مختصر سیرت حضرت امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ

مختصر سیرت حضرت امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ
عنوان: مختصر سیرت حضرت امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ
تحریر: محمد ارمان علی القادری العلیمی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ولادت اور تحصیلِ علم

تلميذِ امامِ اعظم، امام مالک و امام ابو یوسف، مجتہد فی المذہب، قاضی القضات حضرت امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ کی ولادت عراق کے ایک شہر واسط میں ۱۳۲ھ میں ہوئی۔ نو عمری میں ہی آپ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں طلبِ فیض کے لیے حاضر ہوئے، تو امام صاحب نے آپ سے فرمایا: "ابھی آپ حفظِ قرآن کر کے آئیے۔"

آپ گھر واپس آئے اور ایک ہفتہ کے بعد بارگاہِ امام میں حاضر ہوئے تو آپ کا حفظِ قرآن کریم مکمل ہو چکا تھا۔ آپ نے عرصہ دراز تک بارگاهِ امام سے اکتسابِ فیض کیا، اور تقریباً تین سال تک امام مالک علیہ الرحمہ کی بارگاہ سے علمِ حدیث کا درس لیا۔

مقام و مرتبہ اور علمی خدمات

آپ امام اعظم کے ان عظیم تلامذہ میں سے ہیں جو نہ صرف فقیہ بلکہ مجتہد فی المذہب بھی تھے۔ آپ کے اساتذہ میں امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک اور امام ابو یوسف علیہم الرحمہ جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔ جہاں آپ ایک جلیل القدر فقیہ تھے، وہیں ایک عظیم محدث بھی تھے، جس کی ایک روشن مثال آپ کی مشہور زمانہ کتاب "موطا" ہے۔

اس کے علاوہ آپ کی بہت سی تصنیفات ہیں جو فقہِ حنفی کے لیے دلائل و براہین ہیں۔ آپ کی چھ کتب کا مجموعہ جو "ظاہر الرواية" کہلاتا ہے، ان کے اسما یہ ہیں: الجامع الکبیر، الجامع الصغیر، مبسوط، زیادات۔ مزید براں الکیسانیات، الہارونیات، الرقیات اور الجرجانیات بھی فقہِ حنفی میں آپ کی مشہور و متداول کُتُب کی فہرست میں شامل ہیں۔

مذاہبِ اربعہ پر آپ کا فیض

حضرت امام محمد کی ذاتِ کریمہ وہ ہے جس سے مذاہبِ اربعہ کو فیض پہنچتا ہے:

• فقہِ حنفی میں آپ کا مقام مجتہد فی المذہب کا ہے۔
• فقہِ مالکی کی مشہور کتاب "کتب اسدیہ" کے مصنف حضرت اسد بن فرات آپ کے شاگرد ہیں۔
• امام شافعی علیہ الرحمہ آپ کے خصوصی شاگرد ہیں۔
• حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ سے جب سوال ہوا کہ آپ کو مشکل ترین مسائل کا علم کہاں سے ہوا تو آپ نے فرمایا: "امام محمد کی کتب سے۔"

منصبِ قضا اور خلوصِ للّٰہیت

حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد آپ عراق کے قاضی القضات منتخب ہوئے۔ آپ کا یہ فرمان بہت مشہور ہے: "میرے والد نے تیس ہزار دراہم چھوڑے تھے، جس میں سے میں نے پندرہ ہزار دراہم علمِ حدیث و فقہ کے حصول کے لیے خرچ کر دیے۔" آپ نے اپنی پوری زندگی فقہِ حنفی کی ترویج کے لیے وقف کر دی تھی۔

آپ بہت کم سوتے تھے، اس متعلق جب آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "کیسے سوؤں جب سب کی نگاہیں ہم پر اعتماد کرکے سوئی ہوئی ہیں!" وفات کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ وقتِ نزاع آپ کا کیا حال تھا؟ تو آپ نے فرمایا: "اس وقت میں مکاتب غلام کے متعلق غور و فکر میں کھویا ہوا تھا، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ میری روح کب نکلی۔" سبحان اللہ!

وصالِ باملال

آپ نے ۱۴ جمادی الثانی ۱۸۹ھ کو اس دارِ فانی کو الوداع کہا۔ آپ کے وصال کے دنوں ہی میں آپ کے خالہ زاد بھائی حضرت امام کسائی (امام النحو) کا بھی وصال ہوا تھا۔ اس وقت خلیفہ وقت ہارون الرشید نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا: "ہم نے فقہ اور لغت کو 'رے' میں دفن کر دیا"، کیونکہ دونوں حضرات کو اسی مقام پر دفن کیا گیا تھا۔

اللہ تعالی ہم سبھی کو امام محمد علیہ الرحمہ کے فیضان و لمعان سے مستفیض و مستنیر فرماۓ۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!