مدنی مذاکرے کے سوال جواب | امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ محمد الیاس عطّار قادری

مدنی مذاکرے کے سوال جواب
عنوان: مدنی مذاکرے کے سوال جواب
تحریر: شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ محمد الیاس عطّار قادری
پیش کش: صوفیہ خاتون

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مدنی مذاکروں میں علم و حکمت اور معلومات کے متعلق کیے جانے والے سوالات کے جو جوابات عطا فرماتے ہیں، ان میں سے ۱۰ اہم سوالات و جوابات یہاں درج کیے جا رہے ہیں:

۱۔ ہائی نیک، فولڈ کر کے نماز پڑھنے کا حکم

سوال: سردیوں میں اندر کی طرف ہائی نیک پہنی جاتی ہے، اسے فولڈ کر کے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: نماز بغیر کراہت کے ہو جائے گی۔ (مدنی مذاکرہ، ۱۵ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۴ھ)

۲۔ سب سے پہلے جھوٹ بولنے والا جن

سوال: کیا جنّات بھی جھوٹ بولتے ہیں؟
جواب: سب سے پہلے جھوٹ ایک جنّ ہی نے بولا تھا اور وہ جن ”ابلیس“ ہے جسے ہم شیطان کہتے ہیں۔ (دیکھیے: مرآۃ المناجیح، ۶ / ۴۵۳) شیطان دراصل جنّ ہے (دیکھیے: پ ۱۵، الکہف: ۵۰)، جبکہ بعض لوگ اسے فرشتہ کہتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ ابلیس کا اصل نام ”عزازیل“ ہے۔ (دیکھیے: سیرت الانبیاء، ص ۱۳۴، ۱۳۵؛ مدنی مذاکرہ، ۲ صفر المظفر ۱۴۴۲ھ)

۳۔ ایمان کی مضبوطی و کمزوری

سوال: ایمان کی مضبوطی اور کمزوری کو کیسے پہچانا جائے؟
جواب: نیک کام کرنے کی وجہ سے ایمان ”مضبوط“ ہوتا ہے جبکہ گناہ والے کام کرنے سے ایمان کمزور ہوتا ہے۔ اللہ پاک سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم)
(وسائلِ بخشش، ص ۴۰۰؛ مدنی مذاکرہ، ۹ ربیع الاول شریف ۱۴۴۲ھ)

۴۔ کیا جنّت میں روزے ہوں گے؟

سوال: کیا جنّت میں روزے رکھے جائیں گے؟
جواب: نہیں، جنّت میں روزے نہیں ہوں گے۔ (مدنی مذاکرہ، ۲۶ شعبان شریف ۱۴۴۴ھ)

۵۔ دورانِ وضو کوئی عضو دھونے سے رہ جائے اور نماز شروع کر دی تو؟

سوال: وضو کے درمیان اگر کوئی عضو دھونا بھول جائیں اور نماز پڑھنا شروع کر دی، نماز میں یاد آیا کہ فلاں عضو نہیں دھویا تھا تو اب کیا حکم ہے؟
جواب: اگر بے وضو شخص وضو میں کوئی عضو دھونا بھول جائے اور نماز میں یاد آ جائے تو وہ اس عضو کو دھو کر نئے سرے سے نماز پڑھے گا کیونکہ بے وضو نماز شروع نہیں ہوتی۔ اور اگر اس کا پہلے سے وضو تھا اور وہ وضو علی الوضو (یعنی وضو تھا مگر تازہ وضو) کر رہا تھا، اب اگر کوئی عضو دھونا بھول گیا اور نماز پڑھنا شروع کر دی تو نماز ہو جائے گی۔

۶۔ جیسے رشتہ ختم کرنے سے وراثت ختم نہیں ہوتی!

سوال: اگر چند بہنیں لڑائی کے دوران غصّہ میں آکر جیتا مرتا ختم کر جائیں تو ان کو وراثت سے حصّہ دینا پڑے گا یا نہیں؟
جواب: غصّے میں ایسا بول دیتے ہیں لیکن ایسا بولنا نہیں چاہیے، اچھے جملے نہیں ہیں، البتہ وراثت سے ان جملوں کا کوئی تعلّق نہیں ہے، وراثت میں جو ان کا حصّہ بنتا ہے، وہ ان کو دینا ہی دینا ہے۔ (مدنی مذاکرہ، ۲۲ جمادی اولیٰ ۱۴۴۵ھ)

