگہ اور ارشاد ہوتا ہے:
"كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ" (آل عمران: ۱۸۵)
ترجمہ کنز الایمان: ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔
مذکورہ بالا عبارات سے یہ امر مترشح ہے کہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام نے ہمیں فکرِ آخرت کی ترغیب دی؛ تاکہ ہم اپنے اندر فکرِ آخرت پیدا کر کے دنیا میں اچھے اعمال کریں اور اخروی آسائش کے اسباب اکٹھا کریں، اسی میں ہر ایک کے لیے بھلائی و کامرانی ہے۔
طہارت اور صاف ستھرائی
جہالت کی بنا پر انسان طہارت و پاکیزگی کے طریقۂ کار سے جاہل، ناپاکی و گندگی میں رہنے کے خوگر ہو گئے تھے، صاف ستھرائی پر خاص توجہ نہیں دیتے تھے۔ رحمتِ عالم ﷺ نے عالمِ انسانیت کو طہارت حاصل کرنے اور نجاست و پلیدگی سے اجتناب کرنے کا درس دیا اور اسے جزوِ ایمان قرار دیا:
"الطَّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ"
پاک رہنے کی خوبیاں بتائیں کہ اللہ رب العزت پاکی حاصل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ"
آج دنیا میں صاف صفائی پر زور دیا جا رہا ہے، یہ بھی تعلیماتِ نبوی ﷺ کی ہی دین ہے۔
تعلیم و تعلم کا آغاز
رحمتِ عالم کی تشریف آوری سے قبل علمی انحطاط کا دور تھا، جہالت کا شور تھا، لوگ علم کے معنیِ اصلی سے ناواقف تھے۔ وہ جہالت ہی تھی جو لوگوں کو مالک و خالقِ حقیقی کے عرفان و معرفت سے دور لا کر معبودانِ باطل کی جانب مائل کی تھی، وہ جہالت ہی تھی جو لوگوں کو فسق و فجور، عریانی و فحاشی، شراب نوشی، قمار بازی، نسبی تفاخر، مالی تقابل، آپسی خونریزی، عصمت دری، جرائم و معاصی، قبائلی رنجش و عصبیت اور نسلی منافرت کی طرف دھکیل رہی تھی۔
ایسے ماحول میں آپ کی جلوہ گری ہوئی اور پہلی وحی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی، وہ علم و آگہی سے متعلق تھی، اسی کی روشنی سے مذکورہ صفات و عاداتِ شنیعہ کا خاتمہ ہوا، جہالت کی تاریکی کافور ہوئی، چہار جانب تعلیم کی فضا قائم ہوئی۔ آپ ﷺ نے فروغِ علم کے لیے درس و تدریس کی جگہ متعین کی، جہاں صحابۂ کرام جوق در جوق حاضرِ بارگاہ ہو کر علمی فیضان سے آشنا ہوتے اور "وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا" کے علمی چشمے سے سیراب ہوتے۔
مرد ہو کہ زن، ہر ایک کو ضروری علم سے واقفیت لازم قرار دی گئی:
"طلب العلم فريضة على كل مسلم"
پھر اس علمی مشن کو خلفائے راشدین، صحابۂ کرام نے عرب کے اطراف و اکناف میں عام کیا، پھر تابعین و تبع تابعین، پھر اولیا و اقطاب و اغواث، پھر علما و حفاظ نے گلشنِ علم کی خوشبو ملک در ملک پھیلائی۔
(جاری...)
