| عنوان: | حق کی وضاحت، اہلِ کتاب، اخلاص اور جزا و سزا (سورۃ البیّنہ) |
|---|---|
| تحریر: | محمد قاسم |
| پیش کش: | ام ماجد |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
روشن دلیل کا انتظار اور اہلِ کتاب کی ضد (آیت ۱)
لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ
ترجمۂ کنز الایمان: "کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے ۔"
تفسیر صراط الجنان
{لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ}: یعنی کتابی کافر (یہودی اور عیسائی) اور مشرک (بت پرست) اپنا دین چھوڑنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ جلوہ افروز نہ ہوں۔
حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام لوگ یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں جب تک کہ وہ نبی تشریف فرما نہ ہوں جن کا ذکر توریت اور انجیل میں ہے۔ لیکن جب وہ نبی تشریف لائے اور انہوں نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اُن میں سے کچھ لوگ اِن پر ایمان لائے اور کچھ نے اِن کے ساتھ کفر کیا۔ (تفسیر خازن، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۱)
اس آیت سے حاصل ہونے والے نکات:
۱۔ اگرچہ اہلِ کتاب اور مشرکین سب ہی کافر ہیں، مگر چونکہ اہلِ کتاب کو کسی پیغمبر اور کتاب سے نسبت ہے اس لیے ان کے اَحکام نرم ہیں اور اگر یہ ایمان قبول کریں تو انہیں دگنا ثواب ملتا ہے۔ جب کتاب اور پیغمبر سے نسبت کفار کو اتنا فائدہ دے دیتی ہے تو جس مومن کو حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اور قرآن سے خصوصی نسبت ہو جائے تو اس کا کیا عالَم ہوگا!
۲۔ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ایسی قوم کو درست فرمایا کہ جس کی اصلاح بظاہر نا ممکن تھی۔
۳۔ آسمانی کتابوں پر عمل ان کے مَنسوخ ہونے سے پہلے ہدایت تھا اور ان کے منسوخ ہونے کے بعد ان پر عمل گمراہی ہو گیا۔
رسولِ اکرم اور پاک صحیفے (آیات ۲ - ۳)
رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ ٭ فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌﭤ
ترجمۂ کنز الایمان: "وہ کون وہ اللہ کا رسول کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے۔ ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں ۔"
تفسیر صراط الجنان
{رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ}: یعنی وہ روشن دلیل اللّٰہ تعالیٰ کے انتہائی شاندار رسول ہیں جو کہ سب صحیفوں کے مضامین کی جامع پاک کتاب قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہیں۔ (تفسیر خازن)
قرآنِ مجید ہر طرح سے پاک ہے کہ پاک جگہ سے، پاک فرشتوں کے ذریعے، پاک نبی پر آیا، پھر ہمیشہ پاک زبانوں، پاک سینوں اور پاک ہاتھوں میں رہے گا، نیز ملاوٹ اور رد و بدل سے محفوظ ہے۔ نیز یہ بھی یاد رہے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی تلاوت معجزہ ہے، کیونکہ آپ نے مخلوق میں سے کسی سے سیکھے بغیر قرآن پڑھا اور پڑھایا، سمجھا اور سمجھایا؛ جبکہ ہماری تلاوت معجزہ نہیں کیونکہ ہم قاری اور عالم سے قرآنِ پاک کی تلاوت اور احکام سیکھتے ہیں۔
{فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌ}: یعنی ان صحیفوں میں حق اور عدل کی سیدھی باتیں لکھی ہوئی ہیں جو درستی اور اصلاح پر دلالت کرتی ہیں۔ (تفسیر مدارک)
اہلِ کتاب کا اختلاف (آیت ۴)
وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ
ترجمۂ کنز الایمان: "اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل ان کے پاس تشریف لائے۔"
تفسیر صراط الجنان
{وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ}: اس آیت سے مراد یہ ہے کہ پہلے سے تو سب اس بات پر متفق تھے کہ جب وہ نبی تشریف لائیں گے جن کی بشارت دی گئی ہے تو ہم ان پر ایمان لائیں گے، لیکن جب وہ نبی مکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ جلوہ افروز ہوئے تو ان میں پھوٹ پڑ گئی اور ان میں سے بعض آپ پر ایمان لائے اور بعض نے حسد اور عناد کی وجہ سے کفر اختیار کیا۔ (تفسیر خازن)
اخلاص اور دینِ مستقیم کا حکم (آیت ۵)
وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ
ترجمۂ کنز الایمان: "اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے ۔"
تفسیر صراط الجنان
{وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ}: یہاں سے یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو تورات و انجیل میں کیا حکم دیا گیا تھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ تمام باطل دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے پیروکار ہو کر اخلاص کے ساتھ اور شرک و نفاق سے دور رہ کر صرف اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں، اور فرض نماز کو اس کے اوقات میں قائم کریں اور اپنے مالوں میں سے زکوٰۃ دیں، یہی سیدھا دین ہے۔ (تفسیر مدارک)
اس آیت سے حاصل ہونے والے نکات:
۱۔ کفار اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اسلام قبول کر کے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔
۲۔ دین میں عقائد اور اعمال دونوں ہی ضروری ہیں۔
۳۔ وہی عمل مقبول ہے جس میں خالص اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللّٰہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔" (صحیح مسلم، الحدیث: ۲۵۶۴)
کفار کا اخروی انجام (آیت ۶)
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-اُولٰۤىٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ
ترجمۂ کنز الایمان: "بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں۔"
تفسیر صراط الجنان
{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ}: اس سے پہلے کافروں کا دُنْیَوی حال بیان کیا گیا اور اب یہاں سے ان کا اُخروی حال بیان کیا جا رہا ہے۔ اہلِ کتاب کے ساتھ مشرکوں کا ذکر اس لیے کیا گیا تاکہ انہیں یہ وہم نہ ہو کہ یہ حکم صرف اہلِ کتاب کے ساتھ خاص ہے۔ (تفسیر روح البیان)
اس آیت سے حاصل ہونے والے نکات:
۱۔ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ اللّٰہ کو مانتے تھے لیکن انہوں نے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی نبوت کو نہ مانا، اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں کافر قرار دیا اور مشرکین سے پہلے ان کے عذاب کا ذکر فرمایا۔
۲۔ کافر چاہے کتابی ہو یا مشرک، جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔
۳۔ کفر جہنم میں داخل ہونے کا یقینی سبب ہے۔
۴۔ کافر اگرچہ دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی بڑی خدمت انجام دے رہا ہو، شرعی طور پر وہ بدتر ہی ہے۔
مومنینِ صالحین کا مقام (آیات ۷ - ۸)
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-اُولٰۤىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ ٭ جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ٪
ترجمۂ کنز الایمان: "بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں بہتر ہیں ۔ ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔"
تفسیر صراط الجنان
{اُولٰۤىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ}: یعنی جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو وہ تمام مخلوق سے بہتر ہیں۔
{جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ}: یعنی ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی اطاعت اور اخلاص سے راضی ہوا اور وہ اُس کے کرم اور عطا سے راضی ہوئے۔ یہ عظیم بشارت اس کے لیے ہے جو دنیا میں اپنے رب سے ڈرے اور اس کی نافرمانی سے بچے۔ (تفسیر خازن)
اس آیت سے حاصل ہونے والے نکات:
۱۔ دنیا کی نعمتیں نیک لوگوں کی حقیقی جزا نہیں ہیں، اگرچہ اللّٰہ تعالیٰ نیکیوں کے صدقے ان سے بھی نواز دیتا ہے۔
۲۔ دنیا فانی منزل ہے اور جنت ہی اصلی و ابدی مقام ہے۔
۳۔ جنت میں داخل ہونے کے بعد نہ وہاں سے نکلنا ہے اور نہ موت کا آنا ہے۔
۴۔ ہر ولی اور بزرگ کو "رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ" کہہ سکتے ہیں، یہ لفظ صرف صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ خاص نہیں، کیونکہ اس آیت میں یہ مضمون عام مومنین و صالحین کے لیے صراحتاً موجود ہے۔