۷۔ کیا قبر میں نابالغ بچوں سے سوال جواب ہوں گے؟

سوال: جو نابالغ بچے دنیا سے چلے جاتے ہیں تو کیا قبر میں ان سے فرشتے سوالات کرتے ہیں؟
جواب: جمہور (یعنی اکثر) علماء کا یہ ارشاد ہے کہ قبر میں نابالغ بچوں سے سوال جواب نہیں ہوں گے۔ (دیکھیے: المعتمد المُستند، ص ۱۸۴) نیز نابالغ بچے کے گناہ شمار نہیں ہوتے تو وہ بغیر حساب کتاب کے جنّت میں چلے جائیں گے۔ (دیکھیے: شرح الصدور، ص ۱۵۲؛ مدنی مذاکرہ، ۱۱ جمادی اولیٰ ۱۴۴۵ھ)

۸۔ فضول سوچوں سے کیسے جان چھڑائیں؟

سوال: فضول سوچوں سے جان چھڑانے کا کوئی آسان سا حل ارشاد فرما دیجیے۔
جواب: فضول سوچوں کی جگہ اچھی سوچوں کو لایا جائے، جب اچھی سوچیں بن جائیں گی تو فضول سوچیں خود بخود آگے پیچھے ہو جائیں گی، اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! جیسے دنیا میں سیر و تفریح اور گھومنے پھرنے کی سوچوں کو مدینہ شریف کی طرف کنورٹ کر دیں کہ مدینہ شریف میں آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی گلیوں میں گھومیں گے تو سوچ بدل گئی، دنیا کی فکریں تنگ کر رہی ہیں تو آخرت کی فکریں لے آئیں اور سوچ کو تبدیل کریں۔ سوچیں وہ ہونی چاہئیں جو آخرت میں سرخرو کریں، ثواب دلوائیں اور ہماری اصلاح کا ذریعہ بنیں۔ (مدنی مذاکرہ، ۱۶ ذو القعدۃ الحرام ۱۴۴۳ھ)

۹۔ کیا آخری وقت کی توبہ مقبول ہے؟

سوال: اگر کسی نے اپنی زندگی کے آخری وقت میں توبہ کی تو کیا اس کی توبہ قبول ہو جائے گی؟
جواب: اگر آخری وقت سے مراد یہ ہے کہ کسی کو پھانسی دی جا رہی ہو اور اس وقت وہ توبہ کر لے تو یہ توبہ بالکل مقبول ہے چاہے توبہ گناہِ دُوس سے ہو یا کفر سے۔ اور اگر آخری وقت سے مراد وہ لمحات ہیں جب نزع کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور فرشتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت گناہوں سے توبہ تو مقبول ہے لیکن کفر سے توبہ قبول نہیں، لہٰذا اس وقت اگر کوئی ایمان لائے تو مسلمان نہیں ہو گا کیونکہ ایمان بالغیب ضروری تھا جبکہ یہ تو آنکھوں سے دیکھ چکا۔ بہرحال مومن جب بھی توبہ کرے چاہے اس کی روح گلے میں اٹکی ہو اس وقت بھی اس کی توبہ قبول ہے۔ ہاں! یہ الگ بات ہے کہ اس وقت توبہ کا ہوش ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ تو اللہ پاک ہی بہتر جانے۔ (دیکھیے: سراج المنیر، ج ۳، ص ۳۶۵ / مدنی مذاکرہ، ۲۰ محرم الحرام ۱۴۴۰ھ)

۱۰۔ کیا غسل فرض ہونے کی صورت میں چلنا پھرنا گناہ ہے؟

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس پر غسل فرض ہوتا ہے تو چلتے وقت اس کے گناہ لکھے جاتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟
جواب: جس پر غسل فرض ہو جائے تو اس کے متعلّق یہ کہنا درست نہیں کہ چلنے، بیٹھنے کی حالت میں اس کے گناہ لکھے جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو حمام میں چل کر کیسے جاتے؟ کیونکہ چلنا پڑتا تو اس کے لیے گناہ لکھ دیا جاتا۔ اب کیا بے چارہ بستر پر ہی لیٹا رہے گا؟ یا وہی ہوائی باتیں ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ البتہ غسل کرنے میں اتنی تاخیر کر دی کہ نماز قضا ہو گئی تو یہ گناہ ہے۔ (دیکھیے: بہارِ شریعت، ۱ / ۹۸۴) جس گھر میں جنبی شخص ہوتا ہے تو وہاں رحمت کے فرشتے بھی نہیں آتے۔ (رد المحتار، ۱/ ۲۲۷) اس لیے بلا وجہ غسل کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ (مدنی مذاکرہ، ۲۹ ربیع الآخر ۱۴۴۰ھ)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!