تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (قسط چہارم)

تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (قسط چہارم)
عنوان: تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (قسط چہارم)
تحریر: عبدالسبحان بزمی مصباحی

تمہیدی شعر

ہست دینِ مصطفےٰ دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات


عصرِ حاضر میں جو ہر جا علم و تعلیم کی سنہری فضا قائم ہے، علمی ترقی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور تعلیم یافتگان عرش پر کمندیں ڈال رہے ہیں، یہ سب اس کی طرف مشیر ہے کہ علم کی ساری چمک دمک رحمتِ عالم ﷺ کی مرہونِ منت ہے۔

دورِ غلامی کا خاتمہ

طلوعِ اسلام سے قبل غلامی کا دور عروج پر تھا، غلاموں سے بڑی بے رحمی کے ساتھ پیش آنے کا ماحول تھا، غلاموں کو طرح طرح کے اذیت ناک و ہولناک مرحلوں سے گزرنا پڑتا تھا، جس پر انسانیت شرمسار تھی۔ غلاموں سے طاقت سے زیادہ کام لیا جاتا تھا، کھان پان شکم سیری تک نہیں دیا جاتا تھا۔ بالکل نرے گھٹیا اور ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، غلاموں کو سماج سے باہر رکھا جاتا اور ظالمانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ اس حوالے سے ایک اقتباس دیکھیے، جس کو ڈاکٹر غلام زرقانی نے اپنی ایک تصنیف میں نقل فرمایا ہے:

"Most slaves were completely detached from the societies in which they had grown up, or else they were home-bred: neither group had any real hope of achieving better conditions except with their owners' support. Besides, slaves were utterly dependent on their masters. The sanctions for disobedience or dishonesty were horrifying. It was in principle illegal to kill a slave, deliberately at least, although who would bring a case against a master? But slaves might be routinely confined, beaten, even tortured, and there were many lesser sanctions." (Rome, An Empire's Story: Greg Woolf, page: 89-1)

زیادہ تر غلام معاشرے سے الگ تھلگ کسی دور افتادہ علاقے میں رہتے، یا پھر کسی گھر میں پرورش پاتے؛ بہر کیف دونوں طرح کے غلام اپنے آقاؤں کی مرضی کے بغیر حالات میں بہتری کی کوئی امید نہیں رکھتے تھے۔ وہ اپنے آقاؤں پر پوری طرح منحصر تھے۔ کسی طرح کی بھی حکم عدولی یا بے ایمانی کی سزا نہایت ہی ہولناک ہوتی تھی۔ گو کہ بنیادی طور پر، کم از کم جان بوجھ کر کسی غلام کی جان لینا غیر قانونی تھا، تاہم کس کی جرأت تھی کہ آقا کے خلاف مقدمہ کرے؟ اس لیے غلام عام طور پر قید کیے جاتے، مارے جاتے اور اذیت ناک مراحل سے گزرتے، اور علاوہ ازیں، اس سے کم کئی طرح کی دوسری سزائیں انہیں دی جاتی تھیں۔

اس رسمِ غلامی کی راہ کو اسلام کی جانب سے مسدود کرنے کے لیے بہترین اقدامات اٹھائے گئے اور نتیجہ خیز کامیابی بھی نصیب ہوئی۔ پیارے نبی ﷺ نے غلاموں سے حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آنے پر زور دیا، انہیں محبت و شفقت کی نگاہ سے دیکھنے کا حکم صادر فرمایا اور لوگوں کو آزاد کرنے کے لیے ابھارا:
"من اعتق رقبة مؤمنة، اعتق الله بكل ارب منها اربا منه من النار" (مسلم)۔
ترجمہ: جو ایک مسلم غلام آزاد کرے، تو اللہ تعالیٰ غلام کے ہر عضو کے بدلے میں اس کے ایک عضو کو جہنم سے آزاد فرمائے گا۔

قرآن پاک میں ہے:
"وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنُبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" (النساء: ۳۶)
ترجمہ کنزالایمان: "اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے۔"

یہاں تک کہ اسلام نے مختلف کفارات میں غلاموں کی آزادی کا نظریہ پیش فرمایا؛ جو غلاموں کے ساتھ بے پناہ ہمدردی و رحم دلی، الفت و محبت کی طرف مضاف ہے۔

کفارۂ ظہار میں:
"وَالَّذِينَ يُظْهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ يَعُودُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُوْنَ بِهِ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيرٌ" (المجادلة: ۳)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں، پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بڑی بات کہہ چکے تو ان پر لازم ہے ایک بردہ آزاد کرنا قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

روزہ توڑنے کے کفارہ میں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ میں نے حالتِ روزہ میں اپنی اہلیہ سے صحبت کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک غلام آزاد کرے، یا ساٹھ روزے پے درپے رکھے، یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ (بخاری شریف)

قسم کے کفارہ میں:
"لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَدْتُمُ الْأَيْمَانُ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِيْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيْكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ" (المائدة: ۸۹)
ترجمہ کنز الایمان: اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر، ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا، تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے، یا انہیں کپڑے دینا، یا ایک بردہ آزاد کرنا، تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے، یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔

کفارۂ قتل میں:
"وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَ دِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوْا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَ إِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ - تَوْبَةً مِّنَ اللَّهِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا" (النساء: ۹۲)
ترجمہ کنز الایمان: اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خوں بہا کہ مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں، پھر اگر وہ اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور خود مسلمان ہے، تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کی جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا، تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے، یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

(جاری...)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!